66

معروف مفسرۂ قرآن “کریمان حمزہ” وفات پاگئیں

تحریر شئیر کریں

معروف مفسرۂ قرآن “کریمان حمزہ” وفات پاگئیں

*اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ
*ابتدائی احوال:*

کریمان حمزہ 8 فروری 1942ء کو قاہرہ میں پیدا ہوئیں۔ان کے والد ڈاکٹر عبداللطیف حمزہ قاہرہ میں کالج آف ماس کمیونیکیشنز میں صحافت کے پروفیسر تھے ۔انھوں نے اپنی بیٹی کو بچپن ہی سے لکھنے پڑھنے کا بھرپور ماحول فراہم کیا۔آپ پندرہ سال ہی کی عمر میں میجر جنرل محمود ریاض سے شادی کے بندھن میں بندھ گئی ۔لیکن شادی ان کی تعلیم کے حصول میں رکاوٹ نہ بنی اور انھوں نے قاہرہ یونیورسٹی کے شعبہ صحافت میں گریجویشن کی ڈگری حاصل کی ۔اس کے بعد انھوں نے (26 سال کی عمر میں ) صحافتی کیرئیر کا آغاز کیا ۔

*حجاب کا سفر:*
آپ مصر کی پہلی باپردہ صحافی تھیں جنھوں نےحجاب کو بنیادی اور پہلی ترجیح دے دی جب کہ اس دور میں مصری میڈیا میں حجاب پہن کر آنا اپنے آپ کو ذلیل کرنے کا مترادف سمجھا جاتا تھا ۔جب آپ نے مصر میں اسلامی لباس اور حجاب پہننا شروع کیا تو مصری حکام اورحقوق نسواں کے علم برداروں کی طرف سے انہیں سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا لیکن آپ نے ان کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ اس کا تذکرہ انھوں نے اپنی کتاب رحلۃ من السفر الی الحجاب میں کیا ہے۔

*صحافت کے میدان میں:*
کریمان نے مصر میں بڑے پیمانے پر ٹی وی چنل پر بے شمار دینی پروگرام منعقد کئے .نیز بچوں کے لیے بھی ٹی وی پرکئی قرآنی پروگرام منعقد کیے۔کریمان نے 1999ء تک پابندی کے ساتھ ٹیلی ویژن پر دینی، اخلاقی، اصلاحی اور تربیتی نوعیت کے پروگراموں میں پریزینٹر کے طور پر کام کیا۔ آپ نے ٹی وی پروگراموں میں شیخ محمد الغزالی ، شیخ محمد متولی الشعراوی، شیخ یوسف القرضاوی، ڈاکٹر عمر عبدالکافی اور شیخ یاسین رشدی کو نہ صرف متعارف کروایا بلکہ ان کے ساتھ بہت ہی کامیاب اور بصیرت افروز مکالموں کے ذریعے لوگوں میں دینی بیداری کا شعور پیدا کیا ۔آپ ٹیلی ویژن پر مصرکےاسکولر اور لادینی ماحو ل میں لوگوں کے ذہنوں اور ضمیر وں کو مخاطب کرتی تھیں اور روزانہ ناظرین کو سوچنے سمجھنے کا زاویہ فراہم کرتی تھیں ۔

*تفسیر اللؤلؤ والمرجان فی تفسیرالقرآن:*
کریمان حمزہ پچیس کتابوں کی مصنفہ ہیں جن سے مصر میں بڑی تعداد میں خواتین ان سے استفادہ کرتی ہیں جن میں انسائیکلوپیڈیا بھی شامل ہے
کریمان حمزہنے تفسیر کی خدمات کے سلسلے میں بھی ایک اہم کارنامہ انجام دیاہے ۔انھوں نے قرآن مجید کی مکمل اور مفصل تفسیر لکھی ہے جس کا نام “اللؤلؤ والمرجان فی تفسیرالقرآن” ہے .اس تفسیر کا بنیادی ہدف نوجوان اور خواتین ہیں .اسی لیے انھوں نے تفسیر میں تدریسی انداز (Pedagogical Methodology) اختیار کیا ہے .تفسیر کو تیار کرنے میں انھوں نے کئی اساتذہ سے استفادہ کیا .جامعۃ الازہر نے اس تفسیر کو تسلیم کیا ہے اور یہ کسی خاتون کی پہلی تفسیرہے جس کو الازہر یونیورسٹی نے سراہا .یہ تفسیر 2010ء میں تین جلدوں میں مکتبۃ الشروق الدولیہ سے شائع ہوئی ہے۔

*وفات:*
آپ 31 دسمبر 2023ء کو 82 سال کی عمر میں خالق حقیقی سے جاملیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی کوششوں کو قبول فرمائیے اور ان کی کوتاہیں کو معاف کرے۔آمین –

مجتبیٰ فاروق

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں