45

نوکری افسانہ

تحریر شئیر کریں

نوکری افسانہ

افسانہ۔۔۔نوکری
از:قلم۔۔۔ نورین خان پشاور

دو نوجوان اسرائیل کے خفیہ تنظیم کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں جاسوسی افسانہ۔
آج 14 اگست 2023 ہے،اور میں حسب معمول گھر کے قریبی پارک میں بیٹھا، اپنی ماں کی سالگرہ منا رہا تھا۔جی آج میری عزیز ماں کی سالگرہ ہے۔۔
زندگی کے ہنگامے جارے تھے، آج پورے ملک میں جشن آزادی منائی جا رہی تھی۔
اس لئے پارک میں بھی اچھی خاصی بھیڑ جمع ہو چکی تھی۔
وہی چہل پہل گہما،گہمی تھی ہر طرف لوگ ہی لوگ نظر آرہے تھے۔
میں انہی خیالوں میں گم تھا،کہ مجھے میرے دوست ندیم کی آواز سنائی دی۔۔
یار شاھد تم بھی نہ۔۔۔
یہ لو مزیدار کیک میں لے آیا،چلو اب ساتھ میں اماں جی! کی سالگرہ مناتے ہیں۔
صبر کرو میں موم بتی بھی لایا ہوں میرے دوست۔

ویسے شاھد تم ہر سال ماں جی کی سالگرہ مناتے ہو،اس کی کوئی خاص وجہ؟
ندیم میرے دوست میری ماں تو مر چکی ہے،مگر کیا کروں ماں کی جدائی نے مجھے کمزور بنا دیا ہے۔
کتنی مشکلات سے میری ماں نے مجھے پڑھایا، لکھایا ایم۔اے کی ڈگری دلائی گھر،گھر جا کر کام کرتی،مگر ہمیں بھوکا سونے نہیں دیا۔۔
جب میں ماں کی سالگرہ مناتا ہوں، تو میرے دل کو خوشی ملتی ہے بس۔آنسو صاف کرتے ہوئے۔
یہ ہوئی نا بات میرے جگر۔۔۔
اور تمھارا چھوٹا بھائی نوید؟
وہ اپنے دوست کے گھر گیا ہے،جشن آزادی منانے بچہ ہے نہ۔
شاھد اور نوید دو بھائی تھے بچپن میں والد کا انتقال ہو چکا تھا۔
ایک ماں تھی مگر وہ بھی ایک سال پہلے اللہ کو پیاری ہو گئی۔
تب سے شاھد اپنے چھوٹے بھائی نوید کو ماں کیطرح پال رہا تھا۔
اگرچہ حالات مشکل تھے، مہنگائی تھی کوئی کاروبار نوکری نا تھی۔
مگر اسکے باوجود شاھد نے ہمت نہیں ہاری، مزدوری کرتا اور ہر جگہ نوکری کے لئے انٹرویو دینے جاتا۔
اور ان مشکل دنوں میں اسکا واحد سہارا اسکا جگری دوست ندیم تھا۔
دونوں ایک محلے میں رہتے تھے، اور ایک ساتھ کالج میں بھی پڑھتے تھے۔
گرمیوں کا موسم ختم ہو چکا تھا،اور پشاور میں گلابی جاڑے کا راج تھا،جب ہم باڑہ مارکیٹ پہنچے تو مکمل خاموشی اور ویرانی تھی۔کسی زمانے میں یہ تجارت کا ایک بہت بڑا مرکز تھا۔
رک کیوں گئے ندیم۔۔۔
بس ایسے ہی چلو قصہ خوانی چلتے ہیں، وہاں قہوہ پیتے ہیں اور ساتھ ساتھ گرم،گرم جلیبی بھی کھائیں گے۔
یار ندیم تم ہمیشہ مجھے سیر کے بہانے کبھی ادھر تو کبھی ادھر کسی پہیئے کیطرح گھماتے رہتے ہو۔
ہاہاہاہا یہ اس لئے شاھد کہ تمھارا یہ دماغ تازہ دم رہے۔آخر تمھاری صحت کا بھی تو خیال رکھنا ہے نہ۔
قصہ خوانی پہنچ کر دونوں چائے کی دوکان پر بیٹھ گئے، اور ہمیشہ کیطرح قہوے کا آرڈر دیا۔
ابھی قہوہ پی ہی رہے تھے، کہ ایک آدمی ادھیڑ عمر کوٹ پتلون پہنے پاس آتا ہے، اور ندیم سے مخاطب ہو کے کہتا ہے کیا میں یہاں بیٹھ سکتا ہوں؟
شاھد نے اس آدمی کو دیکھا تو پوچھا۔۔
محترم اگر میں غلطی پر نہیں تو آپ ہمیشہ ہماری جانب دیکھتے رہتے ہیں، پھچلے ایک مہینے سے؟
جی آپ نے ٹھیک اندازہ لگایا مسٹر۔۔۔۔
جناب یہ میرا دوست شاھد ہے،اور مابدولت یعنی میں ندیم علی ہوں۔
آوہ! آپ دونوں سے مل کر خوشی ہوئی۔خیر میں کام کی بات پر آتا ہوں،میں نے نوٹ کیا ہے جب بھی آپ لوگ یہاں قہوہ پیتے ہو تو کام اور نوکری کی باتیں کرتے ہو، اگر میں غلط نہیں ہوں تو آپ لوگوں کو نوکری کی تلاش ہے؟
شاھد اور ندیم حیرانی سے سن رہے تھے۔
جی ایسا ہی ہے۔
تو جناب یہ لو کارڈ اس پر فون کر لو تم دونوں کو کام مل جائے گا۔
اچھا خداحافظ۔۔۔
عجیب پاگل اور خبطی انسان تھا ندیم بولا۔۔
ہاں یار واقعی نہ جان، نہ پہچان میں تیرا مہمان؟
حد ہے ویسے ۔۔ویسے فون کرنے میں کوئی حرج تو نہیں کر لیتے ہیں۔
اچھا چلو پی سی او سے کرتے ہیں۔
ہیلو جناب آپکا نمبر ہمیں ایک آدمی نے دیا ہے۔
جی میں سن رہا ہوں۔۔کیا آپکو نوکری کی تلاش ہے؟
جی ایسا ہی ہے۔
تو شام کو قریبی پارک فوارے کے پاس بیٹھ جائیے ہمارا نمائندہ آپ سے رابطہ کر لے گا۔
مگر جناب ہم اسکو پہچانے گے کیسے؟
اسکی فکر تم مت کرو، وہ پہچان لینگے آور فون بند۔
کیا ہوا ندیم؟
عجیب پاگل انسان تھا کہا ہے قریبی پارک جاو۔
یار شاھد آج ہمارا دن ہی خراب ہے، پتہ نہیں صبح کس کا منہ دیکھ لیا تھا۔
اچھا چلو زیادہ ٹینشن مت لو، ورنہ تمھارے یہ ریشمی بال گر جائے گے،اور پھر کوئی لڑکی تم سے شادی نہیں کرے گی۔
ہاہاہاہا شاھد تم واقعی بہت خراب ہو۔
ابدالی صاحب اپنی گاڑی خود چلا رہے تھے اور بالآخر ایک بہت بڑی سرکاری عمارت کے سامنے گاڑی روک دی، اور گیٹ پر کھڑے چوکیدار نے سیلوٹ مار کے سلام کیا۔
سلام ابدالی صاحب! حسب معمول آپ وقت سے دس منٹ پہلے دفتر پہنچے ہے۔
جی شیر خان چچا! صبح کا سلام۔
سامنے عمارت پر لکھا تھا پاکستان کا خفیہ ادارہ۔
ابدالی صاحب عمارت کے اندر چلے گئے۔
اسلام علیکم ابدالی سلام۔۔
وعلیکم السلام مس سکینہ۔۔۔کیسے مزاج ہے۔
ٹھیک ٹھاک سر۔۔۔یہ لیں آپکے دفتر کی چابی۔
مس سکینہ بابر صاحب آئے ہیں؟
جی ابدالی صاحب وہ آپکے آفس میں پہلے سے موجود ہے آپکے منتظر ہیں۔
بہت شکریہ مس سکینہ۔خوش رہیں۔
سلام ابدالی صاحب۔۔۔ میں کب سے آپکا منتظر تھا۔
کیوں جناب آج کوئی خاص بات ہے کیا؟
نہیں میرے دوست بس ایسے ہی۔
بابر فائل پڑھنے میں مصروف تھے ۔
ابدالی صاحب فون ملاتے ہے۔
مس سکینہ حسین دفتر آئے ہیں تو فورا اسے خبر دو۔کہ مجھے سے بات کریں۔
کیا،بات ہے ابدالی صاحب بڑے طیش میں ہو۔
نہیں بابر ایسی کوئی بات نہیں۔
کیا میں اندر آ سکتا ہوں سر؟
جی مسٹر حسین آئیے ۔۔۔
یار ندیم ہم کب سے پارک پہنچے ہوئے ہیں مگر کوئی ہم سے ملنے ہی نہیں آیا۔لگتا پے ہمیں بےوقوف بنایا ہے۔
یار شاھد تم صبر تو کرو۔
ندیم وہ دیکھو ایک بوڑھا آدمی سامنے جارہا ہے یقینا یہی ہم سے ملنے آیا ہے۔
احمق وہ بوڑھا تو خود چل نہیں سکتا ذرا اسکی عمر تو دیکھو۔۔اسی دوران ایک نازک اور حسین لڑکی سامنے سے آتے دیکھائی دی اس نے بلیو پینٹ اور تنگ قمیض پہنی ہوئی تھی۔آنکھوں پے کالا چشمہ اور شانوں پے شہد جیسے سنہری بال لہرا رہے تھے۔واقعی وہ کوئی اپسرا معلوم ہوتی تھی۔
اچانک سے ہمارے قریب آئی اور بےتکلفی سے ندیم کے گالوں کو چھوتے ہوئے بولی آپ دونوں کو نوکری چائیے نہ؟ اور ہمارے ساتھ بینچ پر بیٹھ گئی۔
ندیم کا تو پورا چہرہ شرم و حیا سے لال ہو گیا آخر زندگی میں پہلی بار کسی لڑکی نے اسے چھوا تھا۔
خیر میں نے پوچھا محترمہ آپ کون؟
تو وہ بولی میرا نام تانیہ ہے اور آپ ۔۔۔۔
جی میرا نام شاھد ہے اور میں نے کمپیوٹر میں ماسٹر کیا ہے پشاور یونیورسٹی سے اور یہ میرا دوست ندیم ہے اس نے بھی کمپیوٹر میں ماسٹر کیا ہے۔البتہ اسکی زبان ذرا لمبی ہے۔۔۔
اس انجان لڑکی نے ایک لفافہ ندیم کو دیا، اور ایک سفید لفافہ شاھد کو دیا۔
مسٹر شاھد! اس لفافے میں آپکے کام کی نوعیت، ایڈریس اور تمام معلومات درج ہے۔اور پانچ ہزار ڈالر تنخواہ ایڈوانس بھی۔
کیا کہا پانچ ہزار روپے۔ ۔۔۔ ندیم کی آنکھیں حیرت سے پھٹ گئی۔۔۔اتنی رقم۔۔۔
شاھد نے پوچھا میرا کام کیا ہے؟ مس تانیہ
کچھ خاص نہیں بس شہر کے وسط میں جو بڑی بلندوبالا عمارت ہے، اسکی روزانہ تصاویر لینی ہے، اندر اور باہر سے چونکہ تم کمپیوٹر جانتے ہو تمھیں اندر تک رسائی مل جائے گی،اندر بھی تصویریں لینی ہے۔ خفیہ کیمرہ لفافے میں موجود ہے، بس وہ تصاویر ہمیں روزانہ سینڈ کروانی ہے۔
اور ندیم کا لفافہ تو بروان ہے؟
جی ہاں ندیم کا کام پاکستان سے باہر ہوگا۔یعنی میرا مطلب ہے ماسکو۔۔ندیم پہلے وہاں کام کی تربیت حاصل کرے گا، یعنی ڈیجٹل خاص تکینک جیسے فنون حرب کیطرح۔۔۔
مسٹر ندیم لفافے میں ماسکو کا ٹکٹ اور دس ہزار ڈالر موجود ہے، آپکو آج رات میرے ساتھ ماسکو جانا ہے۔
مگر مس تانیہ روس جانا کوئی آسان تھوڑی ویزہ اور پاسپورٹ؟
اسکی تم فکر مت کرو، بس ایک تازہ تصویر لو،اور اپنے یہ ریشمی لمبے بال کٹوا لو مکمل گنجے ہو کر اور کالا چشمہ کیساتھ تصویر مجھے دو۔ہمارے دوست ایک گھنٹے میں ویزہ پاسپورٹ ایشو کر دینگے روس کا۔
ندیم یہ سن کر بہت پرجوش ہوا۔
اچھا اپنا موبائل نمبر مجھے دے دو تاکہ بعد میں رابطہ ہوسکے۔اور مسٹر ندیم تم شام سات بجے آج پی سی ہوٹل آجانا وہاں سے باچہ خان ایئرپورٹ جائے گے۔اوکے بائے۔۔
یار ندیم عجیب لڑکی تھی ہمیں بولنے کا موقع ہی نہیں دیا اور چلی بھی گئی۔۔
کیا نوکریاں ایسی ملتی ہے آج کل حیرت ہے؟
اور یار تمھیں کیا فکر جاو کام پے لگ جاو میں حجام کی دوکان جارہا ہوں۔اپنی ٹنڈ کروانے سنا نہیں تصویر کھنچوانے کے لئے۔مجھے آج روس جانا ہے۔روس سمجھے میرے غریب دوست شاھد۔۔۔
ایک تو تم مت کھانسو شاھد۔۔بس بس کرو جاڑو والے جمعدار میں کب سے دیکھ رہا ہوں، جب سے ہم اس خاتون سے باتیں کر رہے تھے، تم مسلسل ایک ہی جگہ پے جاڑو دے رہے ہو، حد ہے ویسے۔۔
یار ندیم ویسے یہ جاڑو والا کتنا صحت مند لگ رہا ہے، کیا مضبوط کسرتی بدن ہے اسکا۔
ہاں یار واقعی اسکو تو دیکھو۔۔یہ سن کر جاڑو والا چلا گیا۔اور ندیم بھی ہوٹل جانے کے لئے نکلا۔
اسلام علیکم ابدالی سر۔۔۔وعلیکم السلام مہدی آئیے کیا اپڈیٹ ہے آج؟
سر! پہلے آپ میرا لیپ ٹاپ چیک کریں۔۔۔براہ کرم یہ دیکھیں۔
یہ تو دو جوان لڑکوں کی تصویریں ہیں مہدی؟
جی سر یہ دو دوست ہیں اور نہایت غریب طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔یہ شاھد ہے کمپیوٹر میں ماسٹر کیا ہے۔اور یہ دوسرا شاھد ہے یہ بھی یتیم ہے اسکی ایک بہن ہے جو شادی شدہ ہے اور لاہور مقیم ہے۔یہ بھی کمپیوٹر میں ماہر ہے۔
تو مہدی اس میں حیرت کی کیا بات ہے؟
ابدالی سر! اصل میں معاملہ ایسا نہیں جیسے نظر آرہا ہے۔کل رات یہ ندیم نامی لڑکا ماسکو چلا گیا ایک تانیہ نامی لڑکی کیساتھ۔
اچھا تو پھر پریشانی کیسی؟
ابدالی سر! بات یہ ہے کہ ایک گھنٹے میں پاسپورٹ اور ویزہ مل گیا جب ہمارے بندوں نے چیک کیا تو ندیم کے پاسپورٹ پے اصل نام کی جگہ ندیم ملک لکھا ہوا تھا، اور تصویر میں حلیہ تبدیل تھا، یعنی مکمل گنجا اور ادھیڑ عمر۔
جبکہ ندیم جوان اور اصل نام ندیم علی ہے۔اور اسکے پاس اتنی آمدنی ہی نہیں کہ روس کا سفر کر سکے؟ دوسرا وہ لڑکی تانیہ وہ اسکی کوئی رشتہ دار نہیں تو وہ ندیم کیساتھ کیوں گئی؟
بابر صاحب مسکرائے اور کرسی سے اٹھ گئےکھڑے ہوئے مہدی! اور یہ ساری باتیں تمھیں عباس نے بتائی ہوگی؟ ہاہاہاہا
جی سر بالکل۔ابدالی سر بولے تو مہدی پھر یہ مشن عباس کا ہے۔
اسے آج کی فلائٹ سے روس بھیجو اور وہاں مکمل معلومات سے مجھے باخبر کرو۔جلدی۔۔۔جلدی۔
یس سر۔۔۔مہدی سیلوٹ مارتے ہوئے۔۔اور آفس سے چلے گئے۔۔
ندیم پوری فلائٹ میں تانیہ کو چھپ چھپ کے دیکھ رہا تھا۔
کیا بات ہے ندیم تم مجھے کیوں غور سے دیکھ رہے ہو؟
کیوں خوبصورت لوگوں کو دیکھنا گناہ ہے؟
یہ سن کر تانیہ کھل کھلا کر مسکرا دی اور خوش ہوئی۔ماسکو میں اترتے ہوئے پہلے جو خبر ملی وہ یہ تھی کہ ائیر پورٹ سے تانیہ کا سامان غائب تھا۔وہ بہت پریشان تھی۔
ندیم نے اپنے لفافے سے وہی پانچ ہزار ڈالر نکالے اور اسے سے تانیہ کے لئے کپڑے اور سامان وغیرہ خریدا اور سارے روپے خرچ کر دئیے۔
ندیم کو تانیہ سے انسیت ہو گئی تھی اور اسے بہت اچھی لگنے لگی تھی۔ماسکو کی سڑکوں پر حسب معمول برف باری ہو رہی تھی۔تانیہ نے ایک ٹیکسی رکھوائی اور رشین زبان میں کچھ سمجھایا اور گاڑی روانہ ہو گئی۔
ٹھیک ایک گھنٹے بعد ایک بہت بڑی عمارت کے سامنے گاڑی رکی اور وہاں دونوں اپنے سوٹ کیس سمیت داخل ہو گئے۔
خوشامدید مس تانیہ آپکا سفر اچھا گزرا ہو گا۔
گڈ ڈے جنٹل مین۔۔۔
ایک لمبا تڑنگا آدمی جس نے کالا پینٹ کوٹ پہن رکھا تھا دونوں کا استقبال کیا اور دونوں کو اپنے اپنے کمرے کی چابی دی۔
مسٹر آورام۔۔۔۔ ڈیوڈ جون اپنے کمرے میں ہے کیا؟
جی مس تانیہ وہ آرام کر رہے ہیں آپ کل صبح ان سے مل سکتی ہے۔بہت شکریہ۔
ادھر شاھد اس عمارت کے پاس کھڑا اسکی پچاس کے قریب تصاویر کھنچ چکا تھا۔بالآخر وہاں گیٹ پر کھڑے چوکیدار سے پوچھنے لگا؟
سلام چچا یہ کس چیز کی عمارت ہے؟ کوئی بورڈ وغیرہ نہیں لگا نا نام لکھا ہے؟
بیٹا یہ پاکستان کا بہت بڑا ادارہ ہے یہاں خاص ایجادات اور ملک کے ڈیفنس کے چیزیں سائنس دان ایجاد کرتے ہیں۔یہاں عام عوام کا داخلہ منع ہے،اور تم بھی تصاویر مت بناو بری بات ہے اور بلا ضرورت ادھر مت پھیرو سمجھ گئے ؟ جی چچا بہت شکریہ۔
شاھد نے تمام تصاویر جو عام سی تھی اور باہر سے متعلق تھی ساری تانیہ کو سینڈ کر دی۔
اچانک شاھد کے موبائل پر مسیج آیا کہ آپکے بینک اکاؤنٹ میں مزید پانچ ہزار ڈالر آ چکے ہیں۔شاھد یہ دیکھ کر بہت خوش ہوا کہ یہ کتنی آسان نوکری ہے۔
مگر رات کو سوتے وقت وہ سوچنے پر مجبور ہوا کہ آخر تانیہ ان تصاویر کا کیا کریں گی؟
مگر اس کو اپنے ہی سوالوں کے جواب نہیں مل رہے تھے۔اسی دوران دو مہینے گزر گئے۔ندیم کی کوئی خیر خبر نا تھی۔شاھد بہت پریشان تھا۔
مہدی ماسکو پہنچ چکا تھا اور سب سے پہلے اس نے تانیہ کا پیچھا کیا اس نے تانیہ کے کچھ تصاویر ایک ہوٹل میں خفیہ کیمرے سے لئے اور اسی وقت حسین کو میل کر دئیے۔۔
ابدالی سر! مہدی کا میل آیا ہے مہربانی کرکے توجہ دیجئے۔سر کچھ تصاویر ہیں چیک کریں۔
تصاویر بڑے سکرین پر ایک ایک کرکے آتی ہیں جس میں تانیہ ایک آدمی کیساتھ محو گفتگو ہے۔
بابر صاحب فورا ابدالی کو غور سے دیکھتے ہیں ابدالی مجھے پہلے سے علم تھا کہ معاملہ اتنا سیدھا نہیں۔صیح کہا میرے دوست یہ تانیہ کیساتھ جو آدمی محو گفتگو ہے یہ ڈیوڈ جون ہے آسرائیل کے خفیہ تنظیم موساد کا کارندہ۔
بالکل ابدالی صاحب یہ ڈیوڈ جون ہے۔مجھے لگتا ہے ندیم نوکری کے چکر میں ان کے ہتھے چڑھ گیا ہے۔
حسین مہدی کو جوابی میل لکھو کہ تانیہ ہاتھ سے نکلنے نا پائے اور ہاں بہت احتیاط سے کام لے بہت شاطر دشمنوں سے واسطہ پڑا ہے۔
مہدی کی جستجو موساد کے ساتھ رابطوں سے پردہ اٹھانا تھا۔اس لئے
مہدی، ایک متجسس ذہن رکھنے والے پرعزم فرد کے لیے، ماسکو شہر ایک ایسی تحقیقات کا پس منظر بن گیا۔جو موساد کے ساتھ چھپے ہوئے روابط کا پردہ فاش کرے گا۔جاسوسی اور خفیہ کارروائیوں کے جال کو کھولتے ہوئے مہدی سچائی کی تلاش میں مگن تھا۔مہدی نے تانیہ اور ندیم کے موساد کے ساتھ مبینہ روابط کے بارے میں سچائی سے پردہ اٹھانے کے لیے ایک جرات مندانہ مشن کا آغاز کیا۔
مہدی کے عزم نے اڑان بھری۔
سچائی اور انصاف کی خواہش سے متاثر، مہدی نے تانیہ اور ندیم پر نگرانی شروع کی، اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کے ساتھ ان کے ملوث ہونے کا شبہ تھا۔اپنی گہری مشاہدے کی مہارت اور ایک پیچیدہ منصوبے سے لیس، وہ ماسکو کی ہلچل سے بھرپور گلیوں میں بغیر کسی رکاوٹ کے گھل مل گئے، اور ان کے روزمرہ کے معمولات کا خاموش اس کا مقصد ان کی زندگیوں میں خلل ڈالنا نہیں تھا بلکہ عقلمندی سے ثبوت اکٹھا کرنا تھا، دھاگے کے ذریعے سچائی کو کھولنا تھا۔
دانشمندانہ گفتگو اور خفیہ مشاہدے کے ذریعے، اس نے تانیہ اور ندیم کے درمیان خفیہ ملاقاتوں کا پتہ لگایا۔
تانیہ آخر ڈیوڈ جون کیساتھ کیوں تھی؟ جو اسرائیل کی قومی انٹیلی جنس ایجنسی موساد کے ساتھ اپنے روابط کا پردہ فاش کرنے کے مشن پر ایک خفیہ ایجنٹ ہے۔
[مہدی کو ایک کیفے میں داخل ہوتے دیکھا گیا ہے جہاں تانیہ اور ندیم بیٹھے ہیں]
مہدی دونوں مشتبہ افراد پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، شواہد اکٹھے کر رہا ہے اور ان کی ہر حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہے۔
[مہدی قریبی میز پر بیٹھا ہے اور تانیہ اور ندیم پر چپکے سے نظر رکھتے ہوئے اپنے فون میں مگن ہونے کا بہانہ کرتا ہے]
اس کی گہری مشاہدہ کی مہارت نے اسے یقین دلایا کہ تانیہ صرف معصوم سیاح ہی نہیں ہیں، بلکہ ماسکو میں رہنے کے پیچھے ان کا کوئی نہ کوئی مقصد ہے۔
مہدی نے ان کا تعاقب مختلف مقامات پر کیا، ریڈ اسکوائر سے کریملن تک، اور یہاں تک کہ ایک اعلیٰ عہدے دار کے ساتھ خفیہ ملاقات تک۔
لیکن جو بات مہدی کو نہیں معلوم وہ یہ ہے کہ تانیہ کوئی عام جاسوس نہیں ہیں۔وہ موساد کے اعلیٰ تربیت یافتہ ایجنٹ ہیں، جو روس کی شہر میں پاکستان کے خاص صلاحیتوں کے بارے میں انٹیلی جنس مواد جمع کرنے کے لیے ایک خفیہ مشن پر ہیں۔
[مہدی کو نوٹس لیتے ہوئے اور احتیاط سے تانیہ اور ندیم کی تصویریں لیتے ہوئے دیکھا گیا ہے]
مہدی کے فون کی گھنٹی بجتی ہے، اور وہ اس کا جواب دیتا ہے۔
اچانک ندیم کو مہدی نظر آتا ہے۔ارے جاڑو والے جمعدار آپ یہاں روس میں کیسے؟
کیا پاکستان کے جمعدار اتنے ترقی کر چکے ہیں۔مہدی مسکرا کے کہتا ہے ندیم مجھے شام کو فون ضرور کرنا اور رومال نیچے گرا دیتا ہے۔ندیم خاموشی سے رومال اٹھا کے جیب میں رکھ دیتا ہے۔
ندیم کون تھا وہ شخص؟ تانیہ تجسس سے پوچھتے ہوئے۔
کوئی نہیں میرا جاننے والا تھا۔چلو واپس چلتے ہیں تانیہ۔یہاں بہت ٹھنڈ ہے۔
شام کو ندیم تانیہ سے بہانہ کرکے باہر جاتا ہے۔
اور ماسکو کے ایک مہنگے شاپنگ سنٹر سے سونے کا خوبصورت لاکٹ خریدتا ہے ایک ہزار ڈالر کا،ندیم بہت خوش ہوتا ہے کہ آج وہ یہ تحفہ تانیہ کو ضرور دے گا۔
ندیم نے مہدی کے بتائے ہوئے نمبر پر بھی کال کیا،
ہیلو ندیم میں مہدی بات کر رہا ہوں میری بات غور سے سنو۔۔یہ جو لڑکی تمھیں نوکری کے بہانے یہاں ماسکو لائی ہے،اس سے محتاط رہنا یہ کوئی نوکری دینے والے اداروں کی رکن نہیں بلکہ اسرائیل کی خفیہ تنظیم موساد سے اسکے رابطے ہیں۔انجانے میں بھی اس سے کوئی چیز یا معاہدہ مت کرنا۔اور بہت زیادہ محتاط رہنا اور احتیاط کرنا، یہ تنظیم اپنے لوگوں پر بھی رحم نہیں کرتی، ذرا سے غلطی پے فورا قتل کر دیتے ہیں۔میں پھر رابطہ کرونگا خداحافظ۔
فون سن کر ندیم کے قدموں تلے زمین سرک گئی۔وہ انجانے میں ملک دشمنوں کے ہتھے چڑھ چکا تھا۔
اس نے فیصلہ کیا کہ ہر صورت نارمل رہنا ہے،اور کسی طرح پاکستان واپس لوٹنا ہے۔مگر اسکا پاسپورٹ اور سامان سب تانیہ کے قبضے میں تھا۔
دوسرا تانیہ کے لئے لیا گیا لاکٹ اس نے واپس دوکان والے دے دیا کہ نہیں چائیے۔
تھوڑی دیر بعد مہدی اس سے ملنے قریبی پارک میں آتا ہے۔جیسے ہی ندیم وہاں جانے کے لئے نکلتا ہے۔ سامنے تانیہ اسکو مشکوک نظروں سے دیکھتی ہے، اور کہتی ہے ندیم! اب اس وقت پارک کیطرف جانے کا مقصد؟
جب کہ ہمیں بہت سارے اہم کام نپٹانے ہے ڈیوڈ جون کیساتھ؟
ندیم نے جواب دیا۔۔ہاں ہاں کیوں نہیں تانیہ ڈئیر مگر مجھے ایک بندے کو پانچ ڈالر واپس کرنے ہے اس لئے بس ابھی واپس آتا ہوں۔
نہیں میں تمھیں نہیں جانے دونگی ندیم۔
ایک طرف تم مجھے محبت بھرے نظروں سے دیکھتے ہو،دوسری طرف مجھ سے باتیں چھپاتے ہو؟
ہمارے ادارے میں یہ سب نہیں چلتا مسٹر ندیم۔
اور پرس سے ریوالور نکال کر تانیہ نے ندیم کے دل پے گولی مار دی۔
ندیم دھڑام سے گر جاتا ہے اور اسکے سینے سے خون نکلنے لگتا ہے۔
مہدی دوڑتے دوڑتے تیزی سے قریب آتا ہے اور اپنے پستول سے تانیہ کے سر کا نشانہ لیتا ہے۔
تانیہ بھی مر جاتی ہے۔
بدبخت عورت ایک بےگناہ پاکستانی نوجوان کو تم نے مار دیا لعنتی ایجنٹوں۔
مہدی ایمبولینس کو فون کرتا ہے ندیم کی بوڈی اس میں ڈال کے اسپتال لے جاتے ہیں۔
ہیلو ہیلو ابدالی سر! مشن از اوور اسرائیلی ایجنٹ مر گئی ہے مگر افسوس ہمیں ڈیوڈ جون اور انکے متعلق اور زیادہ پتہ نا چل سکا کیونکہ تانیہ نے ندیم کو گولی مار دی۔
ابدالی! کوئی بات نہیں مہدی! ویلڈن اب پاکستان واپس آنے کی تیاری کرو۔
ہم آج شاھد کے گھر چھاپہ مارے گے۔اوور۔۔خداحافظ ملتے ہیں جلد ہی۔
کیا ہوا بابر سب تیار ہے نہ؟ حسین،حسن۔
جی ابدالی صاحب ٹیم کی سربراہی عباس کر رہا ہے۔
چلو نکلتے ہیں۔جلدی۔۔۔
شاھد اپنے گھر میں بیٹھا کمپیوٹر پے کام کر رہا تھا۔ کہ اچانک دروازے پے تیز، تیز دستک سنائی دی۔
صبر کرو بھائی صبر کیا دروازہ تھوڑ دوگے۔
جیسے ہی شاھد نے دروازہ کھولا،
چار پانچ اسلحے سے لیس بندے جسکے چہروں پے ماسک تھے،صرف آنکھیں نظر آرہی تھی، تیزی سے گھس آئے اور عباس نے شاھد کے سر پر پستول تان دی۔کہ اگر حرکت کی تو گولی مار دونگا۔
بتاو گھر میں اور کون کون ہے؟
کوئی نہیں ہے گھر میں،اکیلا ہوں۔آپ لوگ کون ہو؟ مجھ سے ایسے کیوں پیش آرہے ہو؟ جیسے میں کوئی دہشت گرد ہوں؟
عباس نے شاھد کے ہاتھ باندھ کر اسی کرسی پے بیٹھایا اور ابدالی صاحب اسکے سامنے بیٹھ گئے میز پے آمنے سامنے۔
ہاں تو جوان کیا نام ہے تمھارا؟
سر شاھد نام ہے اسکا حسن نے کہا۔
اچھا تو شاھد یہ بتاو اس لڑکی سے کب سے تم لوگوں کا رابطہ ہے؟ اور کون کون تمھارے ساتھ شامل ہے اس میں؟
کونسی لڑکی؟ کون لوگ مجھ کچھ سمجھ نہیں آرہا آپ کیا پوچھنا چاہتے ہیں؟
وہی لڑکی تانیہ جس نے تمھیں اور ندیم کو نوکری دلائی تھی؟ بھول گئے۔
نہیں نہیں اس نے ہمیں نوکری کی تفصیلات بتائیں اور کچھ ڈالر دئے، اور پھر ندیم کو روس لے گئی ٹریننگ کے لئے،اور میں اسکے متعلق نہیں جانتا۔
ہم یہ سب جانتے ہیں کہ ندیم روس چلا گیا تھا۔مگر کیا تمھیں معلوم تھا کہ تانیہ کس مقصد سے تمھارے پاس آئی تھی؟
ظاہر ہے ہم بےروزگاروں کو نوکری دینے۔
نوکری نہیں احمق وہ تم دونوں کو پھنسا رہی تھی، اس لڑکی کا رابطہ اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد سے ہے۔یہ ادارہ تم جیسے غریب اور بےروزگار نوجوانوں کو آسان ترنوالہ سمجھتے ہیں، کیونکہ بآسانی استعمال ہو سکتے ہیں۔
یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں سر؟
ابدالی سر بالکل سچ کہہ رہے حسین بولا۔
میں لعنت بھیجتا ہوں اس بےغیرت ملک دشمن عورت پے اور اس نوکری پر۔
شاباش شاھد ہم ایک پاکستانی سے یہی توقع کرتے ہیں۔یہ بتاو تم نے اس عورت کو عمارت کی تصاویر تو نہیں سینڈ کی؟
مجھے افسوس ہے کہ سینڈ کی تھی مگر میں نے عام درختوں، پھولوں باہر کی ادھر ادھر فوٹوز بھیجی تھی۔اندر والی ڈیلیٹ کر دی تھی۔ نجانے کیوں میرا دل اس وقت نہیں مان رہا تھا۔
شاباش مسٹر شاھد۔۔ہم جانتے ہیں کہ تم بےگناہ ہو۔
سر میں اپنے دوست ندیم سے بات کرکے اسے بتانا چاہتا ہوں۔
افسوس مسٹر شاھد۔۔۔اس تنظیم کی رکن تانیہ نے ندیم کو گولی مار دی۔ اور ہمارا ایجنٹ مہدی روس سے کل پہنچ جائے گا۔ہمیں افسوس ہے۔
شاھد رونے لگتا ہے۔
اپنے آنسو پونچھ لو مسٹر شاھد ہمیں تمھارے جیسے ایکسپرٹ اور ماہر ہیکر کی ضرورت ہے۔
جی ابدالی سر میں نے اور ندیم نے کمپیوٹر میں ماسٹر کیا ہے۔ہم دونوں بہت محنتی تھے۔
مسٹر شاھد کیا ہمارے ساتھ کام کروگے؟
بالکل ابدالی صاحب شاھد ہمارے مہمات کے لئے بہتر ثابت ہوگا۔کرنل بابر بولے۔
کل صبح آٹھ بجے حساس ادارے پہنچ جانا تمھاری نوکری پکی ہے۔اور تمھارے جیسے پاکستانی نوجوان کبھی اسرائیلی پروپگینڈہ اور جال میں نہیں پھنس سکتے۔
شاھد کی آنکھیں حیرت سے کھلی کی کھلی رہ جاتی ہے۔
عباس مسکراتا ہے۔چلو دوستوں ہمارے ٹیم میں ایک اور ایجنٹ شاھد کا اضافہ ہو گیا۔
ابدالی صاحب کا فون بجتا ہے۔۔ہیلو ہیلو۔۔ہاں سن رہا ہوں مہدی بولو۔۔۔
ابدالی سر وہ موساد ایجنٹ تانیہ پاکستانی شہری نہیں تھی بلکہ بت پرستان پڑوسی ملک کی شہری تھی اور وہ کافی سالوں سے پاکستان میں پاکستانی بن کی ڈھونگ رچا رہی تھی۔مجھے خوشی ہے کہ میرے ہاتھ سے مرنے والی کم از کم پاکستانی نہیں نکلی۔۔بس اس بات کی خوشی ہے۔
میں آج رات پاکستان پہنچ جاونگا اور ندیم اور تمام مشن کی تفصیل دینے۔
اپنا خیال رکھئیے سر خداحافظ۔۔
پاکستان زندہ باد۔۔
ابدالی صاحب نے فون جیب میں رکھ لیا چلو جوانوں مشن از اوور۔۔
ایک بار پھر اسرائیل کی خفیہ ایجنسی کو دھول چٹانے پر سب ٹیم کو شاباش۔۔
پاکستان زندہ باد۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں