249

ہیلن کیلر ایک نابینا خاتون

تحریر شئیر کریں

ہیلن کیلر ایک نابینا خاتون

تحریر : لبنٰی جمشید

ہم میں سے بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنی کسی بھی بیماری کو خاطر میں نہ لاتے ہوۓ ہر فن مولا ہوں۔ ان میں سے ایک ایسی امریکی خاتون بھی شامل ہیں جنہیں اگر اپنی ذات میں ایک عجوبہ قرار دیا جاۓ تو غلط نہ ہو گا۔ ان خاتون کا نام ہیلن کیلر ہے. وہ 27 جون 1880 کو امریکی ریاست الاباما میں پیدا ہوئیں۔ بد قسمتی سے دو سال کی عمر میں بیماری کا شکار ہو کر دیکھنے سننے اور بولنے کی صلاحیت کھو بیٹھیں تھیں۔ ان کے والدین کے لیے یہ انتہائی صدمہ تھا۔ انہوں نے مختلف ڈاکٹرز سے مشاورت کی اور بالآخر 9 سال کی عمر میں ایک کامیاب آپریشن کے بعد قوت گویائی تو لوٹ آئی لیکن ساری عمر نابینا اور بہرے پن کے ساتھ گزاری۔

تعلیمی قابلیت

ہیلن کو آٹھ سال کی عمر میں اسکول میں داخل کروایا گیا اور دس سال کی عمر میں قوت گویائی لوٹ آنے کے بعد انہیں ٹائپ رائیٹر اور بریل پر مہارت ہو چکی تھی۔ 16 سال کی عمر میں ان کی استاد فیلڈ سیلیوان (جن سے ملاقات گراہم بیل کے توسط سے ہوئی تھی) کی مدد سے بلا توسط باتیں کرنا اور مطالعہ شروع کردیا ۔ وہ ریڈ کلف کالج میں زیر تعلیم تھیں۔جہاں 1904 میں ہارورڈ یونیورسٹی کے زریعے گریجویشن پاس کیا۔ یہ ان کی فیملی کے لیے انتہائی قابل فخر بات تھی۔

پروفیشنل کامیابیاں

ہیلن کی مہارت کے شعبوں میں سیاست سر فہرست ہے. وہ ”سوشلسٹ پارٹی آف امریکہ“ کے ساتھ منسلک تھیں۔ اور سیاسی سوجھ بوجھ کی بنا پر بہت جلد اپنا مقام بنایا۔
اس کے علاوہ وہ بارہ کتابوں کی مصنفہ ہیں۔ جن میں آپ بیتیاں, مضمون نگاری اور افسانہ نگاری شامل ہے۔
ان کی اہم کتابوں میں The story of my , life
The world i live in اور
Light in my darness
شامل ہیں۔

اس کے علاوہ وہ ماہر لسانیات بھی تھیں. ایک امریکی ادارے کی جانب سے مختلف ممالک کے میں لیکچرز دئے وہاں کے سفر کے دوران اپنے احساسات بھی قلمبند کیے ہیں۔ انہوں نے 40 ممالک کے دورے کیے اور سب سے زیادہ پزیرائی جاپان کے لوگوں میں ملی۔

یہ بھی پڑھیں

“خواتین کے ڈرائیونگ اسکول”

گھریلو خواتین کے لیے ضروری چیزیں

ہیلن نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ معذور افراد کی فلاح و بہبود اور ان کی تعلیم و تربیت کےلیے بھی وقف کیا جس کا ذکر وہ اپنی آپ بیتی میں کرتے ہوۓ کہتی ہیں کہ” بلاشبہ یہ کام میری زہنی آسودگی اور روح کی سرشاری کے لیے تھا“

اعزازات

1910 میں لیبر ہال آف ہانز سے نوازا گیا۔
صدارتی تمغہ 1964 جبکہ ان کی صلاحیتوں کے عوص لیجن آف آنر کا اعزاز بھی دیا گیا۔

ہیلن کی خداداد صلاحیتیں

کہا جاتا ہے کہ ہیلن کے پاس انگلی کے لمس کی ایک ایسی طاقت موجود تھی جس کو چھونے سے وہ مقابل کے ہونٹوں سے نکلے الفاظ کو بھانپ لیتی تھی۔ یہ بلاشبہ ایک خداداد صلاحیت ہے. وہ گفتگو کے دوران بولنے والے کے ہونٹ کر انگی رکھتی اور من و عن اس کا مدعا بیان کر دیتی۔

اس کے علاوہ موسیقی میں بھی اس کی دلچسبی تھی وہ گا تو نہیں پائی لیکن موسیقی کے اسرار و رموز سے خوب آگاہی حاصل تھی۔

ہیلن کو انگریزی, فرنچ, جاپانی اور لاطینی زبان پر مکمل عبور حاصل تھا۔

مایوسی کی دلدل کی بجائے اس کی آگاہی کی روشنی کا استعمال کیا اور دنیا کے تمام افراد کے لیے ایک مثال چھوڑی۔

ہیلن کیلر کی وفات 1 جون 1968 کو واشنگٹن میں معمولی سی بیماری کے دوران ہوئی ۔

کیسے ہیرے تھے خاک میں پنہاں ہوۓ
مگر زمانےکے لیے وہ مشعل راہ ہوۓ

ہیلن کیلر ایک نابینا خاتون

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں