کم وساءل میں جینا سیکھیں 47

کم وسائل میں جینا سیکھیں

تحریر شئیر کریں

کم وسائل میں جینا سیکھیں:

قناعت پسند

قناعت کی نعمت اور خوشحال زندگی کے آسان طریقے

پاکستان میں معاشی حالات، مہنگائی اور بڑھتی ہوئی ضروریات زندگی کی وجہ سے بہت سے لوگ پریشانی اور اضطراب کا شکار ہیں۔ ایسے میں، قناعت پسندی کی تعلیمات کو اپنانا انتہائی ضروری ہے۔ قناعت، یا مطمئن رہنا، وہ عظیم نعمت ہے جس کا ذکر ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “قناعت پسند کبھی غریب نہیں ہوتا”۔

قناعت پسندی کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنے پاس موجود وسائل پر راضی رہیں اور غیر ضروری خواہشات کا پیچھا نہ کریں۔ اس سے نہ صرف ہماری زندگی میں سکون اور خوشحالی آتی ہے بلکہ ہمیں مالی بحرانوں سے بھی بچنے میں مدد ملتی ہے۔

قناعت پسندی کی اہمیت:

قناعت پسندی انسان کی شخصیت کو مضبوط بناتی ہے۔ یہ انسان کو زندگی کی حقیقی خوشیوں سے آشنا کرتی ہے اور اسے حرص اور لالچ سے دور رکھتی ہے۔ قناعت پسندی ہمیں اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بننے کی تلقین کرتی ہے اور ہمیں اپنے وسائل کا صحیح استعمال کرنے کی تربیت دیتی ہے۔

**قناعت پسندی کے فوائد:**

1. مالی سکون:

قناعت پسندی انسان کو فضول خرچی سے بچاتی ہے اور اسے اپنے وسائل کے مطابق زندگی گزارنے کی ترغیب دیتی ہے۔ اس طرح انسان مالی سکون حاصل کرتا ہے اور قرضوں کے بوجھ سے بچ جاتا ہے۔

2. ذہنی سکون:

جب انسان قناعت اختیار کرتا ہے تو اس کا ذہن مختلف خواہشات کی دوڑ سے آزاد ہو جاتا ہے۔ اس سے ذہنی سکون اور اطمینان نصیب ہوتا ہے۔

3. خاندانی خوشحالی:

قناعت پسند شخص اپنی فیملی کے ساتھ خوشی اور محبت سے بھرپور زندگی گزارتا ہے۔ اس کے گھر میں پیار اور سکون ہوتا ہے اور افرادِ خانہ ایک دوسرے کے قریب رہتے ہیں۔

4. سماجی ہم آہنگی:

قناعت پسندی معاشرے میں مساوات اور بھائی چارے کو فروغ دیتی ہے۔ اس سے لوگوں کے درمیان حسد اور دشمنی کم ہوتی ہے اور معاشرتی امن و امان قائم رہتا ہے۔

قناعت پسندی کیسے اپنائیں:

1. شکرگزاری:اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کا شکر ادا کریں۔ روزانہ کم از کم ایک بار اپنے پاس موجود چیزوں کے لئے اللہ کا شکر ادا کریں۔

2.ضروریات اور خواہشات میں فرق:

اپنی ضروریات اور خواہشات میں فرق کریں۔ ضروریات کو پورا کریں اور خواہشات کو محدود رکھیں۔

3. بجٹ بنائیں:

اپنی آمدنی اور اخراجات کا بجٹ بنائیں اور اس پر عمل کریں۔ فضول خرچی سے بچیں اور ضرورت سے زائد خرچ نہ کریں۔

4. سادہ زندگی:

سادہ زندگی گزاریں۔ غیر ضروری آسائشوں اور فیشن کی دوڑ سے بچیں۔ سادگی میں بھی خوبصورتی ہے۔

5.محبت اور خلوص:

اپنے خاندان اور دوستوں کے ساتھ محبت اور خلوص سے پیش آئیں۔ محبت اور خلوص سے بھرپور رشتے ہی حقیقی خوشی دیتے ہیں۔

6. عبادات اور ذکر:

اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اور ذکر کریں۔ اس سے دل کو سکون ملتا ہے اور انسان قناعت پسندی کی طرف راغب ہوتا ہے۔

قناعت پسندی ہمارے دین کی بنیادی تعلیمات میں سے ایک ہے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث مبارکہ ہے: “قناعت پسند کبھی غریب نہیں ہوتا”۔ اس حدیث کی روشنی میں ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی میں قناعت کو اپنائیں اور موجودہ وسائل میں خوش رہنا سیکھیں۔ اس سے نہ صرف ہم خود خوش رہیں گے بلکہ ہمارا معاشرہ بھی پرامن اور خوشحال ہو گا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو قناعت پسند بنائے اور ہمیں اپنی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں