174

شہدائے پشاور کے نام

تحریر شئیر کریں

ماں کی فریاد

شہدائے پشاور کے نام

تحریر: آمنہ راجپوت
اپنا دکھ کس کو بتاؤں اور کیسے چھپاؤں
میرے لخت جگر کو ایسے خون میں نہلایا گیا،
میری زندگی تب سے بے مقصد سی لگتی ہے مجھے۔
جب سے میرا بیٹا لت پت خون میں لایا گیا،
وہ نہ جانے کی ضد کرتا رہا میں نے اس کو بھیج دیا۔
دل میں اب درد ہے بس ابدی نیند اس کو سلایا گیا،
کلیجہ میرا کٹ سا گیا آنسو میرے رواں ہوئے۔
جب میرے بیٹے کو سفید لباس میں لایا گیا،
دن رات گزرتے ہیں اب انہی سوچوں میں۔
کتنا دردناک تھا وہ دن جب ابدی نیند اسے سلایا گیا،
اپنا دکھ کس کو بتاؤ کروں کیسے بیان!
میرے پھول کو جب منوں مٹی میں دفنایا گیا،

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں