257

ایٹم بم ہماری بقا کا ضامن

تحریر شئیر کریں

ایٹم بم ہماری بقا کا ضامن


ہم اس نبی کی امت ہیں جن کے گھر میں فاقے چل رہے ہوتے تھے مگرساتھ ہی ساتھ بہترین تلواریں ان کے گھر میں لٹک رہیں ہوتیں تھیں۔۔۔کہا جاتا ہے آپﷺ کا آخری وقت قریب آیا تو گھر میں چراغ جلانے کو تیل نا تھا مگر دیوار پر لٹکی نو بہترین تلواریں چیخ چیخ کر کہہ رہیں تھیں کہ فاقے سہومگر دشمن کے مقابلے میں اپنی طاقت اپنے گھوڑے اپنے ہتھیار ہمہ وقت تیار رکھو ۔۔۔نئیں تو بے موت مارے جاو گے۔۔۔پاکستان کا بھی یہی موٹو رہا “ہم گھاس کھائیں گے مگر ایٹم بم بنائیں گے”آج اس ایٹم بم نے دشمن کی نیندیں اڑا رکھی ہیں۔۔آج اسی ایٹم بم کی بدولت ہم سکھ کی نیند سوتے ہیں۔لبرل جان لیں کہ ایٹم بم نام ہے بقا کاایٹم بم تو جنگ کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ بھی ہے ۔۔۔۔تاریخ اٹھا کردیکھ لیجئے جاپان اور ناگا ساکی کے بعد یہ ایٹم بم چلے ہی کب ہاں جنگوں کے راستے کی رکاوٹ ضرور ہیں۔مجھے قرآن کی وہ آیت یاد آ رہی ہے

جس میں قصاص کے حکم کے بعد اللہ رب لعزت فرماتے ہیں کہ” اے عقل والوں قصاص میں تمہارے لیے زندگی ہے۔”اسلام انسانی جان کی حفاظت کا سب سے بڑا علم بردار ہے۔۔اس نے انسانی جان جیسی قیمتی چیز کی حفاظت کے لیے قصاص کا قانون بنایا۔۔۔یعنی جان کے بدلے جان جو کسی کو ناحق قتل کرے بدلے میں اسے بھی قتل کیا جائے تاکہ جان سوزی جیسے قبیح فعل کا سد باب ہو سکے۔۔۔۔اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں ایٹم بم سے ہی پاکستان کی بقا ہے۔


میں اسلام کے ناقدین کو بتا دینا چاہتی ہوں کہ اسلام کے پیروکاروں نے ہمیشہ جنگ ہو یا امن اخلاقیات کی پاسداری کی۔۔۔ ناقدین اشاعت اسلام کی بات کرتے ہیں تو تلوار کو حوالہ بناتے ہیں اور اخلاق کو پس پشت ڈال دیتے ہیں۔یہ سراسر علمی بددیانتی ہے۔۔۔مسلمان نے تلوار بعد میں اٹھائی ،اخلاقیات پہلے سیکھی۔۔۔۔میں ان ناقدین سے پوچھتی ہوں نبی کریمﷺ کی تیرہ سالہ مکی زندگی میں کوئی جنگ ہوئی تلوار نیام سے باہر آئی؟یہ وہ دور تھا جب مسلمانوں پر صعوبتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے تھے۔۔پھر بھی مسلمان ایک دوسرے کو۔صبر کی تلقین کرتے رہے۔صبر جمیل۔نبی کریم ﷺ کے بعد بھی ایسے جانشین آۓ جنہوں نے اپنے اعلی اخلاق سے لوگوں کے دل۔موہ لیے۔


محمد بن قاسم ہو یا صلاح الدین ایوبی جہاں بھی گئے اپنے اعلیٰ اخلاق سے لوگوں کے دل موہ لیے۔۔۔کہا جاتا ہے سندھ میں محمد بن قاسم کے اعلیٰ اخلاق اور رواداری کا وہ عالم تھا کہ ہندو ان کو اپنا اوتار ماننے لگے۔۔۔
میں ناقدین اسلام کو بتا دینا چاہتی ہوں کہ اسلام کل بھی سراپا امن تھا آج بھی سراپا امن ہے۔۔۔دنیا اگر امن کی تمنائی ہے تو اسے اسلام کے دامن میں پناہ لینی ہوگی۔۔۔اور ان کھوٹے سکوں کی پہچان کرنا ہوگی جو مسلمانوں کی صفوں میں گھس کر دہشت گردی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔
یوم تکبیر اعلان ہے “دشمن کے مقابلے میں اپنے ہتھیار تیار رکھو،یوم تکبیر اعلان ہے اگر اللہ کے اس حکم میں کوتاہی کرو گے تو بے موت مارو جاؤ گے۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں