288

خواتین میں ڈپریشن

تحریر شئیر کریں

خواتین میں ڈپریشن کی وجوہات جانیے قلم کتاب پر

گہرے سانس کی مشقیں کس طرح ڈپریشن سے بچاتیں ہیں؟

  • اداسی، پریشانی یا موڈ میں “خلاء” سا محسوس ہونا
  • ناامیدی کی کیفیت
  • چڑچڑاپن
  • احساس جرم، مایوسی، کم مائیگی کا احساس
  • توانائی میں کمی یا تھکاوٹ
  • بے خوابی یا جاگنے میں مشکل یا زیادہ سونا
  • روزمرہ کاموں میں عدم دلچسپی
  • حرکات اور گفتگو میں واضح سستی
  • بے چین توجہ کے ارتکاز، قوت فیصلہ اور یادداشت کا متاثر ہونا بھوک نہ لگنا، وزن میں کمی
  • شدید کیسز میں موت اور خودکشی کے خیالات
  1. یہ ایک حقیقت ہے کہ خواتین میں ڈپریشن کا مسئلہ مردوں کی نسبت زیادہ ہوتا ہے. اسکی وجہ ہے انکے مخصوص ہارمونز، جینز اور ماحول کا اثر لینے کا مردوں سے مختلف طریقہ… مزید تحقیقات جاری ہیں کہ وہ کون سے جینز یا ہارمونز ہیں اور کس طرح سے ان پر اثر انداز ہوتے ہیں. بالخصوص ماہواری سے ہفتہ، دس دن قبل، بچے کی پیدائش کے معاً بعد اور ماہواری بند ہونے کی عمر میں یہ مسئلہ زیادہ ہو جاتا ہے کیونکہ ان ادوار میں ہارمونز کے لیولز میں کافی زیادہ اتار چڑھاؤ ہوتا ہے…
    بہرحال کہنے کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ خواتین میں یہ ایک سنجیدہ اور اہم مسئلہ ہے…
  2. اسکی علامات بالعموم یہ ہوتی ہیں:

بالخصوص اگر یہ علامات مسلسل دو ہفتے یا اس سے زیادہ عرصہ تک رہیں تو

  1. اگلی اہم بات یہ کہ اکثر اسکی بظاہر کوئی بیرونی وجہ نہیں ہوتی. ہم ان سے پوچھتے رہ جاتے ہیں کہ تمہیں کیا چیز پریشان کر رہی ہے. کچھ تو بتاؤ… وغیرہ وغیرہ… حالانکہ بیچاریوں کو خود نہیں پتہ ہوتا کہ انکے ساتھ ایسا کیوں ہو رہا ہے. بلکہ یہ ایک اضافی مسئلہ بن جاتا ہے کہ اول تو وہ پہلے ہی ڈپریشن کا شکار ہیں، اوپر سے آپ وجہ جاننے کیلئے زور لگا رہے ہیں اور وہ سمجھتی ہیں کہ یہ شاید انکا اپنا قصور ہے اور گھر والے سمجھتے ہیں کہ شاید ڈرامے کر رہی ہے… تو کہنے کا مقصد یہ ہے کہ یہ کافی گھمبیر صورتحال بن سکتی ہے اگر حکمت کے ساتھ نہ نبٹا جائے تو…
  2. پھر ہمارے ہاں خواتین ان علامات اور احساسات کا اظہار کرنے سے بھی کتراتی ہیں کیونکہ انہیں منفی طریقے سے جج کیا جاتا ہے. بالخصوص جوائنٹ فیملی سسٹم میں تو حالات مزید پیچیدہ ہو جاتے ہیں. ساس بہو، نند بھابھی، دیورانی جیٹھانی وغیرہ کے جھگڑے زیادہ ہو جاتے ہیں، خاص طور پر اگر شوہر ناسمجھ ہو اور توازن قائم رکھنے سے نابلد
  3. ان سب باتوں کی موجودگی میں جلتی پر تیل کا کام کرتے ہیں ہمارے فرسودہ خیالات، توہمات اور کم علمی. یاد رکھیں:

یہ ایک حقیقی مرض ہے… دیگر تمام بیماریوں کی طرز
یہ ممکن نہیں کہ آپ انہیں کہیں، “بس چھوڑو، ایسے مایوسانہ خیالات پر توجہ نہ دو.”…. اور وہ اگلے ہی لمحے ٹھیک ہو جائیں. انگریزی میں کہیں تو،
You can’t just snap out of it

.. اسکا مذہب، عبادات اور عقائد کے ساتھ تعلق جوڑنا قطعاً ضروری نہیں. یہ درست ہے کہ جو اللہ سے دور ہوتے ہیں، انہیں ذہنی سکون نہیں ملتا. لیکن اسکا یہ مطلب ہرگز ہرگز نہیں کہ ڈپریشن کا ہر مریض اسلیے ڈپریسڈ ہے کیونکہ وہ اللہ سے دور ہے. یا یہ کوئی سزا ہے. یا اسکے ایمان کی کمزوری ہے. خدارا اس معاملے میں مذہب کو بیچ میں نہ لائیں. روحانی علاج کریں لیکن اسے روحانیت کی کمی پر محمول نہ کریں. یہ باریک فرق جاننا انتہائی ضروری ہے. اس صورتحال میں اکثر عبادات، مثلاً نماز وغیرہ میں بھی دل نہیں لگ رہا ہوتا اور مریض کیلئے بہت مشکل ہوتا ہے ان فرائض کو ادا کرنا. ایسے میں انہیں سہارے کی ضرورت ہے، طعنے کی نہیں..

  1. آخر میں اہم ترین باتیں علاج کے حوالے سے…

.. ایسے میں خواتین کو شوہر کی بہت زیادہ سپورٹ درکار ہوتی ہے. انہیں بلیم نہ کریں. بلکہ سمجھنے کی بھی کوشش نہ کریں. زیادہ مشورے بھی نہ دیں. انکے ساتھ وقت گزاریں… سیر کرائیں، پیار محبت کی باتیں کریں، لطیفے سنائیں، گانے سنائیں…. (کل میرے سریلے گانے سن کر بیگم کے موڈ پر نہایت خوشگوار اثرات مرتب ہوئے…. خبردار جو کوئی ہنسا… میں واقعی بہت اچھا گاتا ہوں)…

خواتین میں ڈپریشن کی بڑی وجہ بھی شوہر حضرات ہیں اور علاج بھی ابہی کے پاس
ہر عورت مختلف ہوتی ہے. آپکو پتہ ہونا چاہیے کہ آپکی بیوی کیا چاہتی ہے. کونسی باتیں اسے خوش کرتی ہیں اور کون سی بری لگتی ہیں… یقین کریں کہ اس میں آدھے سے زیادہ معالج آپ خود ہیں، بطور شوہر… گھر والوں کو بھی سمجھائیں کہ بیگم مشکل دور سے گزر رہی ہے، جلد بہتر ہو جائے گی.. (ماہواری سے قبل، چھلے کے دن اور ماہواری بند ہونے والے ادوار خاص طور پر یاد رکھیں)

اگر علامات کی شدت زیادہ ہو تو کسی سائیکالوجسٹ یا سائیکاٹرسٹ کولازماً چیک کرائیں. یا علاج کا کوئی بھی طریقہ جو آپ بہتر سمجھتےہیں… لیکن کسی بھی دوسری بیماری کی طرح اسکا علاج لازماً کروائیں… اور خواتین بھی اس معاملے میں کسی قسم کی شرم یا یچکچاہٹ محسوس نہ کریں

  1. مریض کو تلقین کی بجائے اپنا تعلق اللہ سے مضبوط کریں، توبہ استغفار اور صدقہ کریں. اور اس سے دعا اور گفتگو کو معمول بنائیں کیونکہ اصل شفاء تو وہیں سے آنی ہے. عین ممکن ہے کہ یہ مریض کی بجائے آپکے کسی گناہ کی سزا ہو، یا پھر آزمائش…

اللہ مستعان

(ڈاکٹر رضوان اسد خان)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں