157

ابابیلیں آیا چاہتی ہیں

تحریر شئیر کریں

ابابیلیں آیا چاہتی ہیں

ام محمد عبداللہ

عجب اداسی اور بےچینی ہر جانب بکھری پڑی تھی۔ ہوا ساکت اور فضا مضمحل تھی۔ معمر امل عواد اپنے گھر کی ٹوٹی ہوئی کھڑکی کے شیشے سے باہر جھانک رہی تھیں۔ ان کی ٹانگوں سے لپٹے ان کے یتیم پوتا پوتی خوفزدہ نظر آ رہے تھے۔ انہیں خود تو جیسے ہراساں رہنے کی عادت ہو چکی تھی۔ کل 13 فروری 2023 کی رات کو اسرائیلی آباد کاروں کے ایک گروپ نے آدھی رات کو ان کی زمین کو گھیر لیا تھا۔ گھر پر حملہ کرنے سے پہلے انھوں نے گاڑی کی کھڑکیوں اور سولر پینلز سمیت تمام شیشے توڑ ڈالے تھے۔ ان کی حرکتیں سی سی ٹی وی کیمرے میں قید ہو گئیں تھیں۔ وہ سب بیس بال کے بلے کے ساتھ بھوت جیسے نظر آ رہے تھے۔ باہر کے اجڑے مناظر سے نگاہ ہٹا کر انہوں نے اپنے بارہ سالہ پوتے مسلم اور دس سالہ پوتی ھدیل کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرا۔ “میرے پیارو! جنت بہت خوبصورت ہےـ” وہ مسکرائیں تو جنت کے تصور سے معصوم بچے بھی مسکرا دیے۔ “دادی جان! جنت میں اسرائیلی آباد کار نہیں ہوں گے ناں۔” ننھی ھدیل نے روز کی طرح آج بھی یقین دہانی چاہی۔ “اور وہاں سب پیغمبران کرام جمع ہوں گے ناں جو مسجد اقصی میں شب معراج کو جمع تھے؟”

مسجد اقصی کی حفاظت ہمارا فرض العین

مسلم کی معصوم نگاہیں بھی دادی جان کے جھریوں بھرے چہرے پر جمی تھیں۔ “وہاں ہمیں مسجد اقصٰی میں داخل ہونے سے کوئی نہیں روکے گا نا؟” مسلم بدستور دادی جان کی جانب دیکھ رہا تھا۔ “جی ہاں۔” دادی جان نے انہیں یقین دلایا تو وہ دونوں کھڑکی کے ٹوٹے ہوئے شیشوں کو جمع کرنے لگے۔ مقبوضہ مغربی کنارے میں موجود ان کا مکان ایک غیر پلاسٹر شدہ کنکریٹ کا ڈھانچہ تھا جس کے چاروں طرف جھاڑیاں اگی ہوئی تھیں۔ یہ مکان بظاہر عجلت میں تعمیر کیا گیا لگتا تھا لیکن امل عواد کی طرح یہ مکان بھی یہاں کئی دہائیوں سے موجود تھا۔

سن 1993ء کے اوسلو امن معاہدے کے تحت مغربی کنارے کو تین علاقوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ امل اس تقسیم کے سب سے بڑے علاقے ایریا سی میں رہتی تھیں جس پر اسرائیلی کنٹرول ہے۔ دادی جان بچوں کو کھیلتے دیکھ کر باورچی خانے کی جانب مڑ گئیں، جانتی تھیں کہ بچوں نے صبح سے کچھ نہیں کھایا۔ مگر ان کے دل کی طرح باورچی خانہ بھی سائیں سائیں کر رہا تھا۔ “امل خالا! امی جان نے بچوں کے لیے کھجوریں بھجوائی ہیں۔”

سینان ان کے سامنے کھڑی مسکرا رہی تھی۔ “امی جان کہہ رہی ہیں نماز کے لیے مسجد الاقصی جانا ہے۔ علامہ عکرمہ صبری نے مسجد کے دفاع اور تحفظ کے لیے ایک بار پھر سب کو وہاں نماز ادا کرنے کی کال دی ہے۔” امل کی بھانجی سینان جو ان کے پڑوس ہی میں رہتی تھی جانے کیسے ان حالات میں بھی ہر وقت مسکراتی رہتی تھی۔ امل کھجوریں لے کر باہر بچوں کے پاس آگئیں جہاں وہ کھیل رہے تھے۔ “میں فلسطینی بچہ ہوں اور تم اسرائیلی فوجی، میں تمہیں پتھر مار کر ہلاک کر دوں گی۔” ھدیل کھیل کا پلان بتا رہی تھی۔

“نہیں پتھر سے کوئی نہیں مرتا. تم مجھے پتھر مارو گی اور میں تمہیں پہلے زور سے تھپڑ ماروں گا پھر جب تم گر جاؤ گی تو میں تمہیں گولی مار دوں گا۔” “ہاں یوں ٹھیک ہے، پھر میں مر کر جنت میں ابو امی کے پاس چلی جاؤں گی۔ سنو! تم دادی کو بھی گولی مار دینا وہ اکیلے یہاں ڈریں گی۔” امل بچوں کا روز کا کھیل دیکھ کر وحشت زدہ دل لیے گھر سے باہر چلی آئیں۔ سامنے ان کی بہن شیرا اپنے گھر کے سامنے سے کچرا ہٹا رہی تھیں۔ امل کو آتے دیکھ کر وہ زور زور سے کہنے لگیں: “ان کی یہ پر تشدد مہم ہمیں ہماری زمین سے نکالنے کے لیے ہے۔ ہم اپنے گھر چھوڑ کر کہیں نہیں جائیں گے۔” امل شیرا کے قریب ہی ایک پتھر پر جا کر بیٹھ گئیں.

“پتا نہیں شیرا! میں نے تو وقت کے ساتھ ان اسرائیلی آباد کاروں کو دلیر ہوتے ہی دیکھا ہے۔ پہلی بار یہ اکتوبر 2021ء میں حملہ آور ہوئے تھے جب انہوں نے ہمارے گھروں پر پتھراؤ کیا تھا۔ ہم انہیں روک نہیں سکے تھے۔ پھر بیس روز بعد انہوں نے آ کر ہمارے گھروں پر کالی مرچوں کا سپرے کیا اور باڑ اور کھڑکیاں توڑ دیں۔ وہی کھڑکیاں تو یہ دو سال لگا کر میں نے ٹھیک کی تھیں جنہیں یہ ظالم کل پھر توڑ گئے ہیں۔

” امل کی آنکھیں خشک تھیں مگر ان کا دل رو رہا تھا۔ “یہاں مغربی کنارے میں یہودی آباد کاری بین الاقوامی قانون کی نظر میں غیر قانونی ہے پھر یہ ہمیں یہاں ہمارے حال پر کیوں نہیں چھوڑ دیتے؟” شیرا بھی بہت بے چین تھی۔ “یہ درندے کون سا بین الاقوامی قانون مانتے ہیں؟ کون سے انسانی حقوق کی پاسداری کرتے ہیں؟ یہ تو ہمیں ہماری اس مقدس و مبارک سرزمین سے بے دخل کر کے یہاں قبضہ چاہتے ہیں، ساری دنیا کے وسائل اور آبادی پر اپنا شیطانی راج مسلط کرنا چاہتے ہیں۔”

امل عواد کا بچپن اور جوانی نکبہ سے لے کر عرب اسرائیل جنگوں اور امن معاہدوں تک سب کے گواہ تھے۔ “سال کے آغاز سے اب تک 600 حملے ہو چکے ہیں۔ میں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر ایک حفاظتی گروپ تشکیل دیا ہے. ہم باری باری گاؤں کی حفاظت کے لیے پہرا دیں گے۔” فواد حسن جو اسی محلے کا ایک جوان تھا انہیں حوصلہ دینے چلا آیا۔ “تم دو چار ہو، ان کا گروپ بہت بڑا ہوتا ہے ان کے پاس ہتھیار بھی ہوتے ہیں، تمہارے پاس پتھروں کے سوا ہے ہی کیا؟” شیرا نے مایوسی سے کہا۔ “ان پتھروں میں اللہ عزوجل ابابیل کے کنکروں جیسی طاقت بھر دے گا۔ ان شاءاللہ”، فواد نے عزم سے کہا تو شیرا اور امل کی نگاہوں میں بھی امید کے دیپ جل اٹھے۔

“نماز کا وقت قریب ہے آؤ مسجد اقصٰی کی طرف چلیں۔” ابابیلیں آیا چاہتی ہیں۔۔۔ عجیب قافلہ ہے یہ، لٹا پٹا کٹا پھٹا، ہزار خون میں بہہ گیا، بدن کے چیھتڑے بھی اڑ گئے، سامان زیست بکھر گیا، مگر ہے تن کے کھڑا ہوا، فصیلِ اقصٰی بنا ہوا، ہاں اس یقیں کے ساتھ، کہ ابابیلیں آیا چاہتی ہیں۔۔۔ دعا محض کے سوا، ہمارے پاس ہے اور کیا، تمہاری نصرت خدا کرے، اللہ عزوجل جبرائیل امیں کو بھیج کر تمہارے لیے کامرانیوں کے در وا کرے، عقیدتوں کے پھول ہیں تمہارے واسطے دل میں ہمارے کھلے ہوئے، اقصی کے محافظ! تمہاری نصرت خدا کرے، جبرائیل امیں کو بھیج کر تمہارے واسطے کامرانیوں کے در وا کرے،

تمہارے حوصلے بلند کرے،
ہاں اس یقیں کے ساتھ
کہ ابابیلیں آیا چاہتی ہیں۔۔۔

********

امل اور شیرا کے گاؤں سے میلوں دور احمد اور علی اپنے گھر میں لیپ ٹاپ کے سامنے بیٹھے *“میں اور میری مسجد اقصٰی”* نامی ایک آن لائن کورس کر رہے تھے۔ ان کے دل سرزمین انبیاء فلسطین کے لیے دھڑک رہے تھے اور ان کے قلم ان کی ڈائری میں لکھ رہے تھے۔
“فلسطینی مسلمانوں اور مسجد اقصی کے نام!
ہمیں تم سے محبت ہے۔
ہمارے دل تمہارے ساتھ کلمہ لا الہ الا اللہ پر دھڑکتے ہیں۔
تم ہماری دعاؤں کے حصار میں ہو۔
ہم اپنی آواز اور اپنے قلم سے
اپنے علم اور عمل سے تمہارا دفاع کریں گے اور
ان شاءاللہ اپنی جان اور اپنے ہتھیار سے بھی۔”

_____

ابابیلیں آیا چاہتی ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں