کیا آپ نے کبھی محسوس کیا کہ آپ دن بھر محنت کرتے ہیں، لیکن دل میں اطمینان نہیں آتا؟
کام موجود ہے، مگر شکر کم ہے۔
آمدن ہے، مگر سکون کم ہے۔
صلاحیت ہے، مگر توجہ زیادہ تر اس بات پر ہے کہ دوسروں کے پاس کیا ہے۔
ہم اکثر کہتے ہیں:
“یہ تو میری محنت کا نتیجہ ہے۔”
“یہ میرا حق ہے۔”
“میں نے اتنا کام کیا ہے، مجھے اس سے زیادہ ملنا چاہیے۔”
محنت اپنی جگہ ضروری ہے، لیکن ایک مسلمان کے لیے اس کے ساتھ ایک اور حقیقت بھی اہم ہے:
نعمت کو پہچاننا، اللہ کا شکر ادا کرنا اور نعمت کو درست طریقے سے استعمال کرنا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ
“اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا۔”
(سورۃ ابراہیم: 7)
یہ آیت ہمیں شکر کی عظمت بتاتی ہے۔ لیکن شکر کا مطلب یہ نہیں کہ انسان محنت چھوڑ دے یا صرف الفاظ لکھ کر دنیاوی کامیابی کا انتظار کرے۔
اسلامی تصور میں شکر کے ساتھ محنت، درست نیت، حلال ذریعہ، توکل اور صبر بھی اہم ہیں۔
کام نعمت کیوں ہے؟
کام صرف آمدنی کا ذریعہ نہیں۔
کام انسان کو اپنی صلاحیت استعمال کرنے، دوسروں کے لیے فائدہ مند بننے اور حلال رزق حاصل کرنے کا موقع بھی دیتا ہے۔
بہت سے لوگ روزگار کی تلاش میں ہوتے ہیں۔
بعض لوگ اپنی صلاحیت کے مطابق کام نہیں ڈھونڈ پاتے۔
بعض لوگ صحت یا دوسرے حالات کی وجہ سے کام کرنے سے محروم ہوتے ہیں۔
اس لیے اگر اللہ نے آپ کو ایسا کام دیا ہے جس کے ذریعے آپ حلال رزق حاصل کر رہے ہیں، تو اس نعمت کو پہچاننا بھی شکر کا حصہ ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
هُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ ذَلُولًا فَامْشُوا فِي مَنَاكِبِهَا وَكُلُوا مِنْ رِزْقِهِ
“وہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو پست بنا دیا، پس اس کے راستوں میں چلو اور اس کے رزق میں سے کھاؤ۔”
(سورۃ الملک: 15)
یہ آیت ہمیں ایک خوبصورت توازن سکھاتی ہے:
چلو بھی اور رزق اللہ سے سمجھو بھی۔
یعنی کوشش بھی کرو اور دل کا تعلق اللہ سے بھی رکھو۔
شکر اور کامیابی
شکر کا مطلب یہ نہیں کہ ہر شخص لازماً زیادہ تنخواہ، promotion یا کاروباری کامیابی حاصل کرے گا۔
دنیاوی نتائج کئی عوامل سے متاثر ہوتے ہیں۔
لیکن شکر انسان کے رویے، توجہ اور کام کے ساتھ تعلق کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔
یہاں جدید تحقیق بھی دلچسپ اشارے دیتی ہے۔
جاپان میں ہونے والی ایک تحقیق میں 835 ملازمین کو gratitude intervention کے لیے recruit کیا گیا۔ حتمی analysis میں 145 workers شامل ہوئے۔ تین ہفتوں کے پروگرام میں gratitude lists اور عملی طور پر gratitude express کرنا شامل تھا۔ نتائج میں gratitude، self-efficacy، psychological distress اور job performance میں بہتری دیکھی گئی، جبکہ work engagement میں significant improvement نہیں ہوئی۔
اس تحقیق سے ایک اہم بات سامنے آتی ہے:
شکر صرف ایک جذباتی کیفیت نہیں؛ اسے ایک باقاعدہ عادت کے طور پر practice کرنے کے نفسیاتی اثرات بھی ہو سکتے ہیں۔
ایک 2023 کی تحقیق میں workplace gratitude کے expression اور receipt دونوں کا work engagement اور contextual performance کے ساتھ مثبت تعلق پایا گیا۔
چین میں 709 nurses پر کی گئی ایک cross-sectional study میں gratitude، self-control اور job performance کے درمیان مثبت correlations پائے گئے۔ تاہم چونکہ یہ cross-sectional تحقیق تھی، اس سے براہِ راست causation ثابت نہیں ہوتی۔
2026 کی ایک تحقیق میں 300 full-time employees کا جائزہ لیا گیا۔ researchers نے پایا کہ gratitude کی ایک dimension، یعنی grateful appraisals، well-being، distress اور work performance کو personality traits کو control کرنے کے بعد بھی predict کرتی تھی۔
اس لیے محتاط نتیجہ یہ ہے:
تحقیق شکر اور کام سے متعلق کئی مثبت outcomes کے درمیان تعلق کی طرف اشارہ کرتی ہے، لیکن شکر کو ہر قسم کی دنیاوی کامیابی کی ضمانت نہیں کہا جا سکتا۔
کام میں شکر
اب سوال یہ ہے کہ کام میں شکر عملی طور پر کیسے کیا جائے؟
سب سے پہلے کام کو ایک نعمت سمجھیں۔
روز لکھیں:
“الحمدللہ، میرے پاس حلال رزق کمانے کا ذریعہ ہے۔”
“الحمدللہ، اللہ نے مجھے یہ ہنر عطا کیا۔”
“الحمدللہ، میں اپنی صلاحیت کو مفید کام میں استعمال کر سکتی ہوں۔”
یہ جملے صرف لکھنے کے لیے نہیں۔
انہیں سمجھنے کے لیے لکھیں۔
اپنے آپ سے پوچھیں:
میرے کام میں کون سی نعمت ایسی ہے جسے میں معمولی سمجھنے لگی ہوں؟
کام کے دوران شکر
کام کرتے ہوئے اپنی نعمتوں کو پہچانیں۔
آپ کے پاس کوئی خاص skill ہے؟
اس کا شکر کریں۔
آپ صحت کے ساتھ کام کر سکتے ہیں؟
اس کا شکر کریں۔
آپ کے پاس سیکھنے کا موقع ہے؟
اس کا شکر کریں۔
آپ کو کسی انسان سے مدد ملی؟
اس کا شکریہ ادا کریں۔
آپ کو حلال آمدنی حاصل ہو رہی ہے؟
اللہ کا شکر کریں۔
یہی شکر انسان کی توجہ کو صرف کمیوں سے نکال کر نعمتوں کی طرف لاتا ہے۔
کام کے بعد شکر
دن ختم ہونے پر صرف یہ نہ سوچیں:
“آج بہت تھک گئی۔”
ایک لمحہ رک کر یہ بھی دیکھیں:
آج میں نے کیا مکمل کیا؟
کیا سیکھا؟
کس مشکل سے اللہ نے نکالا؟
کس نعمت نے آج میرا کام آسان بنایا؟
پھر لکھیں:
آج کام کے تین شکر
الحمدللہ، آج میں نے اپنا اہم کام مکمل کیا۔
الحمدللہ، آج مجھے اپنی صلاحیت استعمال کرنے کا موقع ملا۔
الحمدللہ، آج کے دن میں نے ایک نئی چیز سیکھی۔
آخر میں کہیں:
یا اللہ! تیرا شکر ہے۔
ترقی ملے تو شکر
جب promotion ملے تو شکر۔
جب تنخواہ بڑھے تو شکر۔
جب کسی نے آپ کے کام کی تعریف کی تو شکر۔
جب کاروبار میں اضافہ ہو تو شکر۔
لیکن اس موقع پر ایک خوبصورت جملہ یاد رکھیں:
“یہ میری محنت بھی ہے، مگر اس محنت کی توفیق اور اس کے اسباب اللہ کی عطا ہیں۔”
یہ سوچ انسان کو تکبر سے بچاتی ہے۔
قرآن میں اللہ تعالیٰ نے شکر کے ساتھ اپنی نعمت میں اضافہ کا وعدہ فرمایا ہے۔
نوکری نہ ملے تو؟
یہاں شکر کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اپنی مشکل کو جھٹلائے۔
اگر نوکری نہیں مل رہی تو آپ دعا بھی کریں، CV بھی بہتر کریں، skills بھی سیکھیں، لوگوں سے رابطہ بھی کریں اور نئی opportunities بھی تلاش کریں۔
ساتھ یہ کہیں:
“یا اللہ! جو رزق میرے لیے بہتر ہے، اسے میرے لیے آسان فرما۔”
اور لکھیں:
“الحمدللہ، میرا رب میرے حالات سے واقف ہے۔”
“الحمدللہ، میرے لیے کوشش کا دروازہ ابھی کھلا ہے۔”
“یا اللہ! مجھے حلال، پاکیزہ اور بابرکت رزق عطا فرما۔”
یہ توکل ہے۔
توکل کا مطلب کوشش چھوڑ دینا نہیں؛ بلکہ کوشش کرتے ہوئے دل کا بھروسہ اللہ پر رکھنا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ
“اور جو اللہ پر توکل کرے تو وہ اس کے لیے کافی ہے۔”
(سورۃ الطلاق: 3)
شکر اور محنت
صرف شکر لکھنا کامیابی کا جادوئی فارمولا نہیں۔
اگر ایک شخص روز دس مرتبہ لکھے:
“الحمدللہ، مجھے بہترین نوکری مل چکی ہے”
لیکن CV نہ بھیجے، skill نہ سیکھے، interview کی تیاری نہ کرے اور حلال مواقع تلاش نہ کرے، تو صرف writing کو کامیابی کی ضمانت سمجھنا درست نہیں۔
شکر کا خوبصورت عملی فارمولا یہ ہے:
نعمت پہچانیں + اللہ کا شکر کریں + درست کوشش کریں + صبر کریں + نتیجہ اللہ کے سپرد کریں۔
یہاں شکر انسان کو عمل سے دور نہیں کرتا۔
بلکہ شکر اسے اپنی موجود نعمت کو بہتر استعمال کرنے کی طرف لے جاتا ہے۔
ایک عملی مثال
فرض کریں ایک شخص اپنی نوکری سے مسلسل پریشان ہے۔
وہ ہر روز سوچتا ہے:
“میرا باس اچھا نہیں۔”
“تنخواہ کم ہے۔”
“کام بہت زیادہ ہے۔”
ایک دن وہ اپنی سوچ کا رخ بدلتا ہے۔
وہ مسائل کو نظرانداز نہیں کرتا، لیکن روزانہ تین نعمتیں لکھنا شروع کرتا ہے:
“الحمدللہ، میرے پاس فی الحال حلال آمدنی کا ذریعہ ہے۔”
“الحمدللہ، میں اپنے ہنر کو استعمال کر رہا ہوں۔”
“الحمدللہ، مجھے نئی skills سیکھنے کا موقع مل رہا ہے۔”
پھر وہ اپنی skills بہتر کرتا ہے، بہتر مواقع تلاش کرتا ہے اور موجودہ کام بھی ذمہ داری سے کرتا ہے۔
چند ماہ بعد اگر اسے نئی opportunity ملتی ہے تو وہ اسے صرف “شکر نے مجھے promotion دلا دی” نہیں کہتا۔
بلکہ کہتا ہے:
“میں نے کوشش کی، اللہ نے اسباب پیدا کیے اور نتیجہ اس کے فضل سے ملا۔”
یہی زیادہ متوازن اسلامی سوچ ہے۔
کام میں شکر کے فائدے
شکر انسان کو اپنی موجود نعمتوں پر توجہ دینا سکھاتا ہے۔
اس سے کام کے بارے میں رویہ بہتر ہو سکتا ہے۔
تحقیق بھی gratitude کو work engagement، self-efficacy اور job performance جیسے outcomes کے ساتھ جوڑتی ہے، اگرچہ ہر تحقیق causal relationship ثابت نہیں کرتی۔
شکر کے چند عملی فوائد یہ ہو سکتے ہیں:
کام کی قدر
انسان اپنے کام کو محض بوجھ سمجھنے کے بجائے ایک ذمہ داری اور موقع سمجھنے لگتا ہے۔
بہتر رویہ
شکر انسان کو صرف اپنی کمیوں پر توجہ دینے کے بجائے موجود نعمتوں کو دیکھنے میں مدد دیتا ہے۔
خود اعتمادی
اپنی صلاحیتوں اور حاصل شدہ مواقع کو پہچاننے سے self-efficacy بہتر ہو سکتی ہے۔ جاپانی gratitude intervention study میں self-efficacy میں بہتری دیکھی گئی۔
بہتر تعلقات
کام کی جگہ پر دوسروں کی مدد اور تعاون کا شکریہ ادا کرنا workplace relationships کے لیے مفید ہو سکتا ہے۔
ذہنی سکون
شکر انسان کی توجہ کو مسلسل محرومی کے احساس سے نکال کر نعمتوں کی طرف لا سکتا ہے۔
شکر کی رکاوٹیں
کام میں شکر کے راستے میں کئی رکاوٹیں آ سکتی ہیں۔
سب سے پہلی رکاوٹ ہے:
“یہ تو میرا حق ہے۔”
اس کے بجائے سوچیں:
“میں نے محنت کی ہے، لیکن محنت کی توفیق اور بہت سے اسباب اللہ کی عطا ہیں۔”
دوسری رکاوٹ ہے:
دوسروں سے موازنہ۔
“اسے مجھ سے زیادہ تنخواہ ملتی ہے۔”
“اس کی promotion مجھ سے پہلے ہوگئی۔”
موازنہ انسان کو اپنی نعمت دیکھنے سے روک سکتا ہے۔
تیسری رکاوٹ ہے:
مسلسل شکایت۔
مسئلہ بیان کرنا اور جائز حق مانگنا شکایت پرستی کے برابر نہیں۔
اگر تنخواہ واقعی کم ہے، ماحول غیر منصفانہ ہے یا کام کے حالات بہتر کرنے کی ضرورت ہے تو مناسب طریقے سے بات کرنا درست ہے۔
لیکن ہر وقت صرف کمیوں کو دیکھنا شکر کی کیفیت کو کمزور کر سکتا ہے۔
چوتھی رکاوٹ ہے:
جلد بازی۔
“میں نے شکر شروع کیا، اب فوراً میری ترقی کیوں نہیں ہوئی؟”
شکر اللہ کے ساتھ تعلق اور نعمت کی قدر کا عمل ہے، کوئی guaranteed financial formula نہیں۔
شکر کا عملی فارمولا
اس باب کو ایک سادہ جملے میں یوں یاد رکھیں:
نعمت + شکر + محنت + صبر + توکل = متوازن کامیابی
ہم نتیجہ اللہ کے اختیار میں مانتے ہیں، لیکن اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہیں۔
ہم رزق کے لیے کوشش کرتے ہیں، مگر رزق کا مالک اللہ کو مانتے ہیں۔
ہم ترقی چاہتے ہیں، مگر اپنی قدر صرف promotion سے نہیں ناپتے۔
اور ہم شکر کرتے ہیں، چاہے نعمت بڑی ہو یا بظاہر چھوٹی۔
آج کا عمل
آج اپنے کام سے متعلق صرف تین شکر لکھیں۔
ہر شکر لکھنے کے بعد تقریباً دس سیکنڈ رکیں۔
اس نعمت کو ذہن میں لائیں۔
پھر دل سے کہیں:
“یا اللہ! تیرا شکر ہے۔”
مثلاً:
کام:
الحمدللہ، میرے پاس حلال رزق کمانے کا ذریعہ ہے۔
ہنر:
الحمدللہ، اللہ نے مجھے ایک ایسا ہنر دیا جسے میں استعمال کر سکتی ہوں۔
موقع:
الحمدللہ، آج مجھے سیکھنے اور بہتر کرنے کا موقع ملا۔
یہ عمل 30 دن جاری رکھیں۔
لیکن صرف لکھیں نہیں۔
شکر کو عمل میں بھی تبدیل کریں۔
اگر ہنر نعمت ہے تو اسے بہتر کریں۔
اگر نوکری نعمت ہے تو دیانت داری سے کام کریں۔
اگر رزق نعمت ہے تو اسے حلال طریقے سے کمائیں۔
اگر کسی نے مدد کی ہے تو اس کا شکریہ ادا کریں۔
یہی شکر کو زندگی میں اتارنے کا راستہ ہے۔
آج کا سوال
آپ کے کام میں اس وقت سب سے بڑی نعمت کیا ہے؟
ایک جملے میں لکھیں:
“الحمدللہ، میرے کام میں ________ ایک بڑی نعمت ہے۔”
شاید کسی اور شخص کو بھی آپ کے جواب سے اپنی نعمت پہچاننے کا موقع مل جائے۔
خلاصہ
کام صرف آمدنی کا ذریعہ نہیں؛ یہ ایک ذمہ داری، صلاحیت کے استعمال اور حلال رزق کے حصول کا موقع بھی ہو سکتا ہے۔
شکر ہمیں نعمت پہچاننا سکھاتا ہے۔
قرآن ہمیں شکر کے ذریعے اللہ کی طرف سے مزید نعمت کی بشارت دیتا ہے۔
جدید تحقیق بھی workplace gratitude اور مختلف مثبت work outcomes کے درمیان تعلق کی طرف اشارہ کرتی ہے، لیکن اسے ہر دنیاوی کامیابی کی ضمانت نہیں کہا جا سکتا۔
اس لیے:
شکر کریں۔
محنت کریں۔
صبر کریں۔
توکل کریں۔
اور نتیجہ اللہ کے سپرد کر دیں۔
شکر لکھیں، زندگی بدلیں۔
مصنفہ: روبینہ شاہین
تاریخ: 8 اکتوبر 2026
اگلا باب: شکر میں رکاوٹیں — شکایت، حسد اور توقعات