Sweden incident 248

سویڈن واقعہ اور ہمارا کردار

تحریر شئیر کریں

سویڈن واقعہ اور ہمارا کردار

تحریر:اسماء ذیشان

اللہ نے دنیا میں ایک لاکھ چوبیس ہزار  پیغمبر بھیجے اور نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین بنا کر مبعوث فرمایا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی تعظیم و تکریم ہر مسلمان پر اپنی اولاد جان ومال سے بڑھ کر ہے، اور اس کے بغیر زندگی کا
تصور ہی ناممکن ہے۔
عالمی امن اور مذہبی رواداری کے علمبرداروں نے ہر دور میں ہی ہمارے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے توہین آمیز کلمات اور دیگر ذرائع استعمال کرکے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نعوذ باللہ تضحیک کرنے کی کوشش کی ہے۔ان لا علموں اور عقل سے مبرا اقوام اس بات سے قطعی نا آشنا ہیں کہ اس طرح کی غلیظ اور گھٹیا حرکتوں سے نہ تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کوئی کمی کرسکتے ہیں نہ ہی اپنے مذموم مقاصد میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ پہ نازل ہونے والی مقدس کتاب کی حرمت کی حفاظت کا وعدہ اللہ نے قرآن میں کیا ہے۔
حالیہ سویڈن واقعہ جس کا ذکر کرنا بھی مناسب نہیں ہے اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس کا مقصد نہ صرف مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنا ہے بلکہ ان کو اشتعال دلانا بھی ہے تا کہ ایک بار پھرمسلمانوں کو دنیا کی نظروں میں جھگڑالو اور دہشت گرد بنا کر پیش کیا جائے اور اسلام اور مسلمانوں کا تقدس پامال کیا جائے۔
اب سوال یہ ہے کہ ہمارا کردار بحیثیت مسلمان اس واقعے اور اس طرح کے واقعات کے بعد کیا ہونا چاہیئے؟ ایسے گھناؤنے واقعات پر ہمیں مذمتوں اور جلسے جلوسوں کے بجائے گھر گھر میں  قرآن کی تلاوت ،اس کی تدریس اور اس پر مکمل عمل کا اہتمام کرنا ہوگا ۔سنت رسول صل اللہ علیہ وسلم کی اتباع اور قرآن کے اندر دیے گئے پیغام  کو دنیا کے کونے کونے میں پھیلا کر ہی ان توہینات کا منہ توڑ جواب دیا جاسکتا ہے۔ اسکے ساتھ ساتھ سویڈش مصنوعات کا بائیکاٹ انکی معیشت پہ ایک خاموش مگر کاری ضرب ثابت ہوگا۔ہماری زندگی کا ہر عمل اللہ کے حکم کے مطابق ہونا چاہیے اور جب کہیں اسلام یا قرآن حکیم کے بارے میں کوئی غلط گفتگو کی جائے یا کوئی اور طرز عمل اختیار کیا جائےتو ہمیں اپنے آپ کو اس سے الگ کر لینا ہی مہذب ردعمل ہے۔
اسلام دشمن عناصر اس طرح کی شیطانی حرکتیں اسی لئے کرتے ہیں تاکہ مسلمانوں میں موجود جذبہ جہاد کی جانچ کر سکیں کہ آیا مسلمان اپنے نبی اور کتاب کی حرمت کے لیے کتنا آگے تک جا سکتے ہیں اور مزید یہ کہ دوسروں تک ان کی بات پہنچے اس لئے ہمیں ان کا یہ ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔توہین آمیز مواد پر مبنی کسی بھی تصویر یا ویڈیو کو آگے نہیں پھیلانا چاہیے۔ بالکل نظر انداز کردینا چاہیے اور یہی بہترین حکمت عملی ہے۔  
یہ اسلام دشمن عناصر اس قسم کی گستاخانہ حرکتوں کے بعد ہرگز ہرگز خدا کی پکڑ سے نہیں بچ سکتے۔عنقریب ان کا انجام دنیا کے سامنے ہوگا ۔اللہ ان کو دنیا میں ہی عبرت کا نشان بنا دے گا۔جیسا کہ سورہ العنکبوت کی آیت 4 میں ہے کہ
’’کیا جو لوگ برے کام کرتے ہیں یہ گمان کئے ہوئے ہیں کہ وہ ہمارے قابو سے باہر نکل جائیں گے؟ کیا ہی برا ہے جو وہ (اپنے ذہنوں میں) فیصلہ کرتے ہیں‘‘۔
اللہ تو ان دشمنان اسلام سے نمٹ ہی لے گا مگر ہم سب کو انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔انفرادی کردار کا ذکر تو اوپر ہوہی چکا ہے ، ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومتی سطح پر بھی سویڈش حکومت کو اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا جائے اور عالم اسلام بھی متحد ہو کر  باقی دنیا پر اپنی دھاک بٹھا دے تا کہ کوئی اسلام دشمن اس قسم کی قبیح حرکت کرنے کے بارے میں سوچے بھی نہیں!!!
اس حوالے سے اب تک سب سے تگڑا جواب ترکیہ کی جانب سے سامنے آیا ہے ۔ترکی کے صدر طیب اردگان نے سویڈن کو یورپی یونین میں شامل ہونے پر حمایت کی بجائے مخالفت کا اعلان کر دیا ہے جس سے سویڈن حکومت کے طوطے اڑ گئے ہیں ویل ڈن ترکی
آج امت بروز جمعہ کو یوم تقدس قرآن ڈے منا رہی ہے دنیا بھر میں اس زرمناک فعل پر احتجاج ہورہا ہے
Sweden incident

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں