111

گلوکار اسد عباس کی موت سے کیا سیکھا?

تحریر شئیر کریں

تحریر:روبینہ شاہین
گلوکار اسد عباس کی جواں سالہ موت سے ہر آنکھ اشکبار ہے ہر دل مغموم ہے ،اسد عباس گردوں کی بیماری سے لڑتے لڑتے جان کی بازی ہا رگیا،اس موذی بیماری نے اس کی ساری توانائیاں نچوڑ لیں تھیں،

سوشل میڈیا پر گردش کرتی ان کی زندگی سے بھرپور تصویر کے ساتھ ان کی حالت مرگ کی تصویر بہت کچھ عیاں کیئے دے رہی تھی،زندگی کتنی خوبصورت چنچل اور بھرپور ہوتی ہے جبکہ موت اتنی ہی اداس مضحل اور بھیانک ہوتی ہے ،یہ اسد عباس کی جواں سالہ موت نے دنیا والوں کو بتایا کہ دیکھو مجھے کبھی میں بھی زندگی سے بھرپور تھا ،میرے بہت سے خواب تھے پلاننگز تھیں مگر ناجانے کیوں ہماری ان پلاننگز میں موت کا نام و نشان نہیں ہوتا؟موت جو زندگی کی ساتھی ہے زندگی ملی ہے تو موت بھی ضرور آنی ہے مگر ہم سوچتے ہی نہیں،ہمارا پاس اتنا وقت ہی نہیں کہ چند گھڑی بیٹھ کر اس اٹل حقیقت کے بارے میں جان سکیں ،اسد عباس نے بھی کب سوچا تھا وہ یوں چلا جائے گا ،مگر وہ چلا گیا ایک ایسی دنیا میں جہاں سے کوئی واپس نہیں آتا؟
سوال یہ ہے کہ کہ کیا موت اتنی بدصورت ہوتی ہےکہ ہم اس کے بارے میں تیاری تو بڑی دور کی بات سوچنا بھی گوارا نہیں کرتے،بہت سوچا تو پتہ چلا اصل میں ہم موت سے نہیں بھاگتے ہم اپنے اعمال سے بھاگتے ہیں وہ طالب علم جس نے اپنے امتحان کی تیاری کی ہوتی ہے وہ کبھی پیپر دینے سے نہیں ڈرتا اسے کبھی فیل ہونے کا خوف نہیں ستاتا ،اس کے برعکس وہ طالب علم جس نے بغیر تیاری کے امتحان دیناہوتا ہے اس کی مثال ایک دنیا دار کی موت کی طرح ہے،جو موت سے ہر لمحہ فرارچاہتا ہے۔
ہم موت سے کیوں بھاگتے ہیں؟کیونکہ ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جو مادیت پرست اوردنیاداری پہ یقین رکھتا ہے جو دنیا کو آخرت پر ترجیح دیتا ہے ،آخرت پہ قولی ایمان رکھتا ہے مگر عملی ایمان کے لئے اسے ابھی برسوں کا سفر درکار ہے۔گلوکار اسد عباس کی جواں سالہ موت چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ موت صرف بوڑھوں کو نہیں آتی موت وہ حقیقت ہے جو لذتیں چھین لینے پہ قادر ہے۔

قرآن مجید میں ارشاد باری تعالی ہے”کل نفس ذائقتہ الموت “ہر نفس نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے،جب یہ طے ہے کہ زندگی اور موت کا چولی دامن کا ساتھ ہے اور یہ بھی طے ہے کہ وہ کسی وقت بھی آ سکتی ہے تو پھر ہر لمحہ ہر آن اس کی تیاری ہونی چاہیے،ایسا سلیبس ایسے موٹیویشنل سپیکر جو ہمیں زندگی کے ساتھ ساتھ فکر آخرت دے سکیں کی اشد ضرورت ہے ۔گلوکار اسد عباس کی موت سے کیا سیکھا؟

مثل مشہور ہے کہ موت کو یاد رکھنا نفس کی تمام بیماریوں کا علاج ہے ۔اور نفس ہی تمام بیماریوں کی جڑ ہے نفس ہی ہمیں جہنم میں اوندھے منہ گرانے والا ہے ۔آج اہل مغرب کے موٹیویشنل سپیکر اپنی عوام کو بتا رہے ہیں کہ جو بھی کام کرو اس کا اینڈ رزلٹ سوچ کے کرو،اور یہی بات اسلام چودہ سو سال سے کہہ رہا اپنا ہر عمل آخرت کو سامنے رکھ کرو ،فکر آخرت ہی گناہوں سے روک سکتی ہے، مایوسی سے امید کی طرف لا سکتی ،محدود زندگی سے ایک ایسی دنیا کا خواب دکھا سکتی جو ہمیشہ رہنے والی ہے۔

اسد عباس کی موت کا ایک سبق یہ بھی ہے کہ کیریر سے بھی زیادہ اہم اخروی زندگی کی فکر ہے ۔اسد عباس نے اپنے کیریر کے لئے بہت تگ و دو کی ،نام بنایا ایوارڈ جیتے،کاش وہ اپنی آخرت کے لئے بھی کچھ کر جاتا تو مرتے وقت خود کو اتنا تہی دست محسوس نا کرتا۔

اسد عباس کی بے وقت موت ہمیں یہ بھی بتاتی ہے موت کبھی بے وقت نہیں آتی یہ پمیشہ اپنے وقت پہ آتی ہے۔ یہ انسان کی گھات میں ہے کسی بھی وقت آ سکتی ہے اس سے لا علم وہی رہ سکتا ہے جو آخرت کا انکاری ہو جبکہ ہم مسلمان جو موت کو برحق تو مانتے ہیں مگر کتابوں میں،عملا مانتے ہوتے تو اپنے بچوں کو جس طرح صبح اٹھا کر سکول بھیجتے ہیں بالکل ایسے ہی صبح نماز کے لئے بھی اٹھاتے۔
نبی رحمت کا قول ہے “لذتوں کو ختم کر دینے والی موت کو ہمیشہ یاد رکھو”
گلوکار اسد عباس کی موت سے کیا سیکھا؟کمینٹ سیکشن میں ضرور بتائیے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں