330

ماں کی گود بہترین تھراپی

تحریر شئیر کریں

ماں کی گود بہترین تھراپی جانیء قلم کتاب پر

ماں کائنات کا انمول تحفہ

ماں کائنات کا سب سے انمول تحفہ ہے جس کا نعم البدل کوئی نہیں۔جس کی محبت کو خالق نے اپنی محبت کو جانچنے کا پیمانہ بنایا۔یقینا کچھ نہیں بہت ہے کچھ ہے ماں کی آغوش میں جبھی تو نبیوں نے تمنا کی ہے اور ترسے ہیں ماں کی محبت کے لیے،جدید سائنس اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ ماں کی آغوش بہترین تھراپی ہے۔

مائیں مضبوط ، سخت ، محبت کرنے والی ، حفاظت کرنے والی اور دینے والی ہوتی ہیں – ماؤں کے بارے میں کچھ دلچسپ حقائق

1-ماں پاگل بھی ہو جائے تب بھی اپنی اولاد کو نہیں بھولتی۔

2-جدید سائنس کے مطابق ماں کی آواز سننا ہی ڈپریشن کم دیتا ہے۔

3-انسان کی مسکراہٹ عموما ماں سے مشابہہ ہوتی ہے کیونکہ بچہ سب سے زیادہ اپنی ماں کو دیکھتا ہے۔

4-دنیا میں ایک سوبائیس ارب انسانی مائیں موجود ہیں۔

5-ہر سال ایک سوبلین سےبزائد کالز ماوں کو کی جاتیں ہیں۔

6-بچے جو پہلا لفظ بولتے وہ ایم یعنی میم کی آواز سےشروع ہوتی ہے جو کہ ماں کی آواز ہے۔

7-بچہ سب سے پہلے جس آواز کو سنتا ہے وہ ماں کے دل کی دھڑکن ہے اور سب سے پہلے جس آواز کو سنتا پہچانتا ہے وہ بھی ماں کی آواز ہے۔تیس ہفتوں کی ہریگننسی کے بعد بچے کے اندر سننے کی حس ڈویلپ ہونا شروع ہوتی ہے۔

ماں بچه اور کتاب

8-ماں کے لعاب کے حوالے سے جدید تحقیق نے ثابت کیا ہے

کہ جن بچوں کی ماں کا تھوک یعنی لعاب بچوں کے اندر جاتا ہے۔ ان کے اندر دمہ اور الرجی پیدا کرنے والی اینٹی باڈیز ختم ہوجاتیں ہیں۔

9-ماں کا دودھ خود ایک معجزہ ہے بہترین خوراک جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔ایشیا کے لوگوں پہ۔ریسرچ کی گی کہ ان کی ذہانت کا راز کیا ہے؟پتہ چلا یہ ماں کا دودھ پیتے ہیں۔ان کےاندر بیماریوں سے لڑنے کی قوت زیادہ ہوتی ہے۔الغرض ماں کے دودھ کے اتنے فوائد ہیں کہ الگ سے آرٹیکل لکھا جا سکتا ہے۔

ماں کی گود بہترین تھراپی کیسے؟


10-ماں کی گود سے بہتر جگہ کوئء اور نہیں۔ماں کی گود بہترین تھراپی ہے۔اس حوالے سے اشفاق احمد کا واقعہ بہت خوبصورت ہے وہ کہتے ہیں کہ میری شادی کو دوسال۔ہو گئے تھے۔میرا ایک سال کا بیٹا تھا ایک رات میری اور میرے بیٹے دونوں کی طبیعت خراب تھی۔کمرے میں تین لوگ تھے میں میری بیوی اور بچہ،مگر اس وقت مجھے لگا کہ کمرے میں صرف میرا بچہ ہے اور اسکی ماں۔میری ذات جیسے تھی ہی نہیں۔ماں کے سامنے اس کا بچہ ہو وہ بھی تکلیف میں شوہر بھی دکھائی نہیں دیتا یہ۔سچ ہے۔اس رات میں نے سوچا کہ شوہر بیویوں سے محبت کرتے ہیں اور بیویاں اپنے بچوں سے،کسی نے سچ کہا ہے کہ بیوی جب ماں بنتی ہے تو پھر وہ بیوی نہیں رہتی سرتاپا ممتا کے جذبے سے لبریز رہتی ہے۔اس انکشاف کے بعد بے ساختہ میرے قدم اپنی ماں کے دروازے کی طرف بڑھ چکئے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں