154

مِری ذات ذرّہِ بے نشاں

تحریر شئیر کریں

قِسط وار کہانی

از قلم ساجدہ بتول

قِسط 12 (آخری قسط)

جنّت فاطمہ جو رحمت بن کر غلطی سے اُس کے گھر میں آ گٸی تھی اپنی ماں کے ساتھ لیٹی ہوٸی تھی ۔ اُمّ جنت کو اس گھر میں بیاہ کر آٸے ہوٸے دو سال ہی ہوٸے تھے ۔ اور معصوم جنّت جو فقط سات (7) دن کی تھی ، اس کی زندگی کی پہلی بہار تھی ۔۔۔ ام جنت کی چھاتی سے لگی وہ قطرہ قطرہ دودھ اپنے حلق سے اتار رہی تھی ۔ اپنے ناکردہ و غیر اختیاری جرم ”بیٹی ہونے “ سے بے خبر وہ نازُک کلی مزے سے ماں کی آغوش کی گرماٸش میں مگن تھی کہ ایک دم اُس درندے نے آگے بڑھ کر اس کو چھیننے کے انداز میں اُٹھایا اور بے دردی سے فرش پہ دے مارا ۔ اور پھر آنًا فانًا پانچ گولیاں فاٸر کر کے اس کے سینے میں اتار دیں ۔
مردود کی خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا ۔ اب وہ چیف کو یہ اطلاع دینے کے لیے اڑا جا رہا تھا کہ اس نے ایک ایسے معاشرے میں ایک نو زاٸیدہ بچی کا سرِ عام قتل کروا کے دکھا دیا ہے جہاں دین کے احکام ، قرآن و حدیث کی تعلیم ، عُلماٸے کرام کے علم اور اللّٰہ والوں کی ولایت کا ڈنکا پٹ رہا ہے ۔ ایک ایسے ملک میں یہ کام کروا کے دکھا دیا ہے جس کو اسلام کے نام پہ حاصل کیا گیا تھا ۔ جس کو ریاستِ مدینہ کا خِطاب دیا گیا ہے ۔ ایک ایسے مُعاشرے میں یہ کام کروا کے دکھا دیا ہے جہاں خاندانی نظام مضبُوط ہے اور جہاں ایک قتل پہ جگہ جگہ ہنگامے کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ مَخفی قتل پہ اِنسانی حقوق کی تنظیمیں حرکت میں آ جاتی ہیں ۔ ایسے مُعاشرے میں اس نے سرِ عام قتل ، وہ بھی معصُوم بچی کا ، کروا کے دکھا دیا ہے ۔ یقینًا اِس گندے کام کے اِنعام میں اُس کو بہت سی گندگی ملے گی ۔۔ اُس نے نہ صِرف زمانہِ جاہلیّت جیسا کام کروا کے دکھا دیا ہے بلکہ قاتِل سے ”جنّت“ بھی چھن گٸی ہے ۔ اُس کی زندگی بھی مکّہ مُکرّمہ کے اُسی قبرستان کی طرح ہمیشہ کے لیے ویران ہو گٸی ہے ، جِس میں آج سے چودہ سو سال قبل معصُوم بچیوں کو زندہ دفن کِیا جاتا تھا اور جو قبرِستان آج بھی ویران ہے ۔ نٸی تعمیر کے لیے کھداٸی کی خاطر جب جدید مشینری اُس پر چلاٸی گٸی تو وہ چل ہی نہ پاٸی ۔۔ لہٰذہ اپنے چاروں طرف بلند و بالا عِمارات کے ہوتے ہوٸے بھی وہ میدان آج تک جُوں کا تُوں ویران ہے ۔
مردُود کو اندازہ تھا کہ رَیپ کیسِز کی طرح یہ قتل کی کہانی بھی جب منظرِ عام پہ آٸے گی تو بیٹی کو گالی سمجھنے والے مردوں کے ہاتھ ایک نیا جُرم لگ جاٸے گا ۔ وہ بھی یہ جُرم ضرُور کریں گے ۔ اور پھر معصُوم بچی رَیپ کیس کی طرح نو زاٸیدہ بچی قتل کیس کی خبر بھی آٸے دن اخبارات کی نحوست بنے گی ۔ اور پھر ایک دن آٸے گا ، جب اِس قوم کے لیے یہ خبر بھی ایک عام بات بن جاٸے گی ۔ جب قوم کو اِس خبر کی بھی عادت ہو جاٸے گی تو اس کی سنگدلی اور وحشت معصُوم بچیوں کے قتل کی حد کو بھی پار کر جاٸے گی ۔ جو قوم پہلے دُوسرے مُسلمان ممالک میں معصوم بچوں کو کَٹتے آرام سے دیکھ لیتی تھی ، پھر اپنے گھروں کی بچیوں کو بھی قتل ہوتے دیکھ کر ٹھنڈے پیٹوں ہضم کرنے لگے گی!!!
مردُود نے اِس گھٹیا کام کا بھی رواج ڈال کر گمراہی کی طرف جاتی پاکستانی قوم کو ایک قدم آگے گمراہی پہ ڈال دیا تھا ۔


یہ ساری کہانی جو شُروع پہ تمثِیلی اور آخر پہ حقیقی ہے ، یہ فروری 2022 میں ”میانوالی“ شہر میں ہُوٸے سانحہ ، سات دن کی معصُوم بچی جنّت فاطمہ کے قتل کے مُتعلّق لِکھی گٸی ہے ۔۔۔ یہ کہانی یہ پیغام دے رہی ہے کہ یہ معاشرہ مردوں کا ہے ۔ یہاں مرد اپنے قوّام ہونے کا نا جاٸز فاٸدہ اٹھاتا ہے ۔ عورت یہاں ہمیشہ ہی مجبُور اور بے بس رہی ہے ۔ اگر عورت عورت کی دُشمن ہے بھی تو مرد کی اہمیّت کی وجہ سے ہے ۔ مرد اگر اپنی اہمیّت کا احساس نہ دلاٸے اور اپنے اختیارات کا سِکّہ نہ بٹھاٸے تو کوٸی بھی عورت اس کا سہارا لینے یا اُس کی نظر میں اپنے نمبر بنانے کے لیے دوسری عورت کو نہ دباٸے ۔ یہ مرد کی انا اور اپنی صِنفِ کرَخت کو اہم سمجھنا ہی ہے جس نے معصوم جنت کو موت کے گھاٹ اتار دیا ۔


اور ہاں ۔۔۔ اِس ظُلم میں بڑا ہاتھ معاشرے کا ہے ۔ اگر معاشرے نے مرد کو بے جا اہمیّت اور عورت کو بے جا ذِلّت نہ دی ہوتی تو آج کی عورت کے ساتھ اس کے پیدا ہوتے ہی یہ وحشیانہ سلوک نہ ہوتا ۔ عورت پہ معاشرے کا تسلّط بہت سخت ہے ۔ چاروں طرف سے اس پر اس قدر دباٶ ہے کہ اب وہ بے حد محتاط ہو چکی ہے ۔ لہٰذہ عمومی فضا یہ ہے کہ اس سے کوٸی بڑا جُرم کروانے کی سوچنے والا بھی ناکام ہو جاتا ہے ۔ ہاں آج کے ابلیس کو جب کوٸی اور ہتھکنڈہ نہیں ملتا تو وہ مرد کو گھسیٹتا ہے اور پھر عورت کا عورت اور کمزور و کم ہمّت ہونا ہی مرد کے جُرم اور مردُود کی کامیابی کی وجہ بن جاتا ہے ۔

ختم شد

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں