ماں ،بچہ اور موبائل
ماوراء زیب
ہوم سکولنگ کے متعلق مضامین پڑھ کر بہت سی ماؤں نے رابطہ کیا اور تقریباً سب نے ایک مشترکہ سوال پوچھا کہ آپ نے موبائل کے سلسلے میں کیا اقدامات اٹھائے ہیں۔ اس سوال پر میں یہ تحریر لکھ رہی ہوں شاید کسی کی مدد ہوجائے۔ ان شاءاللہ
موبائل کے سلسلے میں پہلا قدم آپ یہ اٹھائیں کہ اس ٹیکنالوجی کو قبول کریں کہ یہ ہے اور اب رہے گی۔ اگر آپ کے گھر کے افراد موبائل استعمال کرنے کے عادی ہیں تو آپ کا بچہ بھی استعمال کرے گا۔ پہلے میرا خیال تھا کہ اگر ماں موبائل استعمال نہ کرے تو بچہ بھی نہیں کرتا مگر میری یہ غلط فہمی وقت کے ساتھ ساتھ دور ہوتی گئی۔ ایسا تب ہوتا ہے جب بچے کے اردگرد اس کے ماں اور باپ ہی ہوں تو ظاہر ہے وہ ان ہی کی پیروی کرے گا لیکن جب وہ اپنے اردگرد زیادہ تر لوگوں کو موبائل استعمال کرتے دیکھے گا تو ظاہر ہے وہ بچہ بھی اس کا عادی ہوتا جائے گا۔
اگر میں اپنی زندگی کی بات کروں تو میرا مسئلہ یہ تھا کہ میں اس ٹیکنالوجی کو قبول ہی نہیں کر رہی تھی۔ بس میں کسی بھی طرح اپنے بچے کو اس سے دور رکھنے کی کوشش کرتی تھی۔ جس کی وجہ سے اس کے اندر بغاوت اور ضد بڑھتی جارہی تھی۔ کسی مخلص نے مشورہ دیا “موبائل اب ہے اور رہے گا” اس بات کو مان لیجیے آپ کو حل مل جائے گا۔ اب جو حل مجھے نظر آیا وہ یہ تھا کہ میں اپنے بچے کا وقت مقرر کروں ۔ کیونکہ جب میں دور رکھنے کی کوشش کرتی تھی تو میرا بیٹا کسی اور کے کمرے میں چلا جایا کرتا تھا لیکن جب وقت مقرر کیا تو مجھے اس کی ضد کو قابو میں کرنے کا طریقہ مل گیا۔
میں مشترکہ خاندانی نظام میں رہتی ہوں اور ماشاءاللہ گھر میں کافی افراد ہیں اور عموماً موبائل کے مالک بھی۔ جب ایک بچہ اپنے اردگرد سب کو موبائل استعمال کرتا دیکھے گا تو لازماً وہ موبائل کا عادی ہوگا۔ اب ہر وقت میں اپنے بچے کو کمرے میں قید نہیں رکھ سکتی اس لیے موبائل کا وقت مقرر کردینا مجھے مناسب لگا۔ اب بچہ کیا جانے وقت اور اس کا استعمال، تو یہ وقت مقرر کرنے میں بھی مجھے کافی مہینے لگ گئے۔ پہلے لیپ ٹاپ دیا تھا مگر اس کے خراب ہونے کے بعد موبائل پر آگئے اب اگر اللہ نے گنجائش دی تو ایل. سی. ڈی کا ارادہ ہے۔
موبائل کے استعمال سے ہاتھوں اور آنکھوں کے پٹھوں کے نقصان کا اندیشہ ہے لیکن جو مجبور ہیں لیپ ٹاپ یا ایل سی ڈی خریدنے کی گنجائش نہیں رکھ سکتے وہ موبائل کے پیچھے رنگ یا پوپ اپ لگوا لیں اس سے موبائل کو دور رکھ کر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ لیپ ٹاپ اور ایل سی ڈی ویسے ہی مناسب فاصلے پر ہوتے ہیں۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بچوں کی نگرانی کیسے کی جائے…..؟انہیں مناسب کارٹون یا ویڈیوز دیکھنے کی طدف راغب کیسے کیا جائے….؟
اس سلسلے میں ماں کا کردار ہی سب سے اہم ہوتا ہے۔ اگر بچہ مشترکہ خاندنی نظام کا حصہ نہیں ہے تو ماں بہت آرام سے بچوں کو موبائل سے دور رکھ سکتی ہے لیکن مشترکہ خاندانی نظام میں عموماً اس قسم کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ بچہ کس قسم کے پروگرامز دیکھے۔ اگر آپ اپنے بچے کو موبائل یا لیپ ٹاپ کی سہولت نہیں دیتے تو وہ کسی کے پاس جاکر کسی بھی قسم کے کارٹون یا ڈرامے وغیرہ دیکھ سکتا ہے( میں نے اس مسئلے کا سامنا کیا ہے اس لیے یہ بات کر رہی ہوں)۔ اب اپ نے اپنے بچے کو یہ سہولت دے دی ہے تو چھوٹی چھوٹی چالاکیاں بھی سیکھ لیں جو آپ کے بچے کے لیے ضروری ہیں۔ نیٹ بند کر دیجیے اور ڈانلوڈڈ ویڈیوز دکھائیں۔ آپ جو اخلاقی ویڈیوز بچے کو دکھانا چاہتے ہیں وہی موبائل میں رکھیں۔ جب تک بچے کو نیٹ کا پتہ نہیں چلتا تب تک اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں اور جب بچے کو نیٹ کا ادراک ہوجائے تو اس کے ساتھ خود بیٹھ کر کارٹون دیکھیں، جو اخلاقی طور پر درست نہ ہوں انہیں بتائیں کہ یہ اچھے نہیں ہیں، یہ تو ہمیں اللہ سے دور کر دیں گے یا اس طرح کی کوئی بھی بات جو بچے پر اثرانداز ہوتی ہو۔ اور یہ کام بار بار کریں تاکہ بچہ صرف آپ کی مرضی کے پروگرامز دیکھ سکے۔ کبھی کبھی آزاد چھوڑ کر اس کی پسند کو دیکھیں کہ آیا بچہ اپنی پسند بدل رہا ہے یا نہیں، اگر نہیں تو مزید محنت کریں۔
وقت مقرر کرنے کے لیے کافی محنت کرنی پڑتی ہے۔ جن کے بچے آرام سے بات مان لیتے ہوں ان کے لیے تو واقعی کوئی مسئلہ نہیں لیکن جو بچے ضدی ہوں انہیں قابو کرنا کافی مشکل ہوجاتا ہے۔ میں نے اس سلسلے میں چارجنگ کو سامنے رکھا۔ میں اپنے بیٹے کو ایک مخصوص حد تک موبائل چارج کر کے دیتی ہوں۔ جیسے ہی چارجنگ ختم تو ساتھ ہی موبائل کا وقت بھی ختم۔ پھر چاہے آندھی آئے یا طوفان موبائل نہیں دینا۔ موبائل چارج کرنے کا بھی وقت مقرر ہے، یعنی ایک مخصوص وقت میں چارج ہوگا اور مخصوص چارجنگ ہوگی۔ جب تک موبائل کی چارجنگ کا وقت نہیں ہوتا تھا اس وقت تک میرا بیٹا تنگ کرتا رہتا تھا کہ کب وقت ہوگا، کب ہوگا لیکن الحمدللہ کافی مہینوں کی محنت کے بعد وہ یہ سمجھ چکا ہے کہ موبائل اپنے وقت پر ملے گا اور اس سے پہلے اپنے سارے کام ختم کرنے ہیں۔ کبھی کبھی کسی اور کے کمرے میں چلا بھی جاتا ہے مگر الحمدللہ اپنے معمول کا عادی بھی ہو رہا ہے۔
موبائل کا وقت مقرر کرنے میں بچے کا رونا اور ضد کرنا، دونوں برداشت کرنے پڑتے ہیں۔ ان دو مسائل کے علاوہ گھر والوں کی تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے جس کا یہی حل ہے کہ انہیں قائل کریں اور مسلسل کریں۔ بچے آپ کے ہیں تو محنت بھی آپ کو کرنی ہے، تنقید بھی برداشت کرنی ہے اور اپنے لیے راہ بھی ہموار کرنی ہے اور اس کے لیے جہدِ مسلسل شرط ہے۔
آخری حل میرے نزدیک دعا ہی ہے اور میرا تجربہ ہے دل سے مانگی گئی دعا کبھی رد نہیں ہوتی الحمدللہ۔ مطلوبہ حل ملے نہ ملے، نیا راستہ ضرور مل جاتا ہے، لیکن آزمائش شرط ہے۔
ماں، بچہ اور موبائل