32

یہاں بھی حشر برپا ہے

تحریر شئیر کریں

یہاں بھی حشر برپا ہے

ساجدہ بتول

لیجیے ہم حج کر کے واپس بھی آ گئے ۔ وہ بھی ٹھیک 6 ذوالحج کو ۔ہمارا دامن مطلب ہے جیب بالکل خالی تھی بلکہ آج کل تو ہم بڑے بڑے غریبوں کو مات دے رہے ہیں مگر سنا تھا کہ نیک کاموں کی ساری منظوریاں نیت پہ ہوتی ہیں تو ہم نے کمر کس لی ۔ دن رات ایک کر کے اپنے سب ضروری کام پورے کیے ۔ گھر بھی کافی حد تک سمیٹ دیا اور پیکنگ بھی کسی حد تک کر لی ۔ اب بیٹھے اپنا ہی منہ تک رہے ہیں ۔ ۔
اللہ کے ہر فیصلے میں کوئی نہ کوئی حکمت ہوتی ہے ۔ ہمارے حج کے نہ ہو پانے میں کیا حکمتیں تھیں وہ تو ہمیں نظر آ گئی ہیں مگر اس وقت ہمارے ذہن میں ایک ایسی بات کوندی ہے کہ ہم آپ سے کہنے پہ مجبور ہو گئے ہیں
سورہ یسین کی یہ آیت دیکھیے

اور اے مجرمو تم آج کے دن الگ ہو جاو
ہم نے ہمیشہ سنا پڑھا کہ یہ الفاظ روز قیامت اللہ مجرموں یعنی گناہگاروں سے فرمائیں گے ۔۔ مگر اس آیت کی عملی تفسیر کی ابتدائی قسطیں ہم یہیں پر بھی دیکھ تو نہیں رہے!
مفتی تقی عثمانی دامت برکاتہم حضرت پیر ذوالفقار نقشبندی مولانا طارق جمیل صاحب ۔۔۔ میرے محترم شیخ حضرت اقدس مفتی فیصل حیات صاحب دامت برکاتہم العالیہ ۔ مفتی فلاں مولانا فلاں ۔ فلاں بڑے اللہ والے ۔ فلاں اللہ کی ولیہ ۔ وہ نیک شخصیت ۔ یہ نیک شخصیت ۔ کیا وجہ ہے کہ یہ سب لوگ ہر برس ہی یوم عرفہ کو میدان عرفات میں جمع ہو جاتے ہیں اور مجھ جیسے دین کے لولے لنگڑے الگ ہو کر اپنے ہی گھر میں مجرموں کی طرح کھڑے اپنا اور اپنے گناہوں کا منہ تک رہے ہوتے ہیں ۔
کہیں یہ اسی آیت کی ہی عملی تفسیر تو نہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ اللہ ہمیں بتانا چاہتے ہیں روز قیامت تمہیں نیکوں سے ایسے ہی دور کھڑا کیا جائے گا ۔ تم اپنی پوری کوشش کرو گے ۔

کہ ان میں شامل ہو جاو ۔ جان لگا دو گے ۔ خود کو تھکا دو گے ۔ اپنا دب کچھ لٹا دو گے ۔ اپنا آپ قربان کر دو گے مگر نیکوں میں شامل نہیں ہو سکو گے ۔ تمہیں اپنے جرموں کا خراج نیکوں سے الگ ہونے کی شکل میں دینا پڑے گا ۔ تمہیں عذاب کا منہ دیکھنا پڑے گا ۔ تمہیں ذلت و رسوائی اٹھانا پڑے گی ۔ تم چاہو نہ چاہو تمہیں مجرموں کی لائن میں کھڑا ہونا پڑے گا ۔ آج وقت ہے اس دن کے لیے کچھ تیاری کر لو ۔ بھلے کچھ بھی نہ کرو بس ان نیک لوگوں کی نقل کر لو ۔ جیسے یہ دن رات خود کو عبادات میں تھکا رہے ہیں کچھ اس طرح خود کو تھکا لو ۔ صرف یہ نہیں کہ ان میں شامل ہونے کی کوشش کرو ۔ کچھ ان کے جیسے اعمال بھی تو کرو ۔

کچھ ان کی طرح اپنے وقت کو قیمتی بھی تو بناو ۔ کچھ انہی کی طرح مجھ سے اور میرے نبی علیہ السلام سے محبت بھی تو کر کے دکھاو ناں ۔
شاید آج کے دن کا یہی پیغام تھا جو اللہ نے ہمیں پیچھے ہٹا کے ہم تک پہنچانا تھا ۔
شکستہ دل ہے یا رب ۔ شکستہ دامن ہے ۔ جیب خالی ہے روح خالی ہے ۔ تھکن طاری ہے ۔ تو ہمیں بخش دے ۔ ہاں بخش دے

یہاں بھی حشر برپا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں