17

محرم الحرام کرنے کے کام

تحریر شئیر کریں

محرم الحرام کرنے کے کام

محرم کے لغوی معنی ہیں ممنوع، حرام کیا گیا، عظمت والا اور لائق احترام

یہ ان چار مہینوں میں سے ہے جس کا ذکر اللہ تعالی نے قرآن میں کیا ہے:

*إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِنْدَ اللَّهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِي كِتَابِ اللَّهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ۚ ذَٰلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ ۚ فَلَا تَظْلِمُوا فِيهِنَّ أَنْفُسَكُمْ ۚ*
[التوبة ۱۳۶]

“بے شک مہینوں کی تعداد اللہ کے نزدیک بارہ ہے, جب سے اس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے۔ ان میں سے چار حرمت والے ہیں۔ یہی درست دین ہے پس تم ان میں ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو”۔

یہ چار مہینے محرم، رجب، ذوالقعدہ اور ذوالحجہ ہیں۔

اس مہینے کے لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
*شھر اللہ المحرم*
یہ وہ واحد مہینہ ہے جسے اللہ تعالی سے منسوب کیا

*اس مہینے میں کرنے کے کام*

🔹 *دوسروں کی جان، مال، عزت و حرمت کا خیال رکھنا ہے*
ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حجة الوداع کے موقع پر فرمایا:
تمہارا خون، تمہارا مال اور تمہاری عزت ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہے جس طرح تمہارے آج کے دن کی، اس شہر کی اور اس مہینے کی حرمت ہے۔
[صحیح البخاری]

*اس مہینے میں خصوصی طور پر اپنے آپ کو گناہوں سے بچائیں*

رسول اللہﷺ نے اپنے رب عزوجل سے نقل کیا ہے کہ
*“میں نے اپنے نفس پر ظلم کو حرام کیا ہے اور اپنے بندوں پر بھی، تو تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو۔*
[صحیح مسلم]

ان حرمت والے مہینوں میں ظلم نہ کریں کیونکہ ان میں گناہ کرنا دوسرے مہینوں کی نسبت زیادہ شدید ہے۔
ان مہینوں کو خصوصی فضیلت و فوقیت حاصل ہے لہذا ان کا احترام بھی لازم ہے

*دوسروں کی عزتوں کی حفاظت کرنا*

چونکہ جان اور مال کے ساتھ ساتھ عزت کی بھی حرمت ہے اس لیے دوسروں کا احترام کرنا، طعن و تشنع سے پرہیز کرنا اور غیبت، چغلی، بدگمانی سے بچنا بھی اس میں آتا ہے
دوسروں کی عزتوں سے کھیلنے والوں کا انجام دنیا میں بھی برا ہے اور آخرت میں بھی
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
مسلمان وہ ہوتا ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرا مسلمان محفوظ رہے اور
مومن وہ ہوتا ہے جس کی طرف سے دوسروں کو اپنی جان اور مال کا امن ہوگا

*دوسروں کے حقوق ادا کرنا*

یہ حقوق ادا کرنے کا مہینہ ہے دوسروں کے جو بھی حقوق ہوں چاہے چھوٹے، چاہے بڑے، انہیں ادا کرنا ہے

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما کی روایت کے مفہوم کے مطابق یہ بہت بڑے گناہ کے کام ہیں کہ:
شادی کے بعد ضرورت پوری کرکے مہر نہ ادا کرنا
دوسروں سے کام کروا کر مزدوری نہ دینا
کسی چوپائے کو بلاوجہ جان سے مارنا

*دوسروں کے مال کی حفاظت*

کوئی مسلمان کسی دوسرے مسلمان کی کوئی بھی چیز ہرگز نہ لے اگرچہ وہ چھوٹی سی ہی کیوں نہ ہو کیونکہ اس پر بھی عذاب ہے

*نبی کریم ﷺ نے فرمایا:*
جس نے(جھوٹی) قسم کھا کر کسی مسلمان شخص کا حق مارلیا تو بلاشبہ اللہ سبحانہ تعالی نے اس کے لیے جہنم واجب کر دی اور اس پر جنت حرام کر دی۔
تو ایک شخص نے کہا:
اور اگرچہ وہ کوئی معمولی سی ہی چیز ہو ( تو بھی) اے اللہ کے رسول ﷺ؟
آپ ﷺ نے فرمایا
اگرچہ وہ (مسواك) کی شاخ ہی ہو
[رواه مسلم]

“اللہ تعالٰی کے بہترین بندے وہ ہوتے ہیں جنہیں دیکھ کر اللہ تعالی یاد آئیں
اور بدترین وہ ہوتے جو غصہ کرنے والے، چغل خوری کرنے والے ہوں اور دوسروں کے درمیان جدائی ڈالیں”
اس لیے
اس ماہ میں زیادہ سے زیادہ صلۂ رحمی کی طرف توجہ دینی ہے اور رشتوں کو جوڑنا ہے کاٹنا نہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں