21

پشاور کا دل دہلا دینے والا سانحہ

تحریر شئیر کریں

آج اچانک نیوز پر نظر پڑی تو پشاور میں ایک نجی اسکول کی چھت گرنے کی خبر نے دل دہلا کر رکھ دیا۔ معصوم بچوں کی اموات اور زخمی ہونے کی خبر پڑھ کر دل اداس ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ جاں بحق ہونے والے بچوں اور استاد کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور زخمیوں کو جلد صحتِ کاملہ عطا فرمائے۔ آمین۔

ایک طرف ہم ہیں کہ الحمدللہ ہمارے بچے خیریت سے اپنے گھروں میں موجود ہیں، اور دوسری طرف وہ مائیں ہیں جن کی گودیں اجڑ گئی ہیں، جو اپنے جگر کے ٹکڑوں کے لیے بلک رہی ہیں۔ اللہ ان ماؤں اور تمام سوگوار خاندانوں کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ ان کے دلوں کا درد الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔

ایسے سانحات ہمیں اپنی نعمتوں پر شکر ادا کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی ذمہ داریوں پر غور کرنے کی دعوت بھی دیتے ہیں۔ حادثات صرف زندگیاں نہیں چھینتے، یہ گھروں کے خواب توڑ دیتے ہیں، خاندانوں کی خوشیاں اجاڑ دیتے ہیں اور زندگی بھر کے ایسے زخم دے جاتے ہیں جو شاید کبھی نہیں بھرتے۔

لیکن کیا ہم ہر سانحے کے بعد صرف افسوس کرکے آگے بڑھ جائیں؟

کچھ عرصہ پہلے لاہور میں بھی ٹیوشن کے لیے استعمال ہونے والی ایک عمارت کی چھت گرنے کا افسوس ناک واقعہ پیش آیا تھا۔ اس سانحے میں ایک خاتون کی اپنی بچی بھی جان سے گئی۔ ایسے واقعات ہمیں سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ آخر ہماری عمارتوں میں حفاظتی انتظامات کیوں نظر انداز ہوتے ہیں؟ کیا اسکولوں اور ٹیوشن سینٹرز کی عمارتیں بچوں کے لیے محفوظ ہیں؟ کیا عمارتوں کی مضبوطی، مرمت اور حفاظتی معائنے کو وہ اہمیت دی جاتی ہے جس کے یہ مستحق ہیں؟

ہمارا ملک پہلے ہی معاشی مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔ بہت سے لوگ محدود وسائل میں اپنے بچوں کو تعلیم دلانے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن مالی مشکلات کسی کی جان کی قیمت نہیں بننی چاہییں۔ کم وسائل میں کام کرنے والے تعلیمی اداروں کے لیے بھی ضروری ہے کہ بچوں کی حفاظت پر کوئی سمجھوتہ نہ ہو۔ متعلقہ اداروں کو عمارتوں کی حالت، حفاظتی معیارات اور نگرانی کے نظام پر سنجیدگی سے توجہ دینی چاہیے۔

بچوں کی زندگیاں ہماری امانت ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمارے ملک کے مسائل حل فرمائے، ہمیں درست فیصلے کرنے کی حکمت عطا کرے اور ہمیں ایسا نظام بنانے کی توفیق دے جس میں کسی ماں کو اپنے بچے کو اسکول بھیجتے ہوئے اس کی سلامتی کے بارے میں خوف نہ ہو۔

آج الحمدللہ اپنے بچوں کی سلامتی پر شکر ادا کریں، لیکن اس شکر کے ساتھ ان بچوں کو بھی یاد رکھیں جن کے گھر آج ماتم کدہ بن گئے ہیں۔ ان کے لیے دعا کریں، زخمیوں کی صحت یابی کی دعا کریں اور ایسے سانحات کی روک تھام کے لیے اپنی اجتماعی ذمہ داری کو سمجھیں۔

یا اللہ! ہمارے بچوں کو اپنی حفظ و امان میں رکھ، غم زدہ والدین کو صبر عطا فرما اور ہمیں غفلت کے بجائے ذمہ داری کا راستہ اختیار کرنے کی توفیق دے۔ آمین یا رب العالمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں