213

مسجد اقصی کی حفاظت ہمارا فرض العین

تحریر شئیر کریں

مسجد اقصی کی حفاظت ہمارا فرض العین

رض عین

:ام محمد عبداللہ

بنیامین نیتن یاہو کی انتہاپسند کابینہ کے قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر (بن غفیر) نے 3 جنوری کو سخت حفاظتی اقدامات کے تحت متعدد صیہونی آباد کاروں کے ساتھ مسجد اقصیٰ کا اشتعال انگیز دورہ کیا۔
بن گویر گزشتہ پانچ سالوں میں مسجد الاقصٰی کے صحنوں میں  اشتعال انگیز دورے کرنے والا صیہونی کابینہ کا پہلا وزیر ہے۔ وزارتی عہدہ سنبھالنے سے پہلے اس نے صیہونیوں کو اپنے ساتھ لا کر متعدد بار مسجد الاقصٰی میں دراندازی کی۔ نیز اس نے اپنے اس عزم کا بھی برملا اعلان کیا تھا کہ وزیر مقرر ہونے کے بعد وہ وسیع تر اختیارات کے ساتھ الاقصیٰ کے حوالے سے اپنا اشتعال انگیز طرز عمل جاری رکھے گا۔

اپنے انہی  ناپاک عزائم کی تکمیل کے لیے بن گویر نے 3 جنوری 2023 کو مسجد اقصیٰ پر متعدد آباد کاروں کے ساتھ دھاوا بولا۔ یہ دورہ 12 منٹ پر محیط تھا جس کے بعد وہ اس مقدس مقام کو چھوڑ کر سخت حفاظتی اقدامات کے تحت مسجد اقصیٰ کے صحن سے نکل گیا۔
بن گویر کا مسجد اقصیٰ میں اپنے ناپاک عزائم کے ساتھ یوں دیدہ دلیری سے گھومنا  فقط بن گویر کا نہیں بلکہ دنیا بھر کی صہیونی آبادی کے ان خوابوں کی تعبیر کی طرف عملی قدم ہے۔ جس کے تحت وہ مسجد اقصیٰ کو شہید کر کے تھرڈ ٹمپل کی تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔


صہیونی اپنے مقاصد و عزائم (جس میں مسجد اقصیٰ کو شہید کر کے اس کی جگہ تھرڈ ٹمپل کی تعمیر بھی شامل ہے) کی ایک واضح تصویر اپنے سامنے رکھتے ہوئے ان کے حصول کے لیے  سر توڑ عملی جدوجہد میں مصروف ہیں۔
اوران کے مد مقابل کوئی اور نہیں ہم مسلمان ہیں۔
جی ہاں ہم مسلمان،،،،


سوچنے کی بات ہے کہ 
کیا ہم پر بھی اپنا مقصد حیات واضح ہے؟
کیا ہم بھی اپنے مقصد حیات کو پانے کے لیے کسی عملی جدوجہد کا حصہ ہیں؟


کیا ہم بھی مسجد اقصیٰ کی محبت میں ایسے ہی گرفتار ہیں جیسے وہ تھرڈ ٹمپل کی؟
کیا ہم بھی مسجد اقصیٰ کے تحفظ کے لیے ویسے ہی چاک و چوبند اور مستعد ہیں جیسے وہ تھرڈ ٹمپل کی تعمیر کے لیے؟


چلیں اور کچھ نہیں
تو کیا کم از کم ہم اپنے اور مسجد اقصیٰ کے وجود کی اہمیت سے واقف ہیں؟
اور کیا اپنے اور مسجد اقصی کے دشمن کا شعور بھی رکھتے ہیں یا نہیں؟؟؟
اگر بدقسمتی سے سب نہیں ہی ہے تو
انقرہ یونیورسٹی ترکیہ کے ڈاکٹر خالد الاویسی کا یہ پیغام سن لیجیے:

”مسجد اقصٰی پر صلیبیوں نے 23 شعبان 492 ھ جمعہ کے دن قبضہ کیا۔ امام الھراوی رضی اللہ عنہ رمضان میں دمشق سے بغداد پہنچے۔ لوگ اپنے کاموں میں مصروف تھے۔ افطار پارٹیز اور روزمرہ کے کام معمول کے مطابق جاری و ساری تھے۔ بالکل ایسے ہی جیسے ہم آج کل زندگی گزار رہے ہیں جبکہ مسجد اقصٰی دشمنوں کے قبضے میں تھی۔


امام الھراوی سب سے پہلے خلیفہ سے ملنے گئے لیکن وہ افطار پارٹیز میں بہت مصروف تھا۔ انہیں کہا گیا کہ وہ خلیفہ سے ملنے کے لیے بعد میں آئیں۔
اس پر وہ بغداد کی جامع مسجد میں گئے وہاں کے علماء کو بتایا کہ کیا ہوا ہے؟


اس پر انہوں نے امام  الھراوی کو جمعہ کا خطبہ دینے کا موقع دیا۔
امام نے لوگوں کو بتانا شروع کیا کہ مسجد الاقصیٰ میں کیا ہوا ہے؟ لیکن انہوں نے دیکھا کہ لوگوں کے رویے میں لاتعلقی کا اظہار تھا تو انہوں نے لوگوں کو حیرت میں ڈالنا چاہا۔ انہوں نے سب کے سامنے اپنا روزہ توڑ دیا۔ جس پر لوگوں کو نہ صرف حیرت ہوئی بلکہ انہوں نے اسے گناہ گردانا۔


امام الھراوی نے اس کے بعد جو فرمایا وہ ہی اصل بات ہے۔
آپ نے فرمایا :
رمضان کا روزہ توڑنا گناہ ہے اور اس کا کفارہ مسلسل ساٹھ روزے رکھنا ہے اور یہ کفارہ میں بخوشی ادا کروں گا۔ مگر سوچو! مسجد اقصٰی دشمن کے قبضے میں ہے اور تم اس کی آزادی کے لیے آج کچھ نہیں کرتے تو یہ ایک گناہِ عظیم ہے جس کا کوئی کفارہ نہیں۔


اسی لیے آج بھی علماء یہ فتویٰ دیتے ہیں کہ مسجدِ اقصیٰ کی آزادی کے لیے جدوجہد کرنا فرض عین ہے۔ فرضِ عین یعنی ہر ایک مسلم اور مسلمہ پر یہ فرض ہے کہ وہ مسجدِ اقصیٰ کی آزادی کے لیے اپنی تمام تر صلاحتیں صرف کر دے۔“                


یاد رکھیے! مسجدِ اقصیٰ کو پنجۂ یہود سے چھڑانا صرف فلسطین کے نہتے مسلمانوں ہی کی نہیں
کلمہ گو پاکستانی مسلمانوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ جس قرآن میں اس بابرکت مسجد کا ذکر آیا ہے اس کی تلاوت حصول ثواب و ہدایت کے لیے فلسطینوں کے ساتھ ساتھ ہم بھی کرتے ہیں۔


جن احادیث اور سیرت رسول محمد صلى الله عليه واله وسلم کے اسباق میں مسجد اقصیٰ کی اہمیت مسلم ہے۔ انہیں فلسطینی مسلمانوں کے ساتھ ساتھ محبت و عقیدت سے ہم بھی پڑھتے پڑھاتے ہیں۔


تو پھر آئیے اس مقدس و بابرکت مسجد کی حفاظت و آزادی کا فرض عین پورا کیجیے۔
فلسطین اور مسجدِ اقصیٰ کی اہمیت و فضیلت کا علم قرآن و سنت کی روشنی میں حاصل کیجیے۔
آپ کی آئندہ نسلیں اس عظیم خزانے کی وارث ہیں، یہ علم ان کو منتقل کیجیے۔


فلسطین اور مسجد اقصیٰ کی آزادی کے لیے دعا کیجیے۔
اپنے دشمن یہود کے لیے قنوت نازلہ کا اہتمام کیجیے۔
مادہ پرست دشمن کی مصنوعات کی خریداری کا مکمل باٸیکاٹ کیجیے کہ یہ حربہ سب سے زیادہ دشمن کا زور توڑنے والا ہے۔


یاد رکھیے!
اسلام تو وہی ہے جو عمل میں نظر آئے۔
ایمان تو وہی ہے جو نیل سے لے کر تابخاکِ کاشغر اپنے مسلمان بھائیوں کی محبت میں سرشار اور اپنے دشمنوں کفار سے بیزار ہو۔

اگر عمل میں نہتے و مظلوم مسلمانوں سے محبت نہیں اور غیر مسلموں اور ان کی جملہ اشیاء سے بیزاری نہیں تو مسجدِ اقصیٰ کے ساتھ ساتھ اپنے اسلام و ایمان کی بھی فکر لازم ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں