331

نفسیاتی مریض

تحریر شئیر کریں

نفسیاتی مریض کہانی ہے اس معاشرے کی

دل بے حد پشیمان تھا۔کیا ایسا بھی ہوتا ہے جو قصور خود کریں وہی دوسروں پہ تھوپ دیں۔اسے لگتا تھا وہ دنیا کی واحد لڑکی ہے جس کے ساتھ شادی کے بعد یہ سلوک رواں رکھا گیا ہے۔حالانکہ نوے فیصد لڑکیاں کمپرو مائز کیے بیٹھی ہیں۔ان کے ساتھ بھی تھوڑے بہت فرق سے وہی کچھ ہوتا جو بانو کے ساتھ ہو رہا تھا۔

بانو لفظوں رنگوں سے کھیلنے والی جب سسرال آئی تو پتہ چلا کہ دنیا اس قدر ظالم بھی ہو سکتی ہے۔وہ وہ کچھ سننا پڑتا جس کا گماں نہیں ہوتا۔بانو کا پالا ایک کم پڑھے لکھے روایتی سسرال سے پڑا تھا۔جہاں برانڈڈ سوٹ پہن کے سمجھا جاتا ہے کہ وہ اب کافی تہذیب یافتہ ہوگۓ ہیں۔ان کو کون بتاۓ کہ برانڈڈ سوٹ پہن لینے سے بندہ ترقی یافتہ نہیں ہو جایا کرتا۔اس کے لیے سوچ بدلنا پڑتی ہے۔

ماجرا کچھ یوں تھا کہ بانو کہ سسرال میں صفائی ستھرائی کے معاملے میں کافی حساسیت پائی جاتی تھی۔ابھی کل ہی کی بات تھی جب بانو برتن دھونے کے لیے سنک پر آئی تو اس کی بڑی نند بھی آن کھڑی ہوئی پہلے تو پورسٹ مارٹم۔کرتی نظروں سے اسے دیکھتی رہی ایسے نظریں جس میں بندہ قصوروار ہوتے ہوۓ بھی قصور وار ٹھہرایا جاتا ہے بس جی پھر کیا ہو گیا کام شروع۔۔۔نند کا حکم نامہ تھا نا ماننے کی مجال کہاں تھی۔بقول نند کے ان کے ہاں برتن ایسے نہیں دھوۓ جاتے۔ایک کوچی برتن کو اندر سے صاف کرنے کے لیے تھی اور ایک باہر سے ۔۔۔بانو کی سمجھ میں نا آیا کہ ایسا کیوں؟پورے چوبیس گھنٹے لگے اسے وجہ تلاش کرنے میں،وہ بھی ساس کے کہنے پہ کہ میں جب بیاہ کر اس گھر آئی تو میری ساس نے بھی یہی کہا تھا۔شروع شروع میں مشکل ہوئی مگر پندرہ سال بعد جب ساس فوت ہوئیں تو میں خود عادی ہو چکی تھی۔

بانو جس نے تازہ تازہ بی ایس سی سائیاکلوجی کی ڈگری لی تھی ۔اور شادی کے بعد ایک دم سے سسرال میں وہ سارے سائکالوجیکل مسائل جو کتابوں میں پڑھے تھے۔حقیقت میں دکھائی دینے لگے تو پھر مشورہ تو بنتا نا؟یہ کہاں کا انصاف ہے کہ بندہ اپنا علاج نا کرواۓ اور آنے والا کو بھی وہ بیماری لگوادے۔بس یہی غلطی ہوئی تھی بانو سے بیچاری اپنی نند کو کہہ بیٹھی کہ آپ سب کو نفسیاتی مسئلہ ہے صفائی کا،آپ لوگ اس کا علاج کروائیں۔نند کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا۔کہ ابھی ایک ہفتہ پہلے بیاہ کر آنے والی کیسے ان کو پاگل کہہ کر علاج کا مشورہ دینے بیٹھ گئ۔حالانکہ بات غلط نہیں تھی۔مگر مقام غلط تھا۔نند بھاوج سے کہتی تو بھی ٹھیک تھا۔ساس بہو سے کہتی تو بات بنتی بھی تھی۔مگر کہہ کون رہا۔بھاوج نند سے۔۔۔تو مقام تو نا ہوا نا؟؟؟،

یہ بھی پڑھیے

گہرے سانس کی مشقیں کس طرح ڈپریشن سے بچاتیں ہیں؟

اب بانو پچھلے تین دن سے اپنے میکے میں تھی۔نہیں نہیں آپ غلط سمجھے روٹھ کر نہیں آئی بلکہ گناہ عظیم کرنے کے جرم میں میکے بھیج دی گئ تھی۔وہ بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔۔۔۔نا رہے بانس اور نا بجے گی بانسری۔۔۔نفسیاتی مسائل کا شکار لوگ کر بھی کیا سکتے تھے۔ایک جیتی جاگتی خواب دیکھنے والی لڑکی چپ کی تصویر بنی بیٹھی تھی۔کس کو دوش دیتی اپنی بی اہس سی سائیاکلوجی کی ڈگری کو،اپنی حساس طبیعت کو جو کسی کی پریشانی دیکھ نہیں پاتی تھی یا اپنے نصیب کو ۔۔۔۔۔

نفسیاتی مریض کہانی آپ نے پڑھی۔کیا سمجھ آیا کمنٹ میں جواب دیجیے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں