161

کیا سید مودودی نے دین میں سیاست داخل کی؟ یا سیاست میں دین واپس لائے؟

تحریر شئیر کریں

کیا سید مودودی نے دین میں سیاست داخل کی؟ یا سیاست میں دین واپس لائے؟

اکثر یہ اعتراض سننے کو ملتا ہے کہ سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ نے دین کو سیاسی رنگ دے دیا، کہ وہ ایک عالمِ دین کی بجائے ایک سیاسی مفکر تھے، اور ان کی تحریریں مذہب کو ایک انقلابی نظریے میں ڈھالنے کی کوشش ہیں۔

لیکن سوال یہ ہے: کیا واقعی انہوں نے دین میں سیاست داخل کی؟ یا وہ سیاست کو، جو دین سے بے دخل ہو چکی تھی، واپس دین کے دائرے میں لائے؟

یہ فرق معمولی نہیں بلکہ تصورِ اسلام کے فہم میں ایک گہری خلیج کو واضح کرتا ہے۔

دین کا کُل تصور: محض عبادات یا مکمل نظامِ حیات؟

سید مودودیؒ نے بارہا اس بات پر زور دیا کہ اسلام صرف نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ تک محدود نہیں، بلکہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

> “اسلام محض چند عبادات یا روحانیات کا نام نہیں ہے، بلکہ ایک جامع نظام ہے جو زندگی کے ہر پہلو کو گھیرے میں لیتا ہے۔”
(تفہیمات، جلد اول)

یہ بات ان کے اس بنیادی فلسفے کو واضح کرتی ہے کہ اسلام کو اگر محض انفرادی سطح پر عبادات کا مذہب سمجھا جائے، تو وہ وہی اسلام نہیں رہے گا جو نبی کریم ﷺ نے مدینہ میں نافذ فرمایا تھا۔

سیاست سے دین کو الگ کرنے کا تصور کہاں سے آیا؟

سید مودودیؒ نے صاف الفاظ میں لکھا:

> “یہ بات کہ دین کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، عیسائیت سے مستعار ہے، اسلام سے نہیں۔”
(اسلام کا سیاسی نظریہ)

اسلام، آغاز ہی سے ایک ایسا دین رہا ہے جس نے معاشرت، معیشت، عدالت، اور حکومت—سب کے اصول متعین کیے۔ نبی اکرم ﷺ صرف امامِ مسجد نہیں، بلکہ سربراہِ ریاست بھی تھے۔
تو پھر اگر کوئی اسلام کو ریاستی و سیاسی میدان سے الگ کرنے کی بات کرے تو وہ دراصل دین کو محدود کرنے کی بات کرتا ہے۔

سید مودودیؒ کا انقلاب: سیاست میں دین کی واپسی

جب سید مودودیؒ نے اسلامی ریاست کا تصور پیش کیا، تو درحقیقت انہوں نے سیاست کو دین کے تابع کرنے کی بات کی — نہ کہ دین کو سیاست کا خادم بنانے کی۔ ان کا نظریہ تھا:

> “ہماری اصل جنگ یہ ہے کہ خدا کی بندگی کا نظام قائم ہو اور انسانوں کی غلامی کا خاتمہ ہو۔”
(اسلامی تہذیب اور اس کے اصول)

یہ وہ اصولی جنگ تھی جو سید مودودیؒ نے استعمار، سیکولرزم، اور مذہبی جمود کے خلاف لڑی۔ وہ چاہتے تھے کہ اسلام کی سربلندی صرف مسجدوں، مدرسوں اور کتابوں میں نہ ہو، بلکہ وہ ریاستی سطح پر نافذ العمل ہو — جیسا کہ خلفائے راشدین کے دور میں تھا۔

اعتراضات کا علمی جواب

جن لوگوں نے سید مودودیؒ پر یہ الزام لگایا کہ وہ “سیاسی اسلام” کے بانی ہیں، وہ دراصل اسلام کی جامعیت کو محدود دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان کے ہاں دین محض روحانی تربیت ہے، معاشرتی یا سیاسی نظام نہیں۔

جبکہ سید مودودیؒ فرماتے ہیں:

> “اسلام کو ناقص بنا کر پیش کرنا، اس پر سب سے بڑا ظلم ہے۔”
(مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش)

لہٰذا سید مودودیؒ نے نہ کوئی نیا دین ایجاد کیا، نہ کوئی نیا سیاسی فلسفہ۔ انہوں نے اصل اسلام کی اصل شکل میں دعوت دی — وہ اسلام جس میں نماز بھی ہے اور نظامِ عدل بھی، روزہ بھی ہے اور نظامِ معیشت بھی۔

نتیجہ: دین کو زندہ کرنے کی کوشش

سید مودودیؒ کا اصل جرم — اگر کوئی جرم تھا — تو یہ تھا کہ انہوں نے اسلام کو پھر سے زندہ کر دیا۔ وہ خاموش، خانقاہی، محدود دین کی بجائے ایک ایسا دین چاہتے تھے جو دل، دماغ، اور نظام—سب کو روشن کرے۔

وہ صرف “مذہبی سکالر” نہیں تھے۔ وہ ایک مجدد، ایک مفکر، اور ایک داعیِ انقلاب تھے۔ اور یہی وجہ ہے کہ آج بھی ان کا نام لیا جائے تو لوگ یا تو جھک جاتے ہیں یا چونک جاتے ہیں۔

کیونکہ سید مودودیؒ نے دین کو ایک بار پھر مکمل کر کے پیش کیا — جیسا وہ نازل ہوا تھا۔

کیا سید مودودی نے دین میں سیاست داخل کی؟ یا سیاست میں دین واپس لائے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں