177

امتحان میں کامیابی کے راز

تحریر شئیر کریں

امتحان میں کامیابی کے راز

امتحان قریب آتے ہی بچے بہت خوف زدہ ہوجاتے ہیں، کہ تیاری کیسے کریں؟ ایسا کیا کریں کہ کامیاب ہوجائیں۔

امتحان ایسی چیز ہے جس میں نالائق شاگرد جو پورا سال نہیں پڑھتا اسے بھی امتحان کے دنوں ہوش آتا ہے اور وہ اچھے نمبروں کے لئے محنت کرتا ہے۔

مگر امتحان سے ایک دن پہلے کی پڑھائی میں کوئی فائدہ نہیں ہوتا جب پورا سال نہ پڑھا ہو۔
وہ سٹوڈنٹ بھی ہیں جو پورا سال بھی پڑھتے ہیں مگر پھر امتحان کے دنوں بھول جاتے ہیں اور وہ بہترین نمبر سے کامیاب ہو نہیں پاتے۔ تو ان بچوں کے لئے کچھ آسان طریقے ہیں جس پر عمل کر کے بچہ امتحان میں کامیاب ہوسکتا ہے

امتحان میں کامیابی کے تین گر

امتحان میں کامیابی کے لئے تین چیزیں بہت ضروری ہیں

خود کو سمجھیں اور سمجھائیں

ایک یہ کہ آپ کو پڑھنے کا طریقہ پتا ہو کہ میں کس طرح پڑھوں گا جس سے یاد ہوجائے آپ اپنے ذہن کے مطابق پڑھیں اگر آپ کو لکھ کر یاد ہوتا ہے لکھ کر یاد کریں۔ بہتر طریقہ ہے آپ خود کو سمجھا کر یاد کریں ،خود کے ٹیچر بن جائیں اور جو یاد کرنا ہے وہ خود کو سمجھائیں یہ آپ کے لاشعور میں بیٹھ جائے گا اور وہ ٹاپک آپ کبھی نہیں بھول سکیں گے۔

حکمت عملی تیار کریں

سٹڈی یعنی پڑھنے کے بعد دوسری چیز آتی ہے حکمت عملی آپ کو امتحان سے پہلے حکمت عملی تیار کرنی ہے کہ مجھے یہاں سے یہاں تک یاد کرنا ہے۔ اپنے مضمون کو مختلف حصوں میں بانٹیں۔ کہ اس طرح آپ کو یاد کرنا ہے
امتحان میں پہلے لمبے سوالوں کے جواب لکھنے ہیں۔ یہ تمام حکمت عملی پہلے سے تیار رکھیں گے تو آپ کے امتحان میں کامیاب ہونے کے امکانات زیادہ۔ ہیں۔ ۔

پرسکون رہیں

حکمت عملی کے بعد تیسری چیز ذہنی کیفیت کو بہتر رکھنا ہے تا کہ بہترین کامیابی حاصل کر سکیں
کیونکہ ہمیں یہ تو بتایا جاتا ہے کہ پڑھ لو مگر یہ کوئی نہیں بتاتا کہ کیسے پڑھا جائے؟ رٹا لگانے کا ہمارے ہاں رواج ہے جو کہ غلط ہے اس سے وقتی طور پر یاد ہوتا ہے امتحان والے دن سب ذہن سے نکل جاتا ہے۔ اس لئے حکمت عملی سے پڑھنا ہے اور ذہنی طور پر خود کو تیار رکھنا ہے۔ ذہنی طور پر آپ بلکل ٹھیک اور تندرست ہوں اس بات کے لیے خود کو تیار رکھنا ہے۔


کیونکہ امتحان کے قریب اکثر بچے خوف کا شکار ہوتے ہیں اورانزائٹی کا شکار ہوجاتے ہیں اس لئے سب سے پہلے اس خوف کو نکالنا ہے جس کا طریقہ ہے خود کو پرسکون رکھیں اور گہری سانس لیں۔اس مقصد کے لیے ڈیپ بریتھنگ یعنی گہرے سانس کی مشقوں کی زیادہ سے زیادہ پریکٹس کریں۔ پھر آپ تصور میں خود کو امتحان دیتے ہوئے دیکھیں جس میں آپ کو سارے سوال آتے ہیں۔ اس تصور کے ساتھ آپ کی انزائٹی دور ہوجائے گی پھر تیاری کریں۔ ان شآ ءاللہ آپ کو کامیابی ضرور ملے گی۔اور ہاں نماز پنجگانہ کی پابندی لازم ہے۔

اس کے علاوہ اگر ڈاکٹر غزالہ موسی کی کتاب امتحانی کامیابی کے راز کا مطالعہ کرنا مت بھولیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں