سری لنکا میں حجاب اور اسلامی سکولوں پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق سری لنکا نے اعلان کیا ہے کہ حجاب مذہبی انتہا پسندی کی علامت ہے اور قرون اولی میں خواتین حجاب نہیں پہنا کرتیں تھیں۔لہذا عنقریب پہ پابندی عائد کر دی جاۓ گی۔
یہ بھی پڑھیے
انڈونیشین طالبہ نے حجاب کے لیے تیس ملین ڈالر ٹھکرا دیے
جہاں تک اسلامی سکولوں کی بات ہے تو اس ضمن میں ایک ہزار سکول بند کیے جا رہے ہیں۔سری لنکن حکومت کے وزیر نے اپنے ایک علامیے میں کہا ہےکہ نئ تعلیمی پالیسی کے مطابق آئندہ کسی کو اپنا سکول کھولنے کی اجازت نہیں ہوگی۔اور اس حوالے سے دستاویزات پر دستخط کر لیے گۓ ہیں۔اور یہ بل قومی اسمبلی میں منظوری کے لیے پیش کیا جاۓ گا۔
اس سے قبل کرونا مریضوں کو جلانے کے حوالے سے مسلمانوں کی لاشوں کو جلانے کے حکم نامے کو عمرآن خان کے کہنے پہ واپس لیا گیا تھا۔
پاکستانی حکومت کو سرلنکا کے اس فیصلے کی مذمت کرنی چاہیے اور اس کے نفاذ کو روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔تاکہ مسلمان خواتین کو حجاب اوڑھنے کی فرض سے محروم نا کیا جاۓ جو کہ مسلمان عورت کی شناخت ہے۔