377

آئینہ اعمال

تحریر شئیر کریں

آئینہ اعمال
اف !! اتنا کام ۔۔ اس ماسی کو بھی اسی دن چھٹی کرنی ہوتی ہے جس دن مہمانوں کو آنا ہو۔ ابھی گھر کی صفائی کرکے کچن بھی ‏دیکھناہے۔۔۔ ہاتھوں کے ساتھ ساتھ میرا ذہن بھی تیزی سے چل رہا تھا کہ اچانک ٹی وی کی آواز نے غیر ارادی طور پر ‏میرے پاؤں جکڑلیے۔ ” بریکنگ نیوز۔۔۔ بیٹی کیوں ہوئی؟؟؟ میانوالی میں سفاک باپ نے اپنی سات دن کی بیٹی کو گولی ماری دی۔۔۔۔۔” ‏
اور اس سے آگے سننے کی مجھ میں ہمت نہ تھی۔اس خبر نےمیرے جسم سے جان ہی نکال دی اور میں تھکے ہوۓ انداز میں ‏صوفے پر بیٹھ گئی۔
کہیں اپنے ہاتھوں سے اپنی بیٹی کو مار دینا، کہیں معصوم بچوں کا کچرے کے ڈھیر پر ملنا۔ کیا ہم پھر دور جاہلیت میں پہنچ گئے ہیں؟؟ دل و دماغ نے فرط غم سے سوال اٹھایا اور آنکھوں سے ایک سیل رواں بہہ نکلا۔
میرے ذہن میں وہ منظر دوڑنے لگا ۔۔وہ سر زمین عرب کا منظر ۔۔۔۔جہاں رحمت اللعالمین سرکار دوجہاں کی ‏محفل ہے۔مگر یہ کس کے رونے کی آواز ہے؟؟؟ ایک صاحب روتے ہوۓ کچھ کہہ رہے ہیں باقی سب لوگوں کی ‏آنکھوں سے بھی آنسو رواں ہیں۔


‏”آخر جب میں نے قبر کھود لی تو میری بیٹی پاس آئی،میں نے اسے دھکادےدیا وہ قبر میں گر گئی اور میں ریت ڈالنے لگا۔ بچی ‏روتی ہوئی ہاتھ جوڑکر کہنے لگی بابا!میں نہیں لیتی کھلونے۔ بابا!میں نہیں جاتی نانی کے گھر۔ بابا!میری شکل پسند نہیں تو میں ‏نہیں آتی آپ کے سامنے۔بابا! مجھے ایسے نہ ماریں۔یارسول اللہ ﷺ میں ریت ڈالتا گیا، مجھے اس پر ترس نہ آیا اور ‏جب اسکاصرف سر رہ گیا تو میری بیٹی آسمان کی طرف منہ کرکے بولی، “میرے مالک!میں نے سنا ہے تیرا ایک نبی ‏‏(ﷺ)آئے گا جو بیٹیوں کو عزت دیگا، جو بیٹیوں کی عزت بچائے گا۔ اے اللہ!وہ نبی بھیج دے بیٹیاں مر رہی ہیں ۔” ‏پھر میں نے اسے ریت میں دفنادیا۔ یہ واقعہ سن کر آپﷺاتنا رورہے تھے کہ آپﷺ کی داڑھی مبارک آنسوؤں ‏سے تر ہو گئی۔آپﷺ نے فرمایا،”دحیہ! ذرا پھر سے اپنی بیٹی کا واقعہ سناؤاس بیٹی کاواقعہ جو مجھ محمد کے انتظار میں دنیا ‏سے چلی گئی۔”‏


رحمت اللعالمین، جو محسن نسواں ہیں، کی تعلیمات کو ہم نے پس پشت ڈال دیا۔ میں یہ سوچ کر ‏زمین میں گڑی جارہی تھی کہ روز قیامت جب ہر امت اپنے نبی کی گواہی کے طور پر کھڑی ہوگی تو ہم پیارے نبیﷺکا سامنا کیسے کریں گے۔ مجھے لگا کہ جیسے ہم سب اپنے نبیﷺکے مجرم ‏ہیں۔ ہم کیا جواب دیں گے جب رسولﷺ ہم سے بیٹیوں کے بارے میں استفسار کریں گے۔ ہم کیسے کہہ پائیں گے ‏‏”دل وجان آپﷺ پر قربان یارسول اللہ” جب وہ ہم سے پوچھیں گے:‏
‏”اے میری امت !دحیہ کلبی نےاپنی بیٹی کو اسوقت زندہ درگور کیا جب وہ مجھ پر ایمان نہ لاۓ تھےلیکن تم تو میری ‏محبت کا دم بھرنے والے امتی ہو۔ پھر کیوں تم اپنی بیٹیوں کو تحفظ نہ دےسکے؟کیوں وہ قانون نہ بناسکے جو ‏عورتوں کے حقوق کی حفاظت کے لیے میں نے تمہیں دئیے تھے؟ کیا میرے آخری خطبےکےالفاظ تم تک نہ پہنچ پائے؟کیا ‏تم تک بہنوں بیٹیوں کی عزت وتکریم کے حوالے سے احادیث نہیں پہنچیں۔ کیا میری تعلیمات بھلا بیٹھے ہو؟تو کیا اب ‏بھی تم میری امت کہلانے کے قابل ہو؟ “‏


میرے دل سےفورا دعا نکلی: “یا اللہ ہمیں ہمارے نبیﷺ کے سامنے شرمسار نہ کیجیے گا۔ ” میری آنکھوں سے ‏آنسوؤں کا نہ رکنے والا سلسلہ جاری تھا۔ دفعتا مجھے محسوس ہوا کہ کوئی مجھے آواز دے رہا ہے میں نے چاروں طرف ‏‎ ‎دیکھا لیکن وہاں کوئی نہ تھا دور تک صرف ایسا صحرا تھا جدھر کوئی نخلستان نہ ہو۔پھر جیسے میں کسی ٹرانس سے باہر آئی تو ‏میری بیٹی میرے پاس بیٹھی مجھ سے پوچھ رہی تھی ،”مما! مما! آپ رو کیوں رہی ہیں؟ میں نے اسکا ماتھا چوما۔ لیکن اسے ‏یہ نہ بتا سکی کہ جس بیٹی کو حضورﷺ نے رحمت خداوندی قرار دیا ۔ جس کی کفالت و پرورش کرنے پر جنت میں اپنے ‏ساتھ کی خوشخبری سنائی،آج وہ بیٹیاں پھر زندہ درگور کی جارہی ہیں۔۔۔۔

تحریر : نوین خالد ‏

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں