401

ارطغرل ڈرامہ اور سید نور

تحریر شئیر کریں

سید نور کے ارطغرل ڈرامے پر اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کے پاس ہے ہی کیا “چار گھوڑے”جنهیں ادھر سے ادھر دوڑاتے پھر رهے هیں۔
کہا جاتا ہے بات سے پہلے بات کرنے والے کو دیکھو۔سید نور نے بات تو کہہ دی مگر اس کے پیچھے چھپی اپنی ناکامی کو نا چھپا سکے۔جو ساری عمر ایک حویلی بنا کر اسی میں چربہ فلمیں بناتے رہے۔ایک حویلی اور ایک هی هیروئین پہ اکتفا کرنےبوالا سید نور ارطغرل پہ بول رہا ہے۔وہ ارطغرل جس کی بنائی ہوئی خلافت عثمانیہ کی رگوں میں 18 نسلوں اور چھتیس بادشاہوں کا خون شامل ہے۔چارگھوڑوں کا طعنہ دینے والے کبھی تاریخ اٹھا کر دیکھیں ارطغرل خاندان نے گھوڑوں اور تلواروں میں بھی کمال ترقی کی۔انھوں نے خلافت عثمانیہ دینے کے ساتھ ساتھ دنیا کو آرکیٹیکچر، بیوروکریسی اور فوج سازی کا ماڈرن فن بھی دیا۔ارطغرل وہ شخص تھا جسے ابن العربی کی دعا راس آگئ تھی پھر وہ چرواہا نا رہا۔۔تین براعظموں پر حکومت کرنے والا خاندان کے پاس کبھی خیمہ لگانے کی بھی جگہ نہیں ہوا کرتی تھی۔دعائیں مقبول ہو جائیں تو چرواہیں حاکم ٹھرتے ہیں۔
….
سلطنت عثمانیہ کے ہر سلطان نے اپنے نام سے ایک محلہ بنایا۔جس میں ایک مکتب ایک مسجد اور اپنے لیے ایک مقبرہ بھی بنوایا۔دنیا آج بھی ارطغرل کا ڈرامہ دیکھ کر اس کے فسوں اس کی بہادری اسکی قوت یقین اللہ پر توکل غیرت اور حمیت جیسی لازوال خوبیوں میں ڈوب سی گئ ہے۔ابھی انہوں نے اصل ارطغرل تو دیکھا نہیں۔دشمن ڈرامے سے خوف زدہ ہو جاتے ہیں۔جبکہ اصل ارطغرل تو ابھی آیا ہی نہیں۔
یہ تو تاریخ کی بات ہے رہی بات ڈرامہ سازی کی۔۔۔تو کیا کچھ نہیں ہے اس ڈرامے میں۔آرٹ ،کلچر،اسلامک ویلیوز،ترک تہذیب ،غرض وہ سارے مصالحے جو آج کسی بھی آرٹ فلم کو کامیاب بناتے ہیں اس میں موجود ہیں۔دیکھنے والا بور ہوۓ بغیر اس کے ساتھ ساتھ سفر کرتا دکھائی دیتا ہے اور ارطغرل کے خیمے کا ہی مکین بن جاتا ہے۔جزئیات میں جانا اور اس کو فلمانا کوئی دیکھنا چاہے تو ارطغرل دیکھ لے۔اسکی ڈایلاگ اتنے جاندار کہ ہر زد عام ہو چکے ہیں۔مکالمہ نگاری ،ہدایت کاری غرض ہر چیز لاجواب اور موجودہ فلمی معیار پر پوری اترتی دکھایئ دیتی ہے۔کہا جاتا ہے فلم ہو یا تحریر بہترین وہ ہوتی جو آپ کو کنیکٹ کر دے۔آپ کو لگے کہ آپ خود بھی اسی کا حصہ ہیں۔ارطغرل کا کمال یہ کہ یہ کنیکٹ کر دیتا ہے۔ایک لمحے کے لیے بھی نہیں لگتا کہ ہم اس سے باہر کی کوئی چیز ہیں یہی وجہ ہے پہلے سیزن سے لے کر آخرہ سیزن جب تل ختم نا ہو جاۓ چین نہیں آتا۔
سید نود اور جو بھی ارطغرل کے خلاف بیان بازی کر رہے۔اصل میں وہ اسکی مقبولیت اور اثرات سے خائف ہو رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں