خود کو صاف کریں 34

خود کو صاف کریں

تحریر شئیر کریں

خود کو صاف کریں

روبینہ شاہین

سلمی ایک محنتی عورت تھی سارادن لوگوں کے گھروں میں کام کرتی گھر آکر بچوں کے لیے کھانا پکاتی اور دیگر کام کرتی آج اتوار تھا کام سے چھٹی تھی سو اس نے مشین لگا لی ،سارے کپڑے دھل گئے تو اس نے سکون کا سانس لیا ،آبھی چارپائی پہ بیٹھی پانی پی رہی تھی کہ رسی ٹوٹ گئ ،سارے کپڑے نیچے گے گئے تھے،اس کی ساری محنت اکارت چلی گئ ،دماغ میں۔جھماکا سا ہوا جب ہم اللہ کی رسی کو چھوڑتے ہیں تو ایسے ہی منہ کے بل گرتے ہیں جیسا کہ اس کے سارے دھلے کپڑے اب نیچے پڑے گندے ہو رہے تھے انسان بھی اللہ کی رسی کو چھوڑ کر ایسے ہی گرتے اور گندےہوجاتے ہیں سلمی گلاس ہاتھ میں ٹھامے سوچوں کے۔سمندر میں ڈوبی سودو زیاں کا حساب کر رہی تھی کچھ لمحے کچھ چیزیں اور واقعات انمول ہوتے ہیں بہت کچھ گیان کر۔جاتے ہیں

سلمی نے کپڑے اٹھانے سے پہلے خود کو اٹھایا تھا اس عزم کے ساتھ کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنا ہے اور خود کو صاف کرنا ہے

سرخ گائے اور ہیکل سلیمانی

برقعہ یا بکنی؟ملالہ

قریبی مساجد سے ظہر کی اذانیں گونج رہیں تھیں سلمی بے ساختہ اٹھی اور وضو کرنے چل دی ،رزق کی تلاش میں مارے مارے پھرتے نجانے کب وہ رزق . دینے والے کو ہی بھلا بیٹھی تھی کیسا خسارا تھا
جائے نماز بچھائی اور اللہ اکبر کہہ کر جھک گئ اس رازق کے سامنے ،سارا گند دھل دھل کر بہہ رہا تھا دل پر لگی کالک آنسوں کے راستے باہر نکل رہی تھی نماز کے بعد دعا کے لیے اٹھے ہاتھ ایک ہی لے پہ دھڑک رہے تھے منت و آہ زاری میں۔ڈوبی سسکیاں جاری تھی اللہ نے اپنی بندی کو ویلکم کہہ دیا تھا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں