81

مہنگائی کے اسباب اور اس کا حل

تحریر شئیر کریں

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿ وَمَآ أَصَٰبَكُم مِّن مُّصِيبَةٍۢ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُواْ عَن كَثِيرٍۢ﴾
تمہیں جو بھی مصیبتی
پہنچتی ہیں وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کے اعمال کا بدلہ ہے اور وہ (اللہ تعالیٰ) تو بہت سی باتوں سے درگزر فرما دیتا ہے ۔
(الشوریٰ 30)

اللّٰہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ ٱلْقُرَىٰٓ ءَامَنُواْ وَٱتَّقَوْاْ لَفَتَحْنَا عَلَيْهِم بَرَكَٰتٍۢ مِّنَ ٱلسَّمَآءِ وَٱلْأَرْضِ وَلَٰكِن كَذَّبُواْ فَأَخَذْنَٰهُم بِمَا كَانُواْ يَكْسِبُونَ﴾
اور اگر ان بستیوں کے رہنے والے ایمان لے آتے اور پرہیز گاری اختیار کرتے ، تو ہم ان پر آسمان و زمین کی برکتیں کھول دیتے لیکن انہوں نے تکذیب کی تو ہم نے ان کے اعمال کی وجہ سے ان کو پکڑ لیا۔
(سورت الاعراف 96)

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
{فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا ۔ يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُم مِّدْرَارًا ۔ وَيُمْدِدْكُم بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وَيَجْعَل لَّكُمْ جَنَّاتٍ وَيَجْعَل لَّكُمْ أَنْهَارًا ﴾
اور میں نے کہا کہ اپنے رب سے اپنے گناہ بخشواؤ اور معافی مانگو وہ یقیناً بڑا بخشنے والا ہے۔
وہ تم پر آسمان کو خوب برستا ہوا چھوڑ دے گا۔
اور تمہیں خوب پے در پے مال اور اولاد میں ترقی دے گا اور تمہیں باغات دے گا اور تمہارے لیے نہریں نکال دے گا۔
(سورت نوح 10-12)

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لایا اور عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:
قیمتیں مقرر فرما دیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تم اللہ تعالیٰ سے دعا کرو۔
پھر ایک اور شخص آیا اس نے کہا:
یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیمتیں مقرر کر دیں ۔
تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اللہ تعالیٰ ہی قیمتیں گھٹاتا اور بڑھاتا ہے۔
اور میں امید رکھتا ہوں کہ جب میں اللہ تعالیٰ سے ملاقات کروں تو میں نے کسی پر ظلم نہ کیا ہو۔
(ابو داؤد 3450 شیخ البانی رحمہ اللہ نے صحیح فرمایا)

امام سلمة بن دينار رحمه الله سے کہا گیا کہ مہنگائی بہت ہو گئی ہے، آپ کیا فرماتے ہیں ؟
تو آپ نے فرمایا :
تم اس سے کیوں پریشان ہوتے ہو؟
جو ذات ہمیں آسائش میں رزق دیتی تھی وہ مہنگائی میں بھی دے گی۔

[ حلية الأولياء لأبي نعيم :3/ 339 )

بعض سلف سے کہا گیا:
مہنگائی بہت ہو گئی ہے۔
انہوں نے فرمایا:
مہنگائی کو استغفار کے ذریعے کم کرو۔

شيخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
مہنگائی کا بڑھ جانا اور قیمتوں کا کم ہو جانا اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی بھی ان کا پیدا کرنے والا نہیں ہے۔
اور ان میں سے جو بھی وقوع پذیر ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی مشیت اور قدرت سے ہی ہوتا ہے۔
لیکن اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے بعض حوادث کا سبب بندوں کے اعمال کو بنایا ہے،
جیسا کہ قاتل کو مقتول کی موت کا سبب بنایا ہے۔
اور مہنگائی کا بڑھ جانا بندوں کے ظلم کے سبب سے بھی ہو سکتا ہے۔
اور بعض لوگوں کے اعمال صالحہ قیمتوں کے کم ہونے کا سبب بھی ہو سکتے ہیں۔
(مجموعی الفتاوی 8/ 519)

امام ابن مفلح رحمہ اللہ(763ھ) فرماتے ہیں:
عجیب بات ہے اکثر لوگوں کی کہ وہ انہی باتوں پر روتے رہتے ہیں کہ گھرانے تباہ ہوچکے ہیں، بےروزگاری عام ہو چکی ہے، زمانہ خراب ہے اور مہنگائی بہت ہو چکی ہے۔
لیکن اس بات پر کبھی نہیں روئے کی دین اجنبی ہو چکا ہے، کئی سنتیں مردہ ہو چکی ہیں، بدعات پھیل چُکی ہیں، اور نہ ہی کبھی اپنی کوتاہیوں پر آنسو بہائے۔ یہ سب کچھ ایمان کی کمزوری کی وجہ سے اور دنیا کی عظمت ان کی آنکھوں میں سمانے کی وجہ سے ہے۔

مصدر: الآداب الشَّرعية(240/3)

یونس بن عبید رحمه اللہ فرماتے ہیں:
میں حسن بصری رحمه اللّٰہ کی صحبت میں تیس سال رہا ہوں،
میں نے ان سے یہ باتیں کبھی بھی نہیں سنی کہ: حاکم معزول ہو گیا ہے ، اور (فلاں )کی حکومت قائم ہو گئی،اور نہ ہی کبھی یہ سنا کہ مہنگائی بہت بڑھ گئی ہے، اور نہ ہی کہ قیمتیں کم ہو گئی ہیں، اور نہ ہی کہ موسم بہت گرم ہو گیا ہے،
وہ تو ہمیشہ موت کا ذکر کیا کرتے تھے جو آپ کے پاس آ کر رہے گی۔
مصدر: أدب النساء(187)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں