548

بچوں کو موبائل کس عمر میں دیا جاۓ؟

تحریر شئیر کریں

بچوں کو موبائل کس عمر میں دیا جاۓ اور کتنا دیا جاۓ۔جانیے قلم کتاب پر
تفصیلات کے مطا بق اس موضوع پر ڈبلیو ایچ او کی مفصل رپورٹ سامنے آ ئی ہے۔جس میں انھوں نے پہلی بار اعداو شمار کے ساتھ بتایا ہے کہ زیرو سے دو سال کی عمر تک کے بچوں کو موبائل فون بالکل نا دیا جاۓ۔

کیا آپ پسند کریں گے ؟کہ کوئی آپ کے بچے کی ذہنی اور جسمانی طور پر برباد کرے؟کوئی اس کی آنکھوں کی بینائی کی کمزوری کا سبب بنے؟کوئی اسے بری بری باتیں سکھاۓ؟اور وہ سکھانے والا کوئی اور نہیں آپ خود ہیں۔جی ہاں بچوں کو ہم خود موبائل کی لت ڈالتے ہیں۔جب بھی بچہ شرارت کرتاہے ماں باپ سے توجہ مانگتا ہے تو ماں باپ جان چھڑانے کے لیے موبائل اس کے ہاتھ میں تھما دیتے ہیں۔جیسے موبائل نا وہ لولی پاپ ہو۔

ڈبلیوایچ او کے مطابق بچوں کی صحت کے حوالے سے جو تحقیقات سامنے آ رہی ہیں ان میں واضح طور پر بتایا جا رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں بچوں کے صحت کے ایشوز میں موبائل اہم وجہ ہوگا۔ممکن ہے ان کی اموات کا سبب بنے۔اور بن بھی رہا ہے۔آپ نے سنا ہو گا کہ سیلفی لیتے ہوۓ اور بپ جی روکنے پر جان کی بازی کھو بیٹھا۔

اگر بچہ 2 سے چار سال تک کا ہے ہے تو سائیکالوجسٹ کہہ رہے ہیں کہ ان کا موبائل فون کا دورانیہ ایک گھنٹہ زیادہ سے زیادہ نہیؔ ہونا چاہیے۔مطلب ایک گھنٹے سے کم وقت دینا چاہیے۔اور موبائل پہ دیکھ کیا رہے ہیں یہ ایک الگ موضوع ہے۔جس پہ والدین کو ریسرچ کرنا ہوگی۔بچوں کو نظمیں وغیرہ جس سے ان کی زبان بہتر ہو۔جیسا کہ عمر حنا کارٹون اس عمر میں دکھاۓ جا سکتے ہیں۔یہ دوسال سے اوپر کے بچوں کے مواد کی

بات ہو رہی ہے۔ایک تحقیق کے مطابق بچہ تین سال تک جتنے زیادہ الفاظ سنتا ہے اتنا ہی اس کے کامیاب ہونے کا تناسب بڑھ جاتا ہے۔

تین سال کے بچوں کو اردو میں جان کارٹوں بہترین ہیں جس میں کچھ نا کچھ سیکھنے کو مل رہا ہوتا ہے۔انڈین اور انگلش کارٹون تب تک نا دکھائیں جب تک آپ خود انھیں دیکھ کر تسلی نا کر لیں ۔انڈین کارٹون جس میں پوجا پاٹ کے مناظر ہوں دیکھنا شرعی لحاظ سے درست نہیں۔اسی طرح وولگر کارٹون بچوں کو دکھا نا بے حیائی کے زمرے میں آتا ہے۔اسی طرح کوکومیلن کارٹون ہے جس کا پاٹی ٹریننگ پہ بنی ویڈیو دیکھ کر کافی بچے واش روم جانا سیکھ رہے۔اس طرح بچوں کو اسلامی نظمیں سننے کو دی جا سکتیں۔اسلامی کہانیوں کے بے شمار چینل ہیں جس سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔

اگر بچے کو موبائل کی لت لگ چکی ہے تو کیا کریں۔اس سلسلے میں جس چیز کی عادت چھڑوانا چاہ رہے ہیں سب سے پہلے وہ چیز آنکھوں سے دور کریں۔جب آپ خود زیادہ تر اپنے ہاتھوں میں موبائل رکھیں گےتو یہ ممکن نہیں کہ بچہ اسے چھوڑ سکے۔سب سے پہلے ماں کو اپنے ہاتھوں سے موبائل غائب کرنا ہوگا۔اگر استعمال کر نا بھی ہے تو بچے کے سامنے ہرگز نہیں۔

یہ بھی پڑھیے

موبائل بانجھ پن کا باعث بن سکتا

دوسرا طریقہ بچوں کو جو چیز چھڑوانی ہو اس کا متبادل دیں۔متبادل دینے سے بچہ بہل کر موبائل کو بھول جاۓ گا۔ بچوں کو ماں وقت دیں۔ان کے ساتھ باتیں کرے۔ان کے ساتھ مختلف ایکٹیویٹیز پلان کرے۔یہ موبائل کے متبادل سے ہٹ کر بھی بچے کی ذہنی نفسیاتی ضرورت ہے۔ماں وہ ہوتی ہے جو بچے کی زندگی میں اطمینان اور خوشی کو بھر دے۔اس کےا ندر کوئی کمی اور خلا نا رہے۔

بچوں کی تربیت آسان کام نہیں یہ ہمہ وقت تسلسل مانگتا ہے۔ماں تھکی ہو تب بھی اسے بچے دیکھنے ہوتے۔یقینا کھٹن کام ہے اس حوالے سے اصول بنائیں ااور ان پر سختی سے عمل کریں اصول توڑیں گے تو بچے کنفیوز ہو جائیں گے۔لیذا کمپرومائز مت کریں۔للہ سے دعا کریں اور تسلسل مانگیں۔نوافل کا اہتمام کریں۔شاباشی کے کلچر کو اپنائیں۔ہمارے ہاں رواج ہے برے کام پہ ٹوکنا ضرور مگر اچھے کام پہ شاباشی نہیں دیتے۔شاباش ٹانک ہے آزما کر دیکھ لیں۔بچوں کو موبائل کس عمر میں دیا جاۓ۔اس موضوع پر جانیے اور سیکھیے۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں