557

یہودی دنیا کی امیر ترین قوم کیسے بنے؟

تحریر شئیر کریں

یہودیوں امیر کیسے بنے ؟جانیے وہ راز جس پر عمل کر کے یہودی دنیا پر راج کر رہے۔صرف قلم کتاب پر

یہودی دنیا میں واحد قوم ہے جس کے مذہب میں غریبی کو گناہ سمجھا جاتا ہے اور بچپن سے امیر بننے کی تربیت دی جاتی ہے۔اس وقت دنیا میں تعلیم کے معاملے میں یہودی سب سے آگے ہیں پوری دنیا کے وسائل ان کے پاس ہیں۔حساب کتاب کے جتنے ماہر یہودی ہیں اتنا کوئی اور قوم نہیں۔اس کی یہی وجہ ہے کہ انکو ایسے گر سکھاۓ جاتے ہیں کہ یہ زندگی میں کہیں مار نہیں کھاتے۔

کہا جاتا ہے یہودی جہاں بھی گۓ۔جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ کے لیے کیا کریں تو انھوں نے کبھی زمینیں جائیدادیں نہیں مانگیں بلکہ ہمیشہ کہا کہ آپ کوئی کالج سکول بنوا دیں ہمارے پاس ۔۔۔۔یعنی انھوں نے ہمیشہ تعلیم کو مقدم رکھا جو کہ مسلمانوں کی میراث تھی۔

یہودی بچے کی تربیت ماں کے پیٹ سے ہی شروع کر دیتے ہیں۔میری ایک فرینڈ نے یہودی ذہین کیوں ہوتے؟پہ تھیسز لکھنا تھا۔اس نے ریسرچ شروع کردی۔وہ اسرائیل بھی رہی کہ وہاں جا کر ان کی سوسائٹی میں رہ کر پتہ کیا جاۓ کہ ان کی ذہانت کا راز کیا ہے؟پتہ چلا کہ جب یہودی عورت پریگننٹ ہوتی ہے تو یہ تین سپر فوڈ دودھ بادام اوربشہد تینوں وقت اس کو کھانے میں دیتے ہیں۔اور جب تین ماہ کا حمل ہو جاتا ہے تو اسے میتھ کرواتے ہیں۔یہ ہے ان کی ذہانت کا راز۔اسی وجہ سے پوری دنیاکا میتھ ان کے قبضے میں
ہے۔
پھر جب بچہ تھوڑا بڑا بڑا ہوتا ہے تو ایک رسم ادا کی جاتی ہے۔اس میں بچے کو انچی جگہ پہ کھڑا کر کے نیچے باپ کھڑا ہوتا ہے اور اسے اپنی طرف آنے کو کہتا ہے بچہ جونہی باپ کی طرف بڑھتا باپ پیچھے ہو جاتا ہے اور بچہ گر پڑتا ہے۔پھر باپ اسے وہ سبق سکھاتا ہے جو آج یونیورسٹیاں فراموش کیے بیٹھی ہیں۔کہ بیٹا کبھی اپنے باپ پہ بھی اعتبار نہ کرنا”یوں اس بچے کے دماغ پہ نقش ہو جاتاہے کہ اسے ہمیشہ ہر حال میں اپنے قوت بازو پہ بھروسہ کرنا ہے۔یہ بھی اسلام کا مزاج تھا جسے یہودی اپنا رہے۔حضرت عمر کا قول ہے مسلمان نا دھوکہ دیتا ہے نا دھوکہ کھاتا ہے۔ہماری ناکامی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم بار بار اعتبار کرتے ہیں بار بار دھوکہ کھاتے ہیں جس سے ہمارے دماغ میں یہ نقش ہو جاتا ہے کہ ہم تو ناکام انسان ہیں بزنس کر ہی نہی سکتے۔نوکری ہونی چاہیے وہ ھی سرکاری۔کام کرو نا کرو تنخواہ مل۔ہی جاتی ہے۔کبھی سوچا ہر دوسرا بندہ سرکاری نوکری کے پیچھے کیوں ہے؟

ہر یہودی بچے کو پاکٹ منی دی جاتی ہے۔اور اس پر لازم ہے کہ وہ اس رقم کو تین حصوں میں بانٹ دیں۔وہ تین خانےٻناتا ہے۔
Saleing
Investing
Spending
وہ خرچ ایسے کرے گا کہ سیل کا بوکس ہر سنڈے کو کھلتا ہے۔اسے وہ ایک ماہ میں چار دفعہ خرچ کرنے کے لیے کھول سکتا۔اور اگر اس پر کوئی مصییبت آ جاۓ تو وہ سیونگ بوکس استعمال کرے گا۔انویسٹنگ باکس ویسے ہی رہے گا اب اگر کوئی تہوار آگیا تو اور اس کا انویسٹنگ باکس بھی خالی اور سیونگ بھی تو یہودی بچہ نۓ کپڑے نہیں بنا سکے گا۔اور ماں باپ اسے اس صورت میں سپورٹ نہیں کرتے۔ان کا کہنا ہے کہ ہم آپ کو ایک فکس رقم دے چکے یہ آپ کی غلطی ہے کہ آپ فنانشل مینجمینٹ نہیں کر پاۓ۔لہذا اس کمی کو پورا کرنے کے لیے یہودی بچے بزنس کرتے ہیں جس میں عام طور پر آن لائن بزنس سرفہرست ہے۔اس وقت فیس بک ایمزون یوٹیوب اور دیگر پلیٹ فارم پر یہی قوم آگے ہے۔

یہودی قوم کی سب سے اچھی عادت یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے کمزور رشتے دار کو کمزور نہیں رہنے دیتے۔یہ مل جل کر اسے اپنے پاؤں پہ کھڑا کرتے ہیں تاکہ وہ غربت سے نکل سکے۔یہ سبق بھی ہمیں مواخات مدینہ سے ملتا ہے۔مگر اس پر عمل پیرایہودی ہیں۔

یہاں تک بچت کی بات ہے تو ماہرین اقتصادیات کہتے ہیں اصل کمائی بچت ہے۔ایک پیسہ بچاو اور ایک خرچ کرو۔۔۔جب تک بچت کی عادت نہیں ڈالو گے امیر نہیں بن سکتے۔یہودی بچت کرتے ہیں۔اعتدال میں رہ کر خرچ کرتے ہیں۔پیسہ نہیں ہے تو کپڑے نہیں نیں گے کوئی مسئلہ نہیں عید پہ پرانا سوٹ پہن لو۔ہمارے جذبات ہی بھڑکتے رہتے۔ادھار اٹھا کر بھی نۓ کپڑے ضرور بنوانے حالانکہ ادھار کے معاملے میں اسلام۔سختی سے منع کرتا ہے۔

جہاں تک غربت کی بات ہے تو نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے غربت اگر کوئی جانور ہوتا تو اسے ذبح کر دیتا”غربت کو اگر اسلام نے ناپسند نہیں کیا تو پسند بھی نہیں کیا۔غربت بہت سی بیماریوں کی جڑ ہے۔غربت کفر تک لے جاتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں