83

غلامی کے خاتمے کا عالمی دن

تحریر شئیر کریں

غلامی کے خاتمے کا عالمی دن
23 اگست دنیا بھر میں غلامی کے خاتمے کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے ۔اللہ تعالی نے انسان کو آزاد پیدا کیا ہے کسی کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ انھیں غلام بنا کر ان کی آزادی سلب کر سکیں۔یہ دن دنیا میں شعور اجاگر کرتا ہے کہ غلامی کی جہاں تک ہو سکے مذمت کی جائے،مگر کیاآرٹیکل لکھنے پروگرام کرنے سے غلامی ختم ہو جائے گی؟
اس دن کو منانے والے کون ہیں ؟اہل مغرب مگر درحقیقت وہ خود اس نظام کو ابھی تک قائم رکھے ہوئے ہیں۔چھوٹے ممالک پہ قابض ہو کر ان کی رعایا کو غلام بنانا ان کا دستور ہے ایسے میں یہ شعور اجاگر کرنا کہ غلامی کا خاتمہ دن منانے سے ممکن ہے بالکل غلط ہےجیسے والدین کا دن منانے سے والدین کے حقوق ادا نہیں ہو پاتے ویسے ہی غلامی کا دن منانے سے غلامی کا خاتمہ ممکن نہیں ہے۔g
اب سوال یہ ہے کہ غلامی کا خاتمہ کیسے ممکن ؟
آئیے تاریخ کے جھروکوں سے کچھ مناظر یاد کرتے ہیں چودہ سو سال پہلے کے مناظر عرب کی سرزمین جہاں غلامی کا نظام موجود تھا ہر گھر میں لونڈی اور غلام پائے جاتے تھے پھر اسلام کا ظہور ہوا تو اسلام واحد مذہب تھا جس نے غلامی کے نظام کو جڑوں سے اکھاڑ پھینکا ،بہت سے گناہوں کا کفارہ غلام آزاد کرنا تھا صحابہ اکرام جو مالی اعتبار سے مضبوط تھے وہ غلام آزاد کرنا باعث سعادت و ثواب سمجھتے تھے ،یہی وجہ تھی کہ دیکھتے ہی دیکھتے سرزمین عرب سے غلامی کا نظام ختم ہو گیا۔
غلامی کی مذمت کے لئے نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے “کسی گورے کو کالے پر اور کالے کو گورے پر کوئی برتری نہیں ،سب آدم کی اولاد ہیں”
ہر انسان کو اللہ نے جو عزت و تکریم دی ہے وہ اس کا مستحق ہے اس کو انسان ہونے کی حثیت سے اہم سمجھا جائے،یہ اس کا پہلا حق ہے۔
غلامی نعروں سے ختم نہیں ہوگی اسلام کی طرح عملا اقدام اٹھانا ہوگا جبھی اس کا خاتمہ ممکن ہے۔
میں سوچ رہی تھی کہ غلامی اتنی بری کیوں ہے؟بطور پاکستانی پاکستان کو آزاد ہوئے پون صدی بیت چکی مگر آج بھی دماغوں میں بیڑیاں اور ہتھکڑیاں موجود ہیں جو ہمیں آگے بڑھنے سے روکتی ہیں ،صرف اس بات سے محسوس ہوا کہ اسلام جو دین فطرت ہے اس نے غلامی کی اتنی مذمت کیوں کی ہے کیونکہ یہ جسموں کو ہی نہیں دماغوں کو بھی غلام بنا کر انھیں ہمیشہ کے لئے اپاہج بنا دیتی ہے بقول اقبال
غلامی میں نا کام آتی ہیں تدبیریں نا شمشیریں
جو ہو ذوق یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں
ایک اور جگہ فرماتے ہیں
غلامی سے بدتر ہے بے یقینی
تو غلامی کا ایک ثمر بے یقینی بھی ہے جو ایمان کے الٹ ہے ،ایمان راہ نجات ہے اور بے یقینی راہ غم ،یقین اللہ والوں کی صفت ہے ایک دلچسپ تحقیق نمازی قوموں کے حوالے سے سامنے آئی ہے وہ قومیں جو نماز کی پابند ہیں وہ قومیں ہیں جو کبھی کسی کی غلامی میں نارہیں ہوں جیسا کہ افغان قوم،غور کریں غلامی کتنی بری چیز ہے انسان جس ذات کا حقیقی معنوں میں غلام ہے اس کی بجائے دوسروں کی غلامی میں چلا جائے تو اپنے حقیقی خالق کو بھی بھول جاتا ہے،اس کی غلامی سے نکل جاتا ہے۔یہ ہے نماز کا فلسفہ ،نماز اس کی بندگی میں آکر خود کو اس کی غلامی میں دینا ہے جب وہ دوسروں کا غلام بنتا ہے تو اس کی غلامی سے نکل جاتا ہے۔
اللہ سے دعا ہے وہ ہمیں بطور قوم حقیقی معنوں میں آزاد کرے۔آمین

غلامی کے خاتمے کا عالمی دن کے موقع پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں