144

ابن تیمیہ اسلامی تہذیب و تمدن کے آمین

تحریر شئیر کریں

ابن تیمیہ اسلامی تہذیب و تمدن کے آمین


از: وسیم المحمدی
ہر امت ایک ثقافت رکھتی ہے، اور ہر قوم ایک تہذیب وتمدن کی مالک ہوتی ہے۔ یہ تہذیب وتمدن اس ثقافت کانتیجہ ہوتے ہیں جو کسی امت کے پاس ہوتی ہے۔ امتوں کا تہذیب وتمدن در اصل وہ شفاف آئینہ ہوتا ہے جس میں ہمیں ان کے ثقافت کی تصویر بڑی صاف نظر آتی ہے۔ گزشتہ قوموں اور امتوں کی جو مختلف تہذیبیں ہم دیکھتے اور پڑھتے ہیں وہ در اصل ان كى ثقافت کا آئینہ دار ہیں، تہذیب وتمدن کے ان مہیب قلعوں کی مزین دیواریں در اصل ان کی مختلف ثقافتوں کو درشاتی اور اجاگر کرتی ہیں۔ چنانچہ کسی امت کی ثقافت کے معیار کا اندازہ لگانا ہو تو اس کی تہذیب کو دیکھ کر بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ یہ وہ آئینہ ہے جو کبھی جھوٹ نہیں بولتا۔
یہ امت محمدیہ صرف امتِ “اقرأ” نہیں ، بلکہ امت “اقرأ باسم ربک الذی خلق ” ہے، اسی لئے اسلام نے اپنے علم و ثقافت کی اساس و بنیاد کتاب وسنت اور عربی زبان پر رکھی ہے، اسی ثقافت نے اسلامی تہذیب کو جنم دیا ہے، اور پوری دنیا کو جہالت سے نکال کر روشنی دکھلائی ہے۔
غار حراء میں جبریل امین نے اس ثقافت کی بنیاد رکھی، مدینہ منورہ کی عظیم ریاست میں اس کی بنیادوں کو مضبوط سے مضبوط تر کیا گیا، اور پھر اموی عباسی اور اندلسى دور میں اس ثقافت نے وہ تہذیب جنم دیا جس کی مثیل دنیا آج تک نہیں پیش کر سکی۔
کتاب وسنت اور عربی زبان پر قائم اسی ثقافت نے اسلامی تہذیب وتمدن کی لازوال داستان رقم کی، اور اسی ثقافت نے صحرا نوردوں کو دنیا کی باوقار اور مہذب قوم تو بنایا ہی، ساتھ ہی ساتھ سارے جہان کو بھی اپنی روشنی سے منور کیا۔ مدینہ منورہ کے اس عظیم ثقافت کا اثر دمشق میں اسلامی تہذیب کو روشن کرتا ہوا بغداد تک پہنچا، اور بغداد کو اسلام کی تہذیب وتمدن کا گہوارہ بنا دیا۔ اور دمشق ہی سے ایک ستارہ ٹوٹا تو پورے اندلس، اور یورپ کو روشن کرتا چلا گیا۔
اندلس کا وہ عظیم اسلامی تمدن جس کے نقوش آج تک زندہ و تابندہ ہماری حسرت ویاس میں اضافہ کرتے ہیں، جن کو پڑھ کر عقل حیران اور خرد دنگ رہ جاتی ہے، وہ سب اسی ثقافت کے مظاہر ہیں۔
بغداد کی عظیم اسلامی تہذیب اور اس کا وہ بے مثال تمدن جس کی جھلک خطیب بغدادی کی عظیم کتاب تاریخ بغداد کے موسوعی مقدمہ میں ملتی ہے اسی ثقافت کا نتیجہ تھا جس کی بنا کتاب وسنت اور عربی زبان پر رکھی گئی تھی، اور سبب وہ علم تھاجو اِس ثقافت کی تفسیر وخلاصہ تھا۔
ثقافت کی بنیاد جن چیزوں پر رکھی جاتی ہے ان میں تعلیم وتعلم اور تربیت وتزکیہ سب سے اہم ہے جو اس امت کی وہ خصوصیت ہے جسے اس نے اپنے عظیم تہذیب وتمدن کے تعمیری سفر میں خوب برتا اور نبھایا ہے۔
چاہے وہ اصحاب صفہ کا حلقہ اور ان کی پھٹی چٹائیاں ہوں، یا صحابہ کرام کی عام علمی وتعلیمی مجلس ہو، یا پھر چاہے بعد کے دور میں مسجد نبوی اور مسجد حرام کی مختلف علمی وتعلیمی مجلسیں ہوں۔ چاہے وہ کعبہ کے صحن میں ابن عباس کی باوقار علمی مجلس ہو، یا پھر ان کے شاگردوں کے علمی وتعلیمی حلقے۔ چاہے وہ اموی دور میں کوفہ وبصرہ کے باوقار علمی وادبی مجالس ہوں، یا عباسی دور میں بغداد کی مساجد اور اس کے وہ علمی حلقات جو علماء اور طلباء کے مذاکرہ سے گونجتے تھے۔ چاہے وہ اندلسی دَور کے دُور علم ہوں، یا وہاں کے امراء کی سرپرستی میں پروان چڑھتی علمی وادبی ترقیاں۔ یہ سب در اصل اُسی اسلامی ثقافت کی تعمیر وترقی کے مظاہر ہیں جو اِس عظیم اسلامی تہذیب وتمدن کا بانی ہے، اور جس کی اساس و بنیاد کتاب وسنت اور عربی زبان پر رکھی گئی ہے۔ چنانچہ یہ ٹھوس ثقافت جس کی ہم خوشہ چینی کر رہے ہیں یہی ثقافت اس امت کی پہچان رہی ہے، اور دمشق سے لے بغداد واندلس تک جو اسلامی تہذیب کے مظاہر ہیں وہ در اصل اسی ثقافت کی دین ہیں۔
ثقافت کا ایک اہم رکن کتاب ہے، اور ثقافت کی تعمیر وترقی کا اصل مظہر وہ کتابیں ہیں جودل واذہان کو روشنی فراہم کرتی اور تہذیب وتمدن کے قلعے تعمیر کرتی ہیں۔ اورجب یہ بات مسلم ہے کہ ثقافت تہذیب وتمدن کو جنم دیتی ہے، اور اسلامی تہذیب وتمدن کا کوئی جواب نہیں ہے، تو اس امت نے ثقافت کے اس باب میں بھی ساری امتوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
چنانچہ ثقافت کے میدان میں اس امت کی ایک اہم پہچان یہ بھی ہے کہ علم کے جو چراغ اس نے جلائے ہیں کسی امت میں اس کی کوئی نظیر نہیں، اور مختلف علوم و فنون میں اس نے جس قدر کتابیں لکھی ہیں دیگر ساری امتوں نے مل کر بھی نہیں لکھی ہیں، علم وثقافت کے جو معمار اِس امت نے پیدا کئے ہیں وہ دیگر امتوں میں ناپید ہیں۔ اس امت میں تہذیب وتمدن کے معماروں میں ایسے بھی معمار گزرے ہیں جن کا دیگر امتوں میں انبیاء کے بعد شاید ہی کوئی ہم پلہ گزرا ہو۔
علم وثقافت اور تہذیب وتمدن کا قافلہ ساتھ ساتھ چلتا ہے، اسلامی علوم و فنون اور تہذیب وثقافت کا قافلہ بھی اپنی پوری رفتار سے ساتھ ساتھ چلتا رہا، اصحاب صفہ کے ننگے جسموں، بھوکےپیٹوں، اورپھٹی چٹائیوں سے اس کی ابتداء ہوئی، اور بغداد کا علمی ثقافتی و تہذیبی گہوارہ اس کا نقطہ عروج ٹھہرا۔
عباسی دور حکومت کے آخرى ایام میں علم وثقافت اور تہذیب وتمدن کے اس قافلہ کی گرفت اپنے بنیادوں پر کمزور پڑنے لگی، صلیبیوں کی یلغار اس کے راستے کی رکاوٹ بننے لگی، اور پھر 656 ھ میں تاتاریوں کا ایسا طوفان آیا کہ اس بغداد کو زمیں بوس کرگیا جو نہ صرف اسلامی علوم وفنون اور تہذیب وتمدن کا گہوارہ تھا، بلکہ پوری دنیا کا علمی مرکز بن چکا تھا۔ اور نتیجہ یہ نکلا کہ علم وثقافت اور تہذیب وتمدن کا وہ قافلہ جو پوری قوت سے رواں دواں تھا اپنے ہی گھر میں،اپنوں ہی کی سازشوں کا شکار ہوکر، ایسا لٹا کہ کپڑوں کے ساتھ ساتھ جسم بھی نہ بچ سکا، اور اس قدر ہولناک تباہی آئی کہ ابن کثیر جیسے عظیم مورخ کا قلم تھر تھرانے اور اس حادثے کے ذکر سے بھاگنے لگا۔ وہ لاکھوں کتابیں جو اسلامی ثقافت کی امین تھیں، دریا برد کردی گئیں، وہ ہاتھ جنھوں نے ان کتابوں کو لکھا تھا قلم کردیئے گئے، وہ دل ودماغ جو اِس عظیم ثقافت کے امین تھے ابدی نیند سلا دیئے گئے، دجلہ کا پانی کتابوں کی سیاہی سے سیاہ اور بغداد کی گلیاں اہل بغداد کے خون سے سرخ ہوگئیں۔
اس وقت ایسا محسوس ہونے لگا کہ شاید اب اسلامی علم وثقافت اور تہذیب وتمدن کا سفر ختم ہونے کو ہے، اور اب وہ سورج غروب ہونے کو ہے جس سے ساری دنیا کے علمی ستارے روشنی حاصل کر رہے تھے۔ ایسے وقت میں ابن تیمیہ(661-728ه) رحمہ اللہ کی پیدائش ہوئی۔
چنانچہ سقوط بغداد کے بعد مملوکیوں نے مصر وشام کی باگ دوڑ سنبھالی، علوم وفنون وثقافت اور تہذیب وتمدن کےاس قافلہ نے پھر اپنی ٹھوس بنیاد پر عمارت کھڑی کرنی شروع کی، اپنے اُس اساس کی طرف رجوع کیا جس پر اس امت کے ثقافت کی بنیاد رکھی گئی تھى، اور نتیجہ یہ نکلا کہ سقوط بغداد کے بعد کسمپرسی کے اس دور میں جب اسلامی خلافت کی قبا چاک چاک ہو چکی تھى، مایوسی دلوں میں گھر بنا چکی تھی، اسلام کا شیرازہ منتشر منتشر تھا، صلیبیوں کی سازشیں اور تاتاریوں کی یلغار اسلامی تہذیب وثقافت کو مٹا دینا چاہتی تھیں، ظلمت وتیرہ شبی اپنے ہولناک سایے عالم اسلام پر پسار رہی تھی، اور خوفناکی دلوں پر اپنے پنجے گاڑ رہی تھی، ایسے وقت میں ایک بار پھر بنو امیہ کےشام نے انگڑائیاں لیں، اور دمشق کے علاقے میں اسلامی علوم وفنون وثقافت اور تہذیب وتمدن کا وہ عظیم معمار پیدا ہوا جسے دنیا ابن تیمیہ (661-728ه) کے نام سے جانتی ہے۔
چنانچہ اس عظیم حکمت الہی پر غور کریں کہ 656ھ میں بغداد اپنے علم وثقافت اور تہذیب وتمدن کے ساتھ زمیں بوس ہوا، اور ابھی بغداد کی زمین اہل بغداد کے خون کو صحیح سے جذب بھی نہیں کرپائی تھی کہ 661 ھ میں علوم وفنون وثقافت اور اسلامی تہذیب وتمدن کے اِس معمارِ عظیم ابن تیمیہ کی ولادت با سعادت ہوئی۔
تو کیا یہ محض اتفاق تھا؟ یا پھر حکمت الہی کا وہ عظیم تقاضہ تھا جس کا مقصد اسلامی علوم و فنون کی حفاظت، ان کی تجدید، اور اسلامی تہذیب وتمدن کی نئی تعمیر تھی؟
ابن تیمیہ صرف کسی علمی شخصیت کا نام نہیں ہے، ابن تیمیہ ایک عہد کا نام ہے، ایک علامت کا نام ہے، ابن تیمیہ کے ذکر کے بغیر اسلام کی تاریخ ادھوری رہ جائیگی۔ ابن تیمیہ کے بغیر اسلامی ثقافت اور عظیم تہذیب وتمدن کا ذکرِ جمیل ناقص رہ جائیگا۔
ابن تیمیہ جیسے لوگ روز روز پیدا نہیں ہوتے، بلکہ ابن تیمیہ جیسے افراد امتوں میں کبھی کبھی پیدا ہوتے ہیں۔
ابن تیمیہ اسلامی علوم وفنون کے نمائندہ، اور تہذیب وثقافت کے عظیم معمار ہیں۔
آپ نے پانچ سو سے زائد کتابیں تالیف کیں، ایسی کتابیں جو علم کا منبع اور فکر کا سر چشمہ ہیں، جن کی طرف رجوع کرکے اہل علم وفکر روحانی غذا حاصل کرتے ہیں۔
مدینہ یونیورسٹی کے ایک پروفیسر کہا کرتے تھے: “إذا أردتَ أن تعرِفَ أنَّكَ صِفرٌ، فَاقْرَأْ كُتُبَ شيخِ الإسلامِ ابنِ تيمةَ رحمه الله”، یعنی: اگر تم یہ جاننا چاہتے ہو کہ تم -علم میں-زیرو ہو تو شیخ الاسلام ابن تیمیہ کی کتابیں پڑھو۔
ابن تیمیہ اس علم کے سفیر ہیں جو اسلامی ثقافت کی جڑ ہے، ابن تیمیہ اس ثقافت کے امین ہیں جو اسلامی تہذیب وتمدن کو جنم دیتی ہے۔ ابن تیمیہ اس اسلامی تہذیب وتمدن کی علامت ہیں جو جانے والی صدیوں پر محیط اور متسلسل ہے، اور اس تہذیب وتمدن کے عظیم معمار ہیں جو آنے والى صدیوں پر محیط ہے۔ گویا شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اسلامی علوم و فنون وثقافت ،اور تہذیب وتمدن کے طویل سفر میں تاریخ کے اس مقام پر کھڑے ہیں جو ماضی کی علامت اور مستقبل کا آئینہ ہے۔
مختصر یوں کہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ جہاں ایک طرف مدینہ سے بغداد تک کے اسلامی علوم وفنون کی علامت ہیں، وہیں آپ اپنے بعد صدیوں پر محیط اسلامی علوم وفنون وثقافت اور تہذیب وتمدن کے عظیم معماروں میں سے ہیں۔ اُن پر آپ کی چھاپ اتنی پختہ اور نقوش اتنے گہرے ہیں کہ مخالفین ومعاندین کے ہفوات اسے گرد آلود نہیں کرسکتے، بلکہ اب تو وہ اسلامی تہذیب وثقافت کا اہم ترین حصہ بن کر تاریخ اسلام کا جزء لا ینفک بن چکے ہیں۔
(یہ مضمون “نبراس 3” کے افتتاحی پروگرام میں پیش کردہ کلمات سے ماخوذ ہے)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں