364

خواہشات کی زنجیر

تحریر شئیر کریں

خواہشات کی زنجیر

آپ کی خواہشات ہی آپکی پریشانی ہیں

آپ کی خواہشات پوری نہ ہونے پر پریشان ہیں لوگ ضروریات کے لیے ترس رہے ہیں

آپ کو شکوہ ہے کہ مجھے ویک اینڈ پر آؤٹنگ نہیں کروائی گئی اور بہت سے لوگ ایسے ہیں کہ تین دن سے ان کے گھر چولھا نہیں چلا.

آپ کو شکایت ہے کہ مجھے برینڈڈ سوٹ نہیں لے کر دیا لیکن بہت سی خواتین ایسی ہیں جنہیں سال بعد عید پر بھی نیا جوڑا نہیں ملا.

آپ پریشان ہیں کہ بچے کی پہلی پوزیشن نہیں آئی* بہت سے خواتین کے بچے غربت کے باعث سکول ہی نہیں جا سکتے.

آپ کو فکر لاحق ہے کہ میاں کم کماتے ہیں مگر کچھ خواتین کے شوہر اللہ کو پیارے ہو چکے ہیں اور وہ اکیلی ہی اللہ کے سہارے مشکلات سے گزر رہی ہیں.

آپ کو ٹینشن ہے کہ میرا گھر بڑا نہیں ہے لیکن بہت سے لوگ کراۓ کے مکان میں رہتے ہیں.

آپ کو فکر ہے کہ میرے پاس جمع پونجی کچھ نہیں بینک بیلنس نہیں بہت لوگ ہیں جن کے پاس اگلے وقت کا کھانا نہیں

آپ پریشان ہیں کہ کام ختم ہی
نہیں ہوتے بہت سی ایسی خواتین ہیں جو بیمار ہیں

دوسروں کی محتاج ہیں اللہ نے آپ کو صحت اور ہمت دی ہے کسی کا محتاج نہیں بنایا*

اپنی سوچ کو وسعت دیں جو نعمتیں آپ کے پاس ہیں بہترین ہیں……. صرف اپنی ہی ذات کے بارے میں مت سوچتے رہیں اپنے

ارد گرد بھی نظر دوڑائیں ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو بنیادی ضروریات سے بھی محروم ہے

صرف دنیا ہی کو مدنظر نہ رکھیں

آخرت کی بھی سوچیں
شکر کریں صبر سے کام لیں جو اس دنیا میں نہیں ملا وہ آخرت میں مل جائے گا ان شاء اللّٰــــــہ

اگر یہ شکر اور صبر زندگی میں نہیں آیا تو….. یقین کیجئے زندگی سے خوشی اور سکون بھی ختم ہو جائے گا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں