119

جھوٹوں کا جھوٹ

تحریر شئیر کریں

جھوٹوں کا جھوٹ ایک ایسی کہانی جسے آپ پڑھنا چاہیں گے

تحریر : ساجدہ بتول

چل چل کر حالت پتلی ہو گٸی تھی ۔ تھکن سے برا حال تھا مگر مطلوبہ دوکان ابھی تک دکھاٸی نہیں دی تھی ۔
”ضرور مٹھاٸی ہی لینی ہے ! کوٸی اور چیز لے لیتے ہیں ۔ “ صاحب جی (شوہر صاحب ) نے کہا ۔
”نہیں جی! ہم تو میٹھا ہی لے کے جاٸیں گے ۔ “ ہم اڑ گٸے ہم لوگ اس وقت لاہور میں تھے ۔ کچھ دیر قبل ہی لاہور پہنچے تھے اور اس وقت بلند و بالا پلازوں کے درمیان کوٸی مٹھاٸی کی دوکان تلاش کر رہے تھے ۔اس وقت ہم لوگ دوبٸی چوک پہ تھے ۔ اور پھر ایک سویٹس کی دوکان دکھاٸی دے گٸی


”وہ دیکھٸے جی! سویٹس کی دوکان “
”ذرا دیکھنے ،دو ہے کن کی ؟ “ وہ بولے

”انا خاتم النبیین کا بورڈ لگا ہے اس پہ ۔ “ ہم دونوں کی ہی آنکھوں میں چمک آ گٸی اور سیدھے اسی دوکان میں گھس گٸے ۔ کچھ دیر بعد صاحب جی وہاں موجود سیلز مین کو کیک کا آرڈر دے رہے تھے ۔ ادھر تھکن کے مارے مجھ سے کھڑا ہی نہ ہوا جا رہا تھا ۔ ایک تو سفر کی تھکن دوسرے دوکان کی تلاش میں چل چل کر تھکن مزید پتلی ہو گٸی تھی ۔ جیسے ہی اس شخص نے کیک کا ڈبہ اپنی دوکان کے مخصوص بیگ میں ڈالا ، صاحب جی نے وہ بیگ اٹھایا اور ہم دونوں وہاں سے نکل آٸے ۔ کچھ دیر بعد ہم اپنے میزبانوں کے گھر میں پہنچ چکے تھے ۔۔ علیک سلیک کے بعد کیک والا وہ بیگ ان کو پیش کیا ۔۔۔۔ کھانے کے بعد جب اس بیگ میں سے کیک کا ڈبہ نکالا گیا تو ہم سب دھک سے رہ گٸے ۔


کیک کے ڈبے پہ شیزان لکھا تھا ۔
یاد رکھیے! شیزان کمپنی بدستور شیطان کے پاس ہی ہے ۔ یعنی قادیانیوں کے پاس ہی ہے اور عرصہ دراز سے غیور مسلمانوں کی جانب کے اس کی نشاندہی کی وجہ سے سیل کم ہونے کے بعد ان عیاروں نے اب یہ چال چلی ہے ۔ کہ اپنی مصنوعات والی دوکانوں پہ انا خاتم النبیین کا بورڈ لگا دیتے ہیں ، اگرچہ مجھے معلوم نہیں کہ یہ بورڈ شیزان کمپنی کی طرف سے لگایا جاتا ہے یا دوکان کا مالک خود لگاتا ہے مگر دونوں جھوٹے ہیں ، دونوں مکار ہیں ، پھر اس کیک کے ڈبے پہ چڑھایا گیا جھوٹ بھی سفید تھا یعنی سفید رنگ کا بیگ تھا تا کہ اس کے اندر موجود ڈبہ اور اس پہ پہ شیزان لکھا نظر نہ آٸے ۔ اور گاہک ایک بار تو دھوکا لے کر بس چلتا بنے ۔ پھر خریدا ہوا مال کون واپس لے گا!


یاد رکھیے! پاکستانی آٸین کی رو سے قادیانی پاکستان میں خود کو مسلمان نہیں کہہ سکے ۔اپنی عبادت گاہ پہ مینار نہیں بنا سکتے ۔ اپنی عبادت گاہ کو مسجد نہیں کہہ سکتے ۔اسلام کے کسی رکن کی تعلیم نہیں دے سکتے ۔ اذان نہیں دے سکتے ۔ تو پھر مجھے بتاٸیے ، قادیانی اپنی کسی دوکان پہ انا خاتم النبیین (حدیث مبارکہ ) کیسے لکھ سکتے ہیں ؟؟ اور اگر بالفرض یہ دوکان قادیانیوں کی نہیں ہے تو پھر قادیانی مصنوعات اس میں کیوں فروخت کی جا رہی ہیں ؟ اور قادیانی مصنوعات بیچنے والی دوکان پہ انا خاتم النبیین لکھنے کی جرآت کیونکر کی گٸی ؟


یاد رکھیے! آٸین کی رو سے ہر پاکستانی مسلمان کی یہ ذمہ داری ہے کہ درج بالا جرم کرنے والے قادیانی کے متعلق فوری طور پہ حکومت وقت کو اطلاع دے ۔۔۔ یعنی اگر کسی قادیانی نے خود کو مسلمان کہا ، اذان دی ۔ اپنی عباد گاہ پہ مینار تعمیر کیا ، اپنی عبادت گاہ کو مسجد کہا یا اسلام کے کسی حکم کی تبلیغ کی تو پاکستانی مسلمانوں کا قانونی فریضہ ہے کہ حکومت وقت کو اطلاع کریں ، اور مذہبی فریضہ ہے کہ اپنے طور پہ اس کی روک تھام کریں ۔ اس کے لیے جتنی آواز اٹھا سکتے ہوں اٹھاٸیں ۔
حدیث مبارکہ لکھنا نہ صرف اسلام کی تبلیغ اور قادیانی ہونے کے ناطے جرم ہے بلکہ مسلمانوں کو دیا جانے والا ایک ناقابل معافی دھوکہ ہے


جو بذات خود ایک جرم ہے ۔ بلکہ اپنی شناخت چھپانے کی کوشش کی وجہ سے قادیانیوں کے لیے ایک سوال بھی ہے کہ کیا آپ ایسے نبی کے پیروکار ہیں ؟ جس کے پیچھے چلنے والے اپنی شناخت معتبر کرنے کے لیے ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شناخت لکھتے ہیں!! کیوں لکھتے ہیں ؟؟ کیا آپ کے نبی کی اپنی شناخت گٹر میں موت اور بھیانک تعارف کی شکل میں ہے جس کو آپ چھپانا چاہتے ہیں ؟؟ آپ اپنے نبی کے تعارف پر مشتمل بہت سے گندے حقاٸق نٸے قادیانیوں سے کیوں چھپاتے ہیں ؟؟


پہلی بات تو یہ کہ یہ جرم ہی ایسا ہے کہ مسلمانوں کو اس پہ مقدمہ داٸر کرنا چاہیے ۔۔ قادیانیوں نے ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تعارف کو اپنے نبی کا تعارف کہا تو کیوں ؟؟ اتنی جرآت کیسے ہوٸی!!


دوسرا یہ کہ اس دھوکے کو جا بجا کھولنا چاہیے اور لوگوں کو حقیقت بتانا چاہیے ۔۔ اگر یہ اتنے ہی سچے ہیں تو اپنی شناخت چھپاتے کیوں ہیں ؟؟ کیوں کسی کے رو برو تبلیغ نہیں کرتے ؟ ان کے سارے تبلیغی کام آن لاٸن ہی کیوں ہوتے ہیں ؟ کیا رو برو تبلیغ یا مناظرے میں ان کے جھوٹے نبی کے بہت سے جھوٹ اور سب سے بڑھ کر اس کا گندا اور بھیانک تعارف کھل جانے کا ڈر ہے ؟؟

اچھا یہ لوگ پھر اپنے نبی کے تعارف پر انا خاتم النبیین لکھنے کی دلیل یہ دیتے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی حصہ ہے (نعوذ باللہ)

محترم قارٸین ! یاد رکھیے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے نہ صرف خود محمد رسول اللہ ﷺ ہونے کا دعوی کیا ہے بلکہ اپنے اصحاب کو محمد رسول اللہ ﷺ کے اصحاب بھی قرار دیا ہے ۔چنانچہ مرزا غلام احمد قادیانی خود لکھتا ہے کہ

’’ اور جو شخص مجھ میں اور مصطفی میں تفریق کرتا ہے اس نے مجھے نہیں دیکھا اور نہ پہچاناہے۔‘‘
(خطبہ الہامیہ صفحہ 171 مندرجہ روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 259)
مزید ایک مقام پر مرزا غلام احمد قادیانی لکھتا ہے کہ
’’پس وہ جومیری جماعت میں داخل ہوا درحقیقت میرے سردار خیر المرسلین کے صحابہ میں داخل ہوا‘‘
(خطبہ الہامیہ صفحہ 171مندرجہ روحانی خزائن جلد 16صفحہ 258)
محترم قارئین ! یہاں پر یہ بھی یاد رہے کہ قادیانیوں کے نزدیک آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی خود محمد رسول اللہ ﷺ ہے کیونکہ مرزا قادیانی خود محمد رسول اللہ ﷺ ہونے کادعویٰ کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ
’’مگر میں کہتا ہوں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد جو درحقیقت خاتم النبین تھے ، مجھے رسول اور نبی کے لفظ سے پکارے جانا کوئی اعتراض کی بات نہیں، اور نہ ہی اس سے مہر ختمیت ٹوٹتی ہے۔ کیونکہ میں بار بار بتلا چکا ہوں ، میں بموجب آیت وَآخَرِیْنَ مِنْھُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِھِمْ وہی خاتم الانبیاء ہوں۔ اور خدا نے آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں میرا نام محمد اور احمد رکھا ہے۔ اور مجھے آنحضرت ﷺ کا وجود قرار دیا ہے۔ پس اس طور سے آنحضرت ﷺکے خاتم الانبیاء ہونے میں میری نبوت سے کوئی تزلزل نہیں آیا۔ کیونکہ ظل اپنے اصل سے علیحدہ نہیں ہوتا اور چونکہ میں ظلی طور پر محمد ﷺ ہوں ، پس اس طور سے خاتم النبین کی مہر نہیں ٹوٹی۔ کیونکہ محمد ﷺ کی نبوت محمد ہی تک محدود رہی۔یعنی بہرحال محمد ﷺ ہی نبی رہے اور نہ اور کوئی ۔ یعنی جب کہ میں بروزی طور پر آنحضرت ﷺ ہوں اور بروزی رنگ میں تمام کمالات محمدی مع نبوت محمدیہ کے، میرے آئینہ ظلیت میں منعکس ہیں۔ تو پھر کونسا الگ انسان ہوا جس نے علیحدہ طور پر نبوت کا دعویٰ کیا۔‘‘
(ایک غلطی کا ازالہ صفحہ 8 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18صفحہ 212)

اس عاجزہ نے مرزا غلام قادیانی کا یہ دجل یہاں اس لیے نقل کر دیا کہ بہت سے سمجھدار مسلمان بھی قادیانیوں کی اس دلیل سے نا واقف ہیں ۔۔ یہ دلیل وہ ان سادہ لوح مسلمانوں کو دیتے ہیں جن کو وہ قادیانی بنانا چاہتے ہیں ۔
جو بھی ان مکاروں کی دوکان پہ انا خاتم النبیین لکھا دیکھے گا وہ اس جانب یہ سمجھ کر لپکے گا کہ مسلمان کی دوکان ہے مگر دور سے آیا تھکا ماندہ یا جلدی میں کھڑا گاہک نہیں جانتا کہ اس گلاب کی تصویر میں گندگی لپیٹ کر اسے دی جا رہی ہے ۔ لہذہ اول تو چوکنے رہیں ، ایسے کسی بھی بورڈ سے دھوکا نہ کھاٸیں ، ہو سکتا ہے اوپر پھول رکھ کر ان کے نیچے کانٹے چھپا کر فروخت کیے جا رہے ہوں ، دوم اس بات کو جتنا ہو سکے پھیلاٸیں ، ہر مسلمان اس کو آگے پہنچاٸے ۔ ایک دوکان کی تو میں نے جتنی ہو سکتی تھی نشاندہی کر دی کہ دوبٸی چوک لاہور میں واقع ہے ۔ لیکن عورت ہونے کے ناطے میں اتنا ہی کر سکتی تھی ۔ شبان ختم نبوت والوں کو چاہیے اس کی تحقیقات کر کے ایسی تمام دوکانوں سے یہ بورڈز ہٹوانے کی سعی کریں اور سچ تو یہ ہے کہ ایسے مجرموں پہ مقدمہ چلنا چاہیے ۔۔ اللہ ہم سب کو دور حاضر کے اس خطرناک ترین فتنے کو سجھنے اور اس کے خلاف آواز اٹھانے کی توفیق عطا فرماٸے وما علینا الا البلاغ ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں