441

تحریر کو قابل اشاعت کیسے بنایا جائے؟

تحریر شئیر کریں

تحریر کو قابل اشاعت کیسے بنایا جائے؟
تحریر لکھنا اگر ایک فن ہے تو اسے قابل اشاعت بنانا ایک الگ فن جس کو جاننا اور اس پر عمل کرنا آپ کو ایک نامور مصنف بنا سکتا ہے
جس اخباری جریدے اور بلاگ کے لیے آپ لکھ رہے اس کے بارے میں ابتدائی تحقیق کریں کہ یہاں کس طرح کی تحریریں پبلش ہوتی ہیں طویل یا مختصر زبان سادہ ہوتی ہے یا ادبی ،وغیرہ اس کے علاوہ اگر آن لائن بلاگ کے لیے لکھ رہے تو اس کی تقاضے الگ ہوتے ہیں۔

سردست ہمارا موضوع ہے کہ وہ کون سے اصول ہیں جس سے تحریر کے قابل اشاعت ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

حق پر مبنی ہو

حق بات کہنا سیکھیں۔بلاشبہ یہ بڑی ہمت کا کام ہے حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ سب سے بڑا جہاد جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہنا ہے جدید دور میں سچ بھی کہنا اور جابر سلطان کے پنجہ عذاب سے بھی بچنا ہے تو حق کو اگر تھوڑا سا شوگر کوٹڈ کر لیا جائے تو یہ حق چھپانا یا بزدلی نہیں بلکہ اس کو حکمت اور دانائی کہاجاتا ہے مثلا طالبان پہ آن لائن لکھ رہے ہیں اور پلیٹ فارم ہے فیس بک تو اس کی حکمت عملی یہ ہوگی کہ طالبان کو ط ا ل ب ا ن یعنی توڑ کر لکھیں تاکہ آپ کی تحریر سنسر ہونے سے بچ سکے۔

تحقیق ضرور کریں


جو کہہ رہے اس کی تحقیق کر لیں سائرہ اعون کہتی ہیں تحقیق تجربہ مشاہدہ اور تسلسل آپ کی تحریر کو چار چاند لگا دیتے ہیں۔۔تحقیق کا فائدہ ہے کہ اعداو شمار اور ضروری معلومات کی چانچ پڑتال ہو سکے۔


تحقیق کا آصول جہاں آپ کی تحریر کو جان دار بناتا ہے وہاں آپ کو ایک کامیاب محقق بھی ،تحقیق یہ ہے کہ اگر آپ کا موضوع ہے کہ بلاگ کسے کہتے ہیں ؟تو بلاگ کے حوالے سے ایک سمری بنائی جائے پھر اس کا نچوڑ کیا جائے ؟اس کے لیے نوٹس بنائیں اور روزانہ کی بنیاد پر جو آئیڈیاز ہیں ان پر سرچ کریں اور نوٹ کرتے جائیں۔موبائل میں نوٹ بک یا نوٹس کے نام سے ایپ ڈاون لوڈ کریں اس میں مختلف۔کٹیگریز بنائیں اور نوٹ کرتے جائیں موبائل کی مدد سے لکھنا سیکھنا اور اس لکھے ہوئے کو منظم کرنا اور تحقیق کے عمل سے گزارنا بہت آسان ہو گیا ہے۔ہر چیز گوگل پہ موجود ہے کسی بھی نئ یا پرانی چیز کے بارے میں تحقیق کر سکتے ہیں۔

تحریر میں دلکشی پیدا کریں

تحریر دلکشی میں یہ کہ آپ کا فقرہ چھوٹا ہومبہم نا ہوواضح ہو،مثلا علامہ اقبال سیالکوٹ میں پیدا ہوئے ۔انکی تاریخ پیدائش فلاں ہے۔۔لمبے فقرے کی بجائے چھوٹے فقروں میں لکھیں الفاظ کی ترتیب کا دھیان رکھیں آئندہ آنے والے دنوں کی بجائے آئندہ دنوں میں ٹھیک فقرہ ہےاشیائے ضرورت کی اشیاء سستی کی جائیں کی بجائے اشیائے ضرورت سستی کی جائیں الفاظ کو استعمال کرتے وقت اگر مطلب معلوم نا ہو تو معلوم کر لینا چاہیےلغت سے استفادہ کرنے کی عادت بنائیں۔تحریر سادہ ہومحاوروں پہ عبور حاصل کریں۔تحریر واضح ہو ہچیدہ نا ہو۔۔مغلق بند کر دینے والے الفاظ کا استعمال نا کریں تحریر میں دلکشی پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ذومعنی الفاظ سے بھی گریز کریں۔۔تحریر کو اتنا دلکش بنائیں کہ اس سے ذہںن و دل کے دریچے وا ہو جائیں۔

کبھی اصولوں پہ سمجھوتہ نا کریں

ناقابل اشاعت تحریر میں یہ بھی ہے کی ادارے کی پالیسیوں کا دھیان رکھیں مگر اداروں کے مطابق اپنی اصول نہیں بدلنے چاہیے ۔۔آپ کا مضبوط ہتھیار دلائل سے قائل کرنا ہےآپ میں اتنا دم ہونا چاہیے کہ اداروں کو قائل کر سکیں اسی طرح حق بات پر بھی کبھی مداہنت نا کریں۔

یہ وہ اصول ہیں جو کسی بھی تحریر کو قابل اشاعت بناتے ہیں۔اگر ان پہ عمل پیرا ہوں گے تو آپ کی تحریر کو اشاعت میں جگہ ضرور ملے گی۔ایسی چیزوں سے اجتناب کریں جس سےقوانین کی خلاف ورزی ہو۔

تحریر کو قابل اشاعت کیسے بنایا جائے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں