کہانی کار کا سفر 282

کہانی کار کا سفر

تحریر شئیر کریں

کہانی کار کا سفر

تحریر:روبینہ شاہین

کہانی کار کا سفر2

کہانیاں کب میرے اندر سانس لینا شروع ہوئیں،شاید تب جب بہت چھوٹی تھی،کہانیاں سننے کی لت پڑ گئیں،سونا پری وہ کردار تھا جو مجھے مبہوت کر دیا کرتا تھا،ایک ایسی پری جس کے بال تک سونے کے تھے مگر اس کی جان طوطے میں تھی اورطوطا ظالم دیو کی قید میں،پرانی کہانیوں میں پری ،دیو کے علاوہ تیسری چیز کوئی پرندہ نما چیز ہوتی جس میں پری کی جان ہوا کرتی تھی،دیو مالائی داستانیں جو انسانی ذہن پر طلسم طاری کر دیا کرتیں تھیں،سننے والا ان کے سحر سے نکل ہی نا پاتا تھا،یہ وہ وقت تھا جب راتیں راتیں ہی ہوا کرتیں تھیں، تاروں بھری ،خاموشی کے سحر میں ڈوبی ہوئی،

،شام و شام لوگ کمبلوں رضائیوں میں گھس کر بڑوں سے کہانیاں سنا کرتے تھے۔۔۔۔ح کمت بھری داستانیں جنہیں سننے والے ذہن زندگی کے سارے سبق انہی کہانیوں اور ان میں بولتے کرداروں سے لیا کرتے تھے،دل میں رقم یہ داستانیں ساری حیاتی اپنا رس گھولتیں رہتیں،ٹھنڈے میٹھے چشموں سے پانی رواں رہتا اور کہانیاں سننے کی عمریں ڈھل کر کہانیاں سنانے کی عمر تک آن پہنچتیں،تجربات کی بھٹی میں گزر کر یہ کردار سننے والوں کے ساتھ پختہ ہوتے چلے جاتے،یوں اگلی نسل کے لیے بہترین ادب تشکیل پاتا، ۔ایک زبان سے دوسری زبان اور ایک نسل سے دوسری نسل تک کا سفر بہت سے

اسرارورموز اپنے اندر لیے سانس لیتا چلا جاتا،برسوں بیتے،صدیاں بیتیں،روایتیں دم توڑنے لگیں، کہانیاں سنانے والے کم ہوتے گئے۔۔۔۔۔
طریقہ کار بدل گیا،سنانے والوں کی جگہ لکھنے والے آ گئے،یوں کہانی کا سفر ایک نئے پیرہن میں ڈھل کر اور بھی جاذب نظر ہو گیا،ہر دور کا اپنا وطیرہ ہے اس کے اپنے تقاضے ہیں۔کہانی سے رشتہ اب بھی قائم تھا۔چپکے چپکے کورس کی کتابوں میں رکھ کر کہانیاں پڑھیں جاتیں،یہ لت اتنی بڑھی کہ گلی کی نکڑ پر کہانیاں بیچنے والے سے ایک کہانی خریدی جاتی تو دوسری وہی کھڑے کھڑے پڑھ لی جاتی،یوں پھول میگزین سے نکل کر ڈائجسٹ کی دنیا تک رسائی ہوئی۔مرد اور عورت کے تعلق سے آشنائی ہوئی،الفاظ کی جادوگری اور ان کی تاثیر حقیقت سے دور مگر افسانوں سے قریب کرتی چلی گئی،محبت کے قصے سر چڑھ کر بولنے لگے،دل انکی تائید کرتا تو دماغ تردید،پندرہ سال انہی بول بھلیوں میں گزر گئے۔۔۔۔

یہ بھی پڑحیں

موبائل سے لکھنا سیکھیں

ڈائری لکھنا ایک خوبصورت روایت

کہانی اب بھی جاری تھی،پڑھتے پڑھتے لفظ تقاضا کرتے کہ اب بس ہو گیا،ہمیں کب تک پڑھو گی،مگر خوف جو سب سے بڑا دشمن ہے آن کھڑا ہوتا۔نہیں نہیں تم کیسے لکھ سکتی،یہ تو بڑے لوگوں کا کام ہے۔میرے اندر کا لکھاری بچہ دبک کر کسی کونے کھدرے میں بیٹھ جاتا،مگر لفظ کی بھرمار اور خیالات کا بہاؤ اتنا تھا کہ اب کبھی کبھار کوئی آرٹیکل مضمون وغیرہ لکھ لیا کرتی تھی،مگر یہ کافی نہیں پھر ہر ہفتے اخبارات میں لکھنے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔کہانی لکھنے کا ڈر اب بھی کنڈلی مارے بیٹھا تھا۔خیالات کا بہاؤ اتنا بڑھتا کہ ایم اے کے دوران بارہا ایسا ہوتا میں کلاس میں نوٹس لیتے لیتے خود سے لکھنا شروع ہو جاتی،اسی دوران تحقیق کا فن بھی سیکھا،فنی اور نظری دونوں طر ح سے،آگاہی ملی کہ کیسے تحقیق کی جاتی ہے۔اب وہ وقت تھا جب لکھنے کا شوق تحقیق کے فن میں بدل گیا۔کبھی کبھار کا لکھنا جاری تھا۔۔۔۔۔ کہانی اب بھی میری توجہ کی منتظر تھی۔
کمپیوٹر بے شک عصر حاضر کی سب سے بڑی ایجاد ہے۔اور قدرت کی طرف سے اہل علم کے لئے ایک بیش بہا تحفہ بھی،بس جی کمپیوٹر آگیا،میگزین ،کتابیں اور کہانیاں کم ہوتیں چلیں گئیں۔۔۔۔۔مجھے بہت شوق تھا کہ پیپر پہ لکھنے کی بجائے ڈائریکٹ کمپوز کروں،یہ چیز مجھے بہت فیسی نیٹ کرتی تھی،کہانیاں لکھنے کے لیے بلاگ بنایا۔مگر اندر اب بھی کہا نی لکھنے پہ رضامند نہیں تھا۔۔۔۔۔
ڈائجسٹ سے نکل کر ای بک تک آشنائی ہوئی،موبائل کتابیں پڑھنی شروع کیس،الف کتاب آیا،کہانی لکھنے کا شوق ڈر پہ غالب آیا،اور پھر لکھ ڈالی، چھپ بھی گئی،سیکنڈ

پوزیشن بھی آئی،پھر یہ ڈر اپنی آخری سانسیں لینے لگا۔لفظ کرداروں میں ڈھلنے لگے۔۔۔۔۔
کہانی کا آغاز کہانی کار کا احتتام ہے۔لفظ زندگی کب بنتے ہیں جب کہانی کارکی زندگی سسک سسک کر آخری کنارے جا پہنچتی ہے۔دکھ محسوس کروانے کے لیے دکھ کی بھٹیوں میں جلنا پڑتا ہے،تب کردار بولتے ہیں،جب وہ بولتے ہیں تو زمانہ سنتا ہے۔یہی کہانی کار کی داستاں ہے۔

لکھنے والے ہی جانتے ہیں لفظ لکھنے میں جو اذیت ہے
سائیکالوجی کہتی ہے کہ بہترین لرننگ کہانیوں کے زریعے ہوتی ہے،کیونکہ اس میں سنانے والے کے جذبات و احساسات بھی شامل ہوتے ہیں ،جاوید چودھری ملک کے معروف اور منفرد کالم نگار ہیں کہتے ہیں کہ میرا انداز اس لئے سب سے جدا ہے کہ میں اپنی نانی سے کہانی سن بیٹھا تھا۔

کہانی کار کا سفر

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں