397

منی کہانیاں

تحریر شئیر کریں

منی کہانیاں

عصمت دری کا قانون 

علیزے کی ماں نے ایک نظر منوں مٹی تلے سوئی علیزے کو دیکھا اور پھر آسمان کو۔۔۔ایک ہوک سی ااٹھی تھی اس کے سینے میں۔۔۔وہ کیسی ماں تھی جو بیٹی کےدفناۓ جانے کے تین بعد بھی چل پھر رہی تھی۔علیزے کی ماں نے اٹھنے کے لیے گھٹنوں پہ ہاتھ رکھا اور پھر بیٹھتی چلی گئ۔۔درد کی تیز لہر تھی جو اسے اپنے ساتھ بہاۓ لیے جا رہی تھی۔ااور اس کی سوچ ایک ہی نکتے پہ مرکوز تھی کہ پاکستان میں  عصمت دری کرنے والوں کو پھانسی پر لٹکاۓ جانے کا قانون کب منظور ہو گا ؟انصاف کا بول بالا کب گا؟

اصل ہیرو

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج ارطغرل غازی آ رہا تھا اس کا فیورٹ ہیرو۔۔۔تاریخ کا وہ عظیم سپہ سالار جس نے اپنی ہمت اور قوت یقین سے جھگیوں کو محل بنا ڈالا تھا۔لاہوریوں نے ارطغرل کے آنے کی خوشی میں گلیوں چراہوں کو روشن کر ڈالا تھا۔میں سوچ رہی تھی یہ تو ارطغرل کا بہروپ تھا اگر سچ مچ میں کوئی ہیرو مل جاۓ تو اس قوم کا کیا حال ہوگا؟پھر اس نے سچے دل سے دعا کر ڈالی تھی اس ہیرو کے لیے جس کی آمد کے لیے یہ امت افسانوں کے کرداروں پہ دم بھرنے لگی تھی۔کہ۔ اب تو آ ہی

ویکسین

۔۔۔۔۔۔

سنا ہے ویکسین آ گئ ہے۔علیزے نے بڑی خوشی سے دادو کو بتایا تھا۔پڑھائی لکھائی کی شوقین علیزے کو یہ لاک ڈاون میں سکول بند ہونا ایک آنکھ نا بھاتا تھا۔سو اس نے بڑی گرم جوشی سے سب کو بتایا تھا۔گویا ویکسین حل تھی کرونا وائرس کا۔نا رہے گا بانس اور نا بجے گی بانسری۔

یہ بھی پڑھیے

لمس محبت

پر دادا ویکسین کے نام پر گم سم سے ہوگۓ تھے۔ہونا بھی چاہیے۔اگرکرونا کی آڑ میں نیوورلڈ آرڈر کو لاگو کیا جا رہا ہےتو کیا مسلمانوں کے لیے اس کا لگوانا جائز ہے؟سوال نہیں تھا ایک دجالی فتنہ تھا جو اژدھے کی طرح منہ کھولے ہم سب کی طرف بڑھ رہا تھا۔

منی کہانیاں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں