16

آغوش فطرت میں گزرے دن

تحریر شئیر کریں

آغوش فطرت میں گزرے دن

تحریر: سلمیٰ نور

انسان جہاں پیدا ہوتا ہے اس سرزمین سے محبت ایک فطری عمل ہے لیکن انسان جہاں رہتا ہے اس مٹی کی خوشبو سے بھی اسے محبت ہوجاتی ہے۔ اس سرزمین پر رہنا اس سے انسیت کا سبب بن جاتا ہے۔ میں پیدا تو کراچی میں ہوئی لیکن جب میں صرف دو سال کی تھی، میرے والدین متحدہ عرب امارات منتقل ہو گئے۔ اس کے بعد کے اکیس سال وہاں کے بلند و بالا پہاڑوں وسیع سمندر اور تا حد نظر پھیلے صحراؤں کو محسوس کرتے ہوۓ گزارے۔ اس لیے میرے لیے وہیں کی ہواؤں میں سکون اور وہیں کی فضاؤں میں اپنائیت ہے۔
متحدہ عرب امارات میں ہمارا پہلا مسکن کلباء شارجہ تھا اس کے بعد الیحر اور العین۔ کلباء اور فجیرہ تو پہاڑوں اور سمندر کی وجہ سے پہچانے جانتے ہیں جبکہ الیحر اپنی سرخ ریت کے صحرا اور العین اپنے سبزے کی وجہ سے معروف ہیں۔ کلباء اور فجیرہ وہ جگہیں ہیں جہاں میں نے بچپن گزارا۔ ہمارا سکول فجیرہ میں اور رہائش کلباء شارجہ میں تھی۔ جس کے بلند پہاڑ اور دلفریب سمندر میری پہلی محبت قرار دیے جا سکتے ہیں۔ ہمارے گھر کے ایک طرف یہ دلکش پہاڑ تھے اور دوسری طرف تاحد نظر پھیلا گہرا سمندر۔ ہر روز سکول آتے جاتے سمندر ہمارا ہمسفر ہوتا۔ کسی نے کیا ہی خوب کہا ہے

دوست احباب سے لینے نہ سہارے جانا
دل جو گھبرائے سمندر کے کنارے جانا
تو بس ہمارا بچپن بھی کچھ ایسے ہی سمندر کنارے گزرا۔ پہلے کھیلتے پھر سوچتے اور پھر محسوس کرتے۔
کلباء، شارجہ کا ایک محصور خطہ *Exclave* ہے۔ Exclave کسی ریاست کے ایسے علاقہ کو کہا جاتا ہے جو کسی دوسری ریاست سے پوری طرح گھرا ہوا ہو۔ یہ عمان کے شمال میں خلیج عمان سے متصل ساحلی پٹی پر شارجہ کے مشرق میں واقع ہے اور زمینی طور پر ریاست فجیرہ کلباء اور شارجہ کے درمیان حائل ہے۔
یہ ایک قدیم شہر ہے جس کی معلوم تاریخ چوتھی صدی قبل مسیح سے ملتی ہے۔ سترھویں صدی میں پرتگالیوں نے اس پر قبضہ کیا۔ تاریخ کے مختلف اہم مراحل سے گزرتا ہوا 1972 میں ایک معاہدہ کے تحت شارجہ کے امیر صقر بن سلطان القاسمی کی حکومت میں متحدہ عرب امارات میں شامل کر لیا گیا۔ یہ متحدہ عرب امارات کے سب سے نمایاں ماحولیاتی سیاحت کے مقامات میں سے ایک ہے جہاں ٹریکنگ( Tracking)، کیکنگ (Kayaking) اور سکوبا ڈائیونگ( Scuba Diving) کے دوران وائلڈ لائف سے بھی محظوظ ہوا جا سکتا ہے۔
یہاں لوگ متحدہ عرب امارات کے قومی جانور عربی اورکس Arabian Oryx کو دیکھنے کے لیے بھی آتے ہیں۔ عربی اوریکس ایک صحرائی ہرن ہے اور سب سے بڑا ممالیہ جانوربھی جو عرب علاقوں کے صحراؤں میں رہتا ہے۔ یہ جانور صدیوں سے مشرق وسطیٰ میں ایک اہم ثقافتی علامت رہا ہے جس کا ذکر آرٹ ورک، شاعری اور ادب میں نمایاں طور پر ملتا ہے۔
یہ علاقہ خور کلباء (Kalba Creek ) کے لیے بھی مشہور ہے۔ یہ دلدلی علاقہ خوبصورت گھنے مینگروو کے جنگلات سے آباد ہے جسے عرب کے قدیم ترین جنگلات سمجھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ پرندوں کی سب سے خوبصورت اور نایاب نسلوں کا گھر بھی ہے۔
یہاں کے بہترین پرکشش مقامات میں بیت شیخ سعید بن حمد القاسمی قلعہ، شاہی رہائش گاہ اور خوبصورت ساحل ہیں *کلباء بیچ* ( Kalba Beach ) 7 کلومیٹر لمبی پٹی ہے۔ یہاں مقامی ہاکس بل
*(Hawksbill Turtle)* کچھووں کے گھونسلے بھی ہیں اور عربی کالرڈ کنگ فشر *Arabian collared Kingfisher*
کو دیکھنے کے لیے تو لوگ دور دور سے یہاں آتے ہیں۔ بیرونی سیاحوں کے لیے یہ علاقہ ایک پرکشش اور اہم پوائنٹ کی حیثیت رکھتا ہے۔
یہ ایک پرسکون اور دلفریب نظارہ پیش کرتا علاقہ ہے اور یہی وہ ساحل ہے جس کے کنارے ریت پر کھیلتے، گھروندے بناتے، لہروں سے باتیں کرتے بچپن کے وہ خوبصورت دن گزرے جن کی یاد آج تک دل ایک کونے میں سنبھال رکھی ہے۔
گھر سے نکلتے ہی سمندر ہمارے ساتھ ساتھ سفر کرتا تھا۔ جس طرح چاند کی کشش سمندر کو پاگل کر دیتی ہے بالکل اسی طرح سمندر کی کشش مجھے آس پاس سے بیگانہ کر دیا کرتی تھی۔ جب تک انسان فطرت کی بانہوں میں رہتا ہے پر سکون وادیوں اور جھرنوں کے سے لطیف احساسات اسے گھیرے رکھتے ہیں۔ ورڈزورتھ کی طرح مجھے بھی فطرت کے اندر زندگی کے سارے رنگ نمایاں نظر آتے تھے کہیں پھولوں کی مہکار سے لطف اندوز ہونا تو کہیں پرندوں کی چہکار میں نغمے سنائی دینا۔ کبھی ہواؤں کی سرسراہٹ میں سرگوشیاں تو کہیں پہاڑوں اور صحراؤں کی سیاہ راتوں میں جھلمل کرتے ستاروں میں ہمہ وقت زندگی کی رونق نظر آتی تھی۔ اس میں ذہنی آسودگی بھی تھی اور روحانی اطمینان بھی۔ سب سے اچھی بات یہ تھی کہ مجھ سے سرگوشیاں کرتے پہاڑ میرے ساتھ تھے اور میری ان کہی سنتا سمندر میرے سامنے ۔ مجھے اس سرزمین سے ویسی ہی محبت ہے جیسے کسی کو اپنی جاۓ پیدائش سے ہو سکتی ہے۔ ان علاقوں کے سارے رنگ میرے وجود کا حصہ بن چکے ہیں۔ اس کے صحراؤں کی تپتی سرخ ریت نامساعد حالات میں ثابت قدم رہنا سکھاتی ہے، اس کے سمندر کی لہریں امید بن کر دل میں مؤجزن رہتی ہیں اور اس کے ایستادہ پہاڑ میرے حوصلے بلند رکھتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں