12

قلمی دوستی

تحریر شئیر کریں
جاسوسی افسانہ قلمی دوستی
آخری حصہ
آدھا گھنٹہ مختلف سڑکوں سے ہوتے ہوئے ایک بلڈنگ کے باہر گاڑی رکی اور ویٹر اسکو کرایہ دے کر بلڈنگ میں داخل ہو گیا۔۔
مراد گاڑی سے اترا اور گیٹ پر بیٹھے چوکیدار سے کہنے لگا چچا یہ صاحب جو ابھی ابھی اندر گئے ہیں کیا اسکا ایڈریس بتا سکتے ہیں؟ انکا پرس سڑک پے گر گیا تھا واپس کرنا ہے۔
جی بیٹے یہ الیاس ہے فلیٹ نمبر 7،سکینڈ فلور پر رہتا ہے۔اکیلا رہتا ہے ایک بیوی تھی وہ چار سال پہلے مر چکی ہے۔بچارہ کسی ہوٹل میں نوکری کرتا ہے۔جاو بیٹا اسکو پرس واپس کر دو۔
شکریہ چچا مراد فورا بلڈنگ کے اندر گیا اور اپنی پستول لوڈ کر لی پہلے سے ہی۔
پہلے اس نے دستک دی دروازے پے۔کوئی جواب نہیں ملا،پھر دوبارہ دستک دی۔تو کچھ وقت کے بعد اسی ویٹر نے دروازہ کھولا۔۔
ارے جناب آپ ؟ آج تو آپ ہمارے ہوٹل میں آئے تھے۔
ہاتھ اوپر کرو ورنہ کھوپڑی اڑا دونگا مراد نے یک دم اس ویٹر پر پستول تھان لی۔
ایک جھٹکے سے ہی وہ ویٹر نیچے گرا اور اس نے کوئی مزاحمت نہیں کی۔۔مراد نے اسکے دونوں ہاتھ باندھ دئے اور سامنے صوفے پر بیٹھا دیا اور خود گھر کی تلاشی لینے لگا۔۔
ارے جناب آپ کیا چیز تلاش کر رہے ہیں میں کوئی امیر بندہ نہیں ہوں۔۔بلکہ غریب آدمی ہوں۔
چپ کرو بولنا مت جب تک میں نا پوچھو۔۔
تلاشی کے باوجود گھر سے پوسٹرز کے علاوہ کچھ خاص نا ملا۔مراد واپس پلٹا اور ویٹر کے سامنے کرسی پر بیٹھ گیا۔
دیکھو مسٹر میں جو سوال پوچھو اسکا مجھے مختصر اور جامع جواب چائیے۔ورنہ میں تم پر ذرا بھی رحم نہیں کروں گا۔
مگر آپ ہے کون؟ مجھے سے کیا چاہتے ہیں۔
میں جو کوئی بھی ہوں بس تمھارے جیسے مجرموں کے لئے موت ہوں اب میرے سوال کا جواب دو ورنہ میں تمھیں اپنے گھر لے جاونگا اور وہاں میرا دوست مہدی تم سے وہ بھی اگلوا لے گا جو تمھارے باپ دادا نے کیا ہوگا۔
ویٹر کے ماتھے پے پسینے کے قطرے نمودار ہو گئے۔
مم مم میرا نام قدیم ہے میں صوابی کا رہنے والا ہوں۔میں یہاں ہوٹل میں ملازمت کرتا ہوں۔اکیلا رہتا ہوں میری بیوی کا انتقال ہو چکا ہے۔
میں یہ نہیں پوچھا رہا مجھے یہ بتاو جو پوسٹر تم نے مجھے دیا وہ لڑکیاں کون ہیں؟ کیا تم اسے ذاتی طور پر جانتے ہوں؟
نہیں جناب میں کسی لڑکی کو نہیں جانتا مگر میں مجبور ہوں اور ویٹر رونے لگ گیا۔
چپ کرو بند کرو عورتوں کیطرح رونا دھونا بتاو کیا مجبوری ہے؟
لو یہ گلاس پانی پیو اور تسلی سے بتاو مجھے۔
پھر آپ شروعات سنے۔۔۔میں بیوی کے انتقال کے بعد بہت اکیلا رہ گیا تھا اور بہت غم زدہ رہتا تھا۔ایک دن مجھے کتابوں کے دوکان پے ایک معروف ڈائجسٹ ملا میں وہ سرسری پڑھنے لگا تو مجھے اس میں ایک صفحہ پے قلمی دوستی والا اشتہار نظر آیا۔۔کہ آو قلمی دوست بنیں۔۔
میں نے وہ نمبر اپنے پاس سیو کر لیا اور گھر آ کر اس نمبر پر فون کر دیا۔
دوسری جانب سے مترنم نسوانی آواز سنائی دی۔اور مجھے اسکی آواز اتنی اچھی لگی کہ میں دن میں پچاس پچاس بار اس کو فون کرتا تھا۔اس لڑکی نے اپنا نام تانیا احمد بتایا تھا۔
کچھ دنوں بعد تانیا میرے زندگی کے ہر راز،ہر دکھ،سکھ سے آشنا ہو چکی تھی۔ایک دن تانیا نے مجھے ملنے ایک ہوٹل میں بلایا تھا شہر سے دور ایک جگہ ہوٹل تھا میں وہاں گیا وہ اس کو دیکھ کر بہت حیران رہ گیا۔تانیہ نے کالا برقع اوڑھا ہوا تھا مگر اسکا آدھا ناک نظر آرہا تھا یعنی نقاب میں ناک نظر آرہا تھا۔ہم نے وہاں کھانا کھایا اور پھر متواتر ملنے لگے۔میں اسکے حسن سے اتنا متاثر تھا کہ جو کہتی تھی میں وہ کرتا گیا۔ہم لوگ بہت قریب آگئے تھے۔اور اپنی ساری حدیں ہم نے کراس کر لی تھی۔
مگر ایک دن اسکے فون آنے بند ہو گئے۔
میں بہت بےچین محسوس کرنے لگ گیا تھا۔
ایک ہفتے بعد پھر تانیہ کی کال آئی اور مجھے ایک جگہ بلایا مگر وہ ایک انجان ویران جگہ تھی شہر سے کافی دور۔جب میں وہاں پہنچا تو بہت حیران ہوا وہاں ڈیوٹی پر معمور کچھ لوگ منہ پے نقاب اوڑھے ہوئے میری اچھی طرح تلاشی لے رہے تھے جیسے میں کوئی دہشت گرد ہوں یا باغی۔۔خیر میں اندر گیا تو مجھے ایک کمرے میں پہنچایا گیا وہاں تانیہ اور دو اور لڑکیاں اور ایک آدمی موجود تھا۔
مجھے دیکھتے ہی اس پہلوان جیسے آدمی نے مجھے بازوں میں اٹھا لیا اور ایک جھٹکے سے مجھے اس زور سے زمین پے گرایا کہ میرا بازوں زخمی ہو گیا مگر جیسے ہی خون نکلنے لگا تو وہ آدمی ایک دم سے مجھ سے دور ہو گیا اور ہاتھ دھونے لگ گیا جیسے میں کوئی اچھوت ہوں۔
پھر دوسرا نقاب پوش آیا اور اس نے زبردستی میرے سارے کپڑے اتارے اور مجھے ننگا کر دیا ظلم تو یہ تھا یہ سب تانیہ ہنس ہنس کر دیکھ رہی تھی اور الٹا خوش ہو رہی تھی۔کمرے میں موجود ان دو لڑکیوں کے سامنے مجھے بےلباس کیا گیا اور پھر میری دو،تین ویڈیو بنائی اور مجھے دھمکی دی کہ تم یا تو ہمارے لئے کام کروگے آج کے بعد یا تمھاری ساری ویڈیو نیٹ پر ڈال دینگے اور تمھیں دنیا میں رسوا کر دینگے۔
میں بہت مجبور تھا مگر میں نے پھر بھی کہا ڈال دو ویڈیو نیٹ پے رسوا کر دو مجھے مگر میں کوئی غلط کام نہیں کروں گا نا کسی کو نقصان پہنچاونگا۔تو وہ آدمی زور زور سے ہسنے لگا اور کمرے سے چلا گیا۔ان بدمعاشوں نے مجھے ننگا کرکے کرسی کیساتھ باندھ دیا تھا اب کمرے میں صرف تانیہ اور وہ دو اجنبی لڑکیاں موجود تھی۔
تانیہ میرے سامنے کرسی پر بیٹھ گئی اور میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنے لگی۔
اس وقت مجھے اس کی آنکھوں میں سفاکیت اور اجنبیت نظر آئی جو کبھی بات بات پے میرے سامنے روتی اور میرے لئے تڑپتی تھی۔
تانیہ نے کہا الیاس ضد مت کرو جو ہم کہتے ہیں وہ کرو ورنہ تمھیں غائب کف دینگے اور تمھارا نام و نشان بھی نہیں رہے گا۔
میں بھی نہیں مان رہا تھا اور کہا کہ کر دو غائب ویسے بھی اس دنیا میں میرا کون ہے؟
کیا یہ تھی تمھاری محبت تانیہ ؟ میں تو تم سے شادی کرنے والا تھا۔
تانیہ ہسنے لگی اور ان دو لڑکیوں کو دیکھتے ہوئے بولی اس احمق کو دیکھو؟
کیا ایک قادیانی لڑکی کسی مسلمان سے شادی کرتی ہے؟
یہ سننا تھا کہ میرے قدموں تلے زمین نکل گئی یا اللہ یہ میں کیا سن رہا ہوں؟ میرا دماغ شائیں شائیں کرنے لگا۔
تانیہ پھر سے مجھے حقارت سے دیکھنے لگی اور بولی ہمارا تو کام یہی ہے کہ ہم تمھارے جیسے زمانے کے ستائے ہوئے اور یا بھولے بالے نوجوانوں کو ورغلانے ہیں اور پھر قلمی دوست کے جال کے ذریعے شکار کو پھانس کے اسکا مذہب تبدیل کرواتے ہیں اور یا اسکو ہم اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں۔جو اس ملک شانستان کے خلاف ہو تاکہ یہ ملک زوال پذیر ہو جائے جس نے ہمیں نقصان دیا ہے۔
کونسا نقصان دیا ہے اس ملک نے بدبختوں کافروں لعنتی عورت میں تھوکنا ہوں تمھاری شکل پر۔
میں کبھی اس لعنتی لیٹرینی بےغیرت پر یقین نہیں کرونگا چاہے تم میری بوٹی بوٹی کر دو۔
تانیہ نے یہ سب آرام سے سنا اور بولنے لگی ٹھیک ہے الیاس اپنے ایمان کا سودا مت کرو مگر ہمارے لئے کام تو کر سکتے ہو نا؟
تم صرف نوجوانوں کو پھنسانے کا کام کرو ہمارے پوسٹر ان تک پہنچاو تمھیں اسکا باقاعدہ معاوضہ بھی ملے گا۔
میں لعنت بھیجتا ہوں اس رقم پر مجھے جانے دو یہاں سے میں چلا جاونگا ہمیشہ کے لئے۔
یہ تو نہیں ہو سکتا الیاس اور جاتے جاتے ایک اور بات سن لو مجھے ایڈز ہے۔اور تم بھی ایڈز سے آلودہ ہو چکے ہو بھول گئے میرا پیار۔۔
ان لڑکیوں نے میری رسی کھول دی اور مجھے گاڑی میں ڈال کر ایک ویرانے میں پھینک کر چلے گئے۔
میری ہمت ٹوٹ چکی تھی میرا وجود،میری زندگی سب برباد ہو چکی تھی۔اس دن کے بعد میں اس گینگ کے ہاتھوں بلیک میل ہو رہا ہوں۔
الیاس یہ سب بتاتے ہوئے پھوٹ پھوٹ کر رو دیا۔
مراد کافی دیر سے اور بہت غور سے یہ سب سن رہا تھا۔اور بولا الیاس تم واقعی مجبور تھے۔
میں کوشش کروں گا کہ تمھیں کم سے کم سزا ملے مگر اس سے پہلے تمھیں مکمل علاج اور توجہ کی ضرورت ہے۔تمھیں میں ہسپتال لے جاونگا اور سرکاری خرچ پر تمھارا علاج ہوگا۔
دوسری بات یہ کہ تم برباد نہیں ہوئے کیونکہ تمھارا ایمان سلامت ہے اور یہ سب سے بڑی دولت ہے۔زندگی کا لیا بھروسہ آج ہم ہے کل نہیں لہذا آئندہ مت رونا۔بس جو میں کہتا ہوں وہ کرو۔
مہدی اور کیپٹن عباس انسپکٹر شاھد اور ندیم مراد کے گھر ہی ٹھہرے ہوئے تھے۔مراد نے سب کو اپنا اپنا ٹاسک دے رکھا تھا۔مراد نے شاھد اور ندیم کی آن لائن فرینڈ شپ ویب سائٹ پر ڈیوٹی لگا رکھی تھی کہ نظر رکھیں کونسے لوگ زیادہ ملاقات پر اسرار کرتے ہیں کہ انکی نگرانی کی جائے۔
عباس شہر کے ہسپتالوں کو چھان رہا تھا کہ کون کون ایڈز کے مریض دوائیں لینے آتے ہیں۔کیونکہ صحت مند نوجوانوں میں ایڈز جان بوجھ کے پھیلایا جارہا تھا۔
سب اپنے اپنے کاموں کی اپڈیٹ سر غوری کو دے رہے تھے۔۔
مراد جیسے ہی گھر آیا اس نے سلامت کو کہا اس دن تم جس لڑکی سے بات کر رہے تھے۔ذرا اپنا موبائل آن کرو دیکھو وہ رابطہ کرتی ہے یا نہیں۔
جی صاحب یہ لیں کر دیا۔۔ایک دو سکینڈ بعد اسی لڑکی سارا کی ویڈیو کال آنی لگی۔۔
صاحب کال آرہی ہے کیا کروں؟
تم جاو مجھے فون دو۔۔
مراد ویڈیو کال آن کرتا ہے۔۔دوسری طرف خوبصورت نازک سی لڑکی نظر آئی جو بظاہر تھوڑا پریشان ہوئی۔
آپ کون ہے؟ جناب یہ نمبر تو سلامت کا ہے نا؟
مراد نے کہا ہاں شائد ہو گا مگر کل مجھے یہ موبائل سلامت نے بیچ دیا کہ اسے روپوں کی ضرورت ہے۔
خیر آپ فرمائیں آپ کون محترمہ ہے مراد نے لاپروائی سے جواب دیا۔۔
جی میرا نام سارا ہے اور میں کالج میں پڑھتی ہوں۔
جب اس نے دیکھا کہ سامنے والا بندہ ہنڈسم اور سبز آنکھوں والا ہے تو اس محترمہ کا لہجہ کچھ اور ہی میٹھا ہو گیا۔
اچھا جی۔۔میرا نام آکاش ہے یعنی آسمان۔
اچھا میں فون بند کرتا ہوں مجھے کام سے جانا ہے۔
ارے ارے فون بند مت کریں۔کیا ہم دوست بن سکتے ہیں؟ یعنی فرینڈز۔۔
اتنی جلدی محترمہ میں تو آپکو جانتا بھی نہیں ابھی۔۔۔کہ آپ کیسی دیکھتی ہے سامنے۔
تو جاں پہچان بھی پیدا ہو جائیگی آپ کل مجھ سے باڑا روڈ پر مل سکتے ہیں۔
مگر وہ تو ویران روڈ ہے محترمہ وہاں تو جنات بھی سنا ہے اب سفر نہیں کرتے۔۔
آپ مذاق کرتے ہے نا؟
نہیں نہیں سارا جی میں آجاونگا ملنے ایسی کوئی بات نہیں ساتھ بیٹھ کے گپ شپ لگائے گے۔اوکے خداحافظ اور مراد نے ویڈیو کال کاٹ دی۔
لو جی شکار نے دانہ ڈال دیا ہے اور میں نے مرغی بن کے دانہ چگ لیا ہے۔
گڈ ورک مراد مہدی زور سے بولا۔۔
صاحب مت جائیں مجھے تو یہ لڑکی چڑیل لگتی ہے۔
جب خود دوستی کر رہے تھے تب نہیں لگ رہی تھی سلامت کے بچے۔بات یہ ہے کہ تم میرے ساتھ کوئی لڑکی دیکھ ہی نہیں سکتے۔
سلامت بغیر بولے کیچن کی جانب جاتا ہے۔
کون کون چائے پئے گا سلامت تیز آواز میں بولا۔۔
ہم سب ۔۔۔،سب نے یک آواز کہا۔

مراد نے وائٹ شرٹ اور بلیو جینز پہنی اور آنکھوں پے سن گلاسز لگائیں جو کہ حقیقت میں مائیکرو کیمرے تھے۔اور جیب میں پین رکھا اس میں تیز دار کاٹنے والا پتلا آلہ چھپا ہوا تھا۔
اور گھر سے نکلا ٹھیک گیارہ بجے وہ باڑا روڈ پر انتظار کر رہا تھا کہ ایک گاڑی دور سے آتی دیکھائی دی۔۔مراد کو دیکھتے ہی گاڑی رکی اور اس سے وہی حسین لڑکی سارا نکلی۔۔
سلام تو آپ ہے مراد صاحب دیکھنے میں تو آپ بہت ہنڈسم اور زبردست ہے۔
مراد مسکرانے لگا ویسے سارا صاحبہ یہ کونسی جگہ ہے ملاقات کی جگہ جگہ ویرانی زمین پے ببول کے کانٹے اور صحرائی خاردار پودے لگے ہوئے ہیں۔
یہ بھی کوئی جگہ ہے بھلا۔
آئیے مراد صاحب گاڑی کے اندر کچھ دل کی باتیں کر لیں سمجھ رہے ہے نا آپ؟
دیکھئے سارا جی آپ مجھے گناہ کی دعوت دی رہی ہے جبکہ میں ان کبیرہ گناہوں سے دور بھاگتا ہوں اور آپ تو جانتی ہے اسلام میں زنا کی سزا بہت سخت ہے۔لہذا مجھے معاف ہی رکھے۔
یہ سن کر سارا کا چہرہ غصے سے ایک دم سرخ ہو گیا اور اسے یہ بےعزتی برداشت نا ہوئی اس نے فورا پرس سے سپرے نکالا اور مراد کے چہرے پے سپرے کر دیا جس سے مراد فورا بےھوش ہو گیا۔
ڈرائیور آس بندے کے ہاتھ باندھ کے گاڑی میں ڈالو۔
مگر میڈم آپ نے اسے بےھوش کیوں کیا؟
کہی مسلہ نا بن جائے ابھی تو یہ بندہ جال میں مکمل پھنسا بھی نہیں یہ پہلی ملاقات تھی۔
زیادہ بحث مت کرو اس بندے نے مجھے ریجیکٹ کیا مجھے جس پر ہزاروں لوگ مرتے ہیں مجھ سے یہ ذلت برداشت نا ہوئی اس لئے۔
بس اب اڈے کیطرف چلو اسکو وہی سبق سیکھاونگی۔
تقریبا ایک گھنٹے کے سفر کے بعد گاڑی ایک پرانے ویران فیکٹری کے سامنے رکی۔اور وہاں اندر ایک خفیہ تہہ خانے کے اندر چلے گئے۔
مہدی اور کیپٹن عباس مسلسل انکا پیچھا کر رہے تھے اور مراد کے کالر میں جو چپ چھپی ہوئی تھی وہ اسے مسلسل گرین سگنل دے رہا تھا۔
مراد کو جب ھوش آیا تو وہ ایک کرسی سے بندھا ہوا تھا۔کیا میں زندہ ہوں مس سارا؟
آپ نے مجھے رسیوں سے کیوں باندھا ہوا ہے؟
کیا میں نے تمھاری بھینس چوری کی ہے۔
ناننس ایڈیٹ کیا احمق آدمی ہو تم۔
احمق کا تو پتہ نہیں البتہ آدمی پورا ہوں وہ بھی کام کا کوئی شک ہے کیا؟
مراد کیا تم ہمارے گینگ میں شامل ہونا پسند کروگے؟
کیسا گینگ؟ کونسا کام ؟
تمھیں ہمارا مذہب اپنانا ہوگا اور اسکے بدلے تمھیں ہم جرمنی کا فری ویزہ اور خوبصورت لڑکی سے تمھاری شادی کروا دینگے۔
تمھارا دماغ خراب ہو گیا ہے ذلیل عورت تمھاری جرات کیسے ہوئی میرے ایمان پر ڈاکہ ڈالنے کی۔کیا میں نہیں جانتا کہ تم لوگ غدار اور میرے وطن کے دشمنوں میں سے ہو۔رہتے یہاں ہو،کھاتے اس ملک کا ہو مگر ہر وقت اس وطن کو دنیا میں بدنام کرتے رہتے ہو ذلیل کافروں۔
سارا سمجھ گئی کہ یہ بندہ ایمان نہیں بیچے گا تو اس نے دوسرا داو کھیلنے کا فیصلہ کیا۔۔چلو ٹھیک ہے کوئی بات نہیں مگر تم ہمارے لئے اور کام تو کر سکتے ہو نا۔۔ہمارے ساتھ مل جاو۔
نہیں خبیث عورت میں کسی گروہ میں شامل ہونے کا قائل نہیں ہوں۔میں آزادانہ طور پر کام کرنے کا عادی ہوں مراد نے سرد لہجے میں جواب دیا۔
ٹھیک ہے سارا تیز آواز میں پکارتی ہے مسٹر ایکس اندر آئیے۔۔۔اور اسکی رسی کھولئے۔۔
ایک پہلوان نما آدمی کمرے میں آتا ہے اور مراد کی رسی کھولتا ہے۔مراد اپنے ہاتھ ملتا ہے۔اور اسکے بعد اپنی شرٹ اتارتا ہے۔تو اسکا کسرتی اور مضبوط جسم دیکھ کے سارا حیران ہو جاتی ہے۔اور پھر جیسے ہی جینز کھولنے لگتا ہے تو سارا اسے کہتی ہے یہ تم کپڑے کیوں اتار رہے ہو؟
تاکہ تم مجھے ننگا دیکھ لو ویسے بھی اس پہلوان کو تم نے اسی مقصد کے لئے بلایا تھا۔میں نے تم لوگوں کا کام آسان کر دیا۔
چلو اب میری ننگی ویڈیو بناو شاباش۔۔
ناننس عجیب احمق آدمی ہو۔۔
مگر رکو ایک منٹ تمھیں یہ کیسے پتہ کہ ہم لوگوں کی نجی ویڈیو بناتے ہیں؟
سچ سچ بتاو کون ہو تم۔۔
مراد پھرتی سے پلٹا اور سیدھا اس پہلوان کے سر پے ایک زور کا مکا رسید کیا وہ وہی بےھوش ہو گیا۔
یہ دیکھ کر سارا کمرے سے بھاگنے لگی ۔۔
بھاگو بھاگو غلیظ ایڈز زدہ قادیانی لڑکی کہاں تک بھاگو گی؟
کمرے میں دو تین اور نقاب پوش آگئے۔
مراد نے ایک نقاب پوش کے پیٹ میں اس زور سے لات مار دی کہ وہ زمین پر درد سے کراہنے لگا اور دوسرے کے سر پر کرسی مار دی جس سے وہ اسی وقت ٹھنڈا ہو گیا۔
مراد کمرے سے نکلا اور سارا کو تلاش کرنے لگا کہ سامنے انسپکٹر نورین نے اسکو بالوں سے پکڑا ہوا تھا اور اسکے ہاتھ باندھ دئیے تھے۔
مراد صاحب پوری عمارت گھیرے میں ہے پولیس نے سب بدمعاشوں کو گرفتار کر لیا ہے اور ان خواتین کو الگ گاڑی میں لے جائے گے۔
باہر کیپٹن عباس سب دیکھ رہے ہیں۔
اندر سب کلئر ہے مہدی نے انفارمیشن دی۔
گڈ ورک مہدی اس دھرتی کے بوجھ کو لے جاو جو ہمارے ایمان کے بھی دشمن ہے اور صحت مند جوانوں میں بیماری پھیلا رہے ہیں
کیپٹن عباس کے ہاتھ میں ٹرانسمیٹر تھا مراد سر آپکئ کال ہے۔
دوسری جانب نسوانی آواز سنائی دی۔۔
ہیلو کیپٹن مراد چیف آف سیکرٹ سروس ارنسٹ از آن لائن ۔۔
جی سر مراد از سپکینگ۔۔
کیا اپڈیٹ ہے مراد؟
سر تمام مجرم گرفتار ہو چکے ہیں۔اور آلودہ لڑکیاں بھی اسپتال پہنچا دی گئی اور پورا گینگ ہم نے ختم کر دیا اس جگہ کو سیل کرکے ہم نکل رہے ہیں
ویلڈن مراد۔۔۔تمھارا چیک ایجنٹ وائی لا رہا ہے اس سے لے لینا۔اوور اینڈ آل۔
سر کیا کہہ رہے تھے ؟ مہدی پوچھنے لگے۔
سر نے کہا کہ گھر جاو اور عیش کرو۔
سب ایک ساتھ قہقہہ لگانے لگے۔
انسپکٹر خان: (اپنی ٹیم سے) ٹھیک ہے، چلو اندر چلتے ہیں!
پریس والے سارے صحافی حضرات اندر آئیں۔
ہمارے ملک کی خاص ٹیم نے مجرموں کے اڈے پر چھاپہ مارا، سارہ نامی خاتون کے اعمال کے پیچھے مجرمانہ تنظیم کو بے نقاب کیا۔
انسپکٹر صاحب مجرموں کا مقابلہ کس ٹیم نے کیا اور اس بہادر کا نام کیا ہے؟ ایک صحافی پوچھنے لگا۔۔
_انسپکٹر خان؛ دیکھئے مجرموں کا مقابلہ تنظیم کے لیڈر سے ہوتا ہے، جو ایک خطرناک شخصیت ہے۔ہم آپکو اسکی پہچان تو نہیں بتا سکتے بس اتنا بتا سکتے ہیں کہ اس مرد مجاہد کا نام “مراد” ہے اور ساری دنیا کی جاسوس ایجنسیاں اس سے ڈرتی ہے۔
کیا واقعی ایسے بہادر ہمارے وطن میں پائے جاتے ہیں؟ دوسرا صحافی بولا۔
انسپکٹر خان: (مسکراتے ہوئے) آپ ہمیں کبھی نہیں روکیں گے۔ ہماری آنکھیں اور کان ہر جگہ ہیں۔
اب تو نوجوانوں کو دوستی کے نام پے نہیں لوٹا جائے گا نا؟
انسپکٹر خان: (عزم کرتے ہوئے) اس شہر میں تو کبھی نہیں،۔

_ٹیم نے مجرموں کو پکڑ لیا، اور سارہ کو خود کو چھڑانے کا موقع دیا گیا۔مگر اس نے جیل جانا بہتر سمجھا کیونکہ وہ مزید غلط کام نہیں کرنا چاہتی ۔
لاپتہ نوجوان بحفاظت گھر واپس پہنچ گئے، اپنے متاثرہ خاندانوں سے مل گئے۔_
قیوم: (آنسو بھرتے ہوئے) ہم اتنے اندھے تھے… ہمیں آن لائن خطرے کا احساس نہیں تھا۔
سلیم: (شکریہ سے) انسپکٹر خان اور خفیہ سروس کا شکریہ، اب ہم محفوظ ہیں۔
ختم شد۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں