232

مظلوم

تحریر شئیر کریں

مظلوم

پھر یوں ہوا کہ جوں جوں فروری کا مہینہ ختم ہو کر مارچ نے اپنی اُڑان بھری ہمیں ماحول میں کہیں سرگوشیوں اور کہیں نعروں کی شکل میں آوازیں سنائی دینے لگیں۔ ’’آذادی، برابری، مساوات، مرضی اور جانے کیا کیا‘‘ ابھی ہم کان لگائے سننے کی کوششوں میں ہی تھے کہ ایک روز صبح صبح میاں کی آواز کانوں میں پڑی۔ ’’بھئ آج میں فارغ ہوں؛ کہیں تو بازار کے کام نمٹالیں۔ دراصل بچوں کی ضرورت کی کچھ چیزیں اور کپڑے لینے تھے اور یہ بات ہم نے اپنے میاں صاحب کے کان میں ڈال دی تھی۔

اب جبکہ بینک میں تنخواہ آنے کی خوشخبری موصول ہوئی تو ساتھ ہی ساتھ بازار چلنے کی نوید بھی سنائی۔ ہم نے جلدی جلدی گھر کے کام سمیٹے، کھانا کھلایا اور کھایا، نماز ادا کی اور بازار کا قصد کیا، ہاتھ میں فہرست اور بیگ میں میں بچوں کے ناپ کے کپڑے رکھے ہم کئی دکانوں میں پھرتے رہے، کہیں سائز نہیں تو کہیں مطلوبہ رنگ کی چیز نہیں، کہیں بیٹوں کی شرٹس مل گئیں تو بیٹی کی فراک کے لئے بابا سے بےبی کی دکانوں کا رُخ کیا۔ میاں صاحب کے والٹ سے پیسے نکلتے گئے اور دکانداروں کی جیبوں میں جاتے گئے۔ گھومتے گھومتے جب ٹانگیں دُکھنے لگتیں تو اِدھر اُدھر نظر دوڑانے پر دُکان میں ایک ہی کُرسی بعض اوقات نظر آتی تو جہاں دوکاندار ہماری جانب بڑھا دیتا کہ ’’باجی اُس پر بیٹھ جائیے‘‘

وہاں میاں صاحب بھی ہماری جانب بڑھادیتے، سارا وقت سامان کے شاپنگ بیگ بھی سنبھالنے کی ذمہ داری بھی میاں ہی کی تھی۔ اب جہاں گرمی کی حدت ہمیں نڈھال کررہی تھی تو پیاس کی شدت حلق میں کانٹے ڈال رہی تھی۔ بیگ میں رکھی پانی کی بوتل بھی چوں کہ گرم ہوچکی تھی لہٰذا ایک جگہ ٹھنڈا فریش جوس بھی نکلوا کر پیا۔ پورے بازار میں ہمیں باعزت ہونے کا احساس رہا جہاں سے گُزرتے مرد حضرات فوراً راستے سے ہٹ جاتے۔ آخرکار شاپنگ تمام ہوئی اور کام مکمل ہوا، ابھی گھر جانے کی ٹھانی ہی کہ میاں صاحب کو سامنے آئسکریم پارلر نظر آیا، ہمارے منع کرتے کرتے بھی وہ دکان میں داخل ہوگئے، یہاں چونکہ سیلف سروس تھی سو اندر داخل ہو کر مناسب سی ہم نے سیٹ سنبھالی اور وہ ہمارا پسندیدہ فلیور پوچھ کر آئسکریم لینے چل دئیے۔ پندرہ منٹ لائن میں لگ کر آئسکریم کی ٹرے سنبھالے جب تک وہ واپس آئے ہم آس پاس کا جائزہ لیتے رہے۔

کئی خاندان وہاں موجود تھے۔ کچھ بچوں کے ساتھ اور کچھ اپنے دیگر اہلِ خانہ کے ساتھ خواتین اور بچے اپنی نشست پر بیٹھ جاتے تو اُن کے مرد حضرات آئسکریم لینے چلے جاتے اور تھوڑی دیر میں ٹرے اُٹھائے مختلف ذائقوں کے رنگ برنگی آئسکریم کپ اورکون لئیے چلے آتے، ہم نے بھی اپنی آئسکریم کھائی اور ابھی گاڑی کی جانب بڑھے تو میاں جی نے تشویش سے ہماری جانب دیکھا اور بولے ’’آپ تو بہت تھک گئی ہوں گی اب کہاں گھر جاکر رات کا کھانا بنائیں گی۔ چھوڑدیں میں سامنے سے کباب پراٹھا لے آتا ہوں، یہاں اچھا ملتا ہے۔‘‘ ہم نے بہت شورمچایا آجکل باہر کی چیزیں نہیں کھانی چاہیئے نجانے کس طرح پکاتے ہیں۔ ویسے بھی وائرس پھیلا ہوا ہے۔ ہم کہتے رہ گئے کہ گھر میں قیمہ مصالحہ لگا ہوا رکھا ہے

صرف چولہے پر رکھنے کی دیر ہے۔ آدھے گھنٹے سے بھی کم میں بن جائے گا لیکن وہ نہ نہ کی تکرار کے ساتھ ہمیں گاڑ ی میں بٹھا کر لینے چلے گئے۔ واپس آنے پر ابھی چلے ہی تھے کہ تھوڑے ہی فاصلے کے بعد اندازہ ہوا کہ گاڑی کا ٹائر پنکچر ہے اب مرتا کیا نہ کیا سائیڈ پر گاڑی روکی، کہیں سے ڈھونڈ ڈھانڈ کر کُرسی حاصل کی، اب ہم ہوادار جگہ پر بیٹھے انتظار کرتے رہے اور وہ پسینہ پسینہ ٹائر تبدیل کرنے میں لگے رہے۔ خیر آخرکار گھر پہنچ کر سکون کا سانس لیا، شاپنگ ٹھکانے لگائی، بچوں کے سوالوں کے جواب دئیے، یوں دن گزرا۔ جب رات کا کھانا بچوں کو کھلا کر بیٹھے تو سامنے اسکرین پر ٹاک شو چل رہا تھا۔ ’’آٹھ مارچ خواتین کا دن، ظلم و ستم سے نجات کا دن، ہمیں آذادی چاہیئے، مردوزن کی مساوات ہو، اب ہماری مرضی چلے گی، مردوں کی غلامی قبول نہیں، اب بہت ہوگیا مردوں کا جبر،‘‘ غرض یہ کہ مردوں کی ہر شکل سے نفرت کا اظہار تھا اور ہم شرمندہ شرمندہ کن انکھیوں سے میاں کو دیکھ رہے تھے۔

مدیحہ صدیقی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں