ای بک : "ہم ابھی زندہ ہیں 93

ای بک :”ہم ابھی زندہ ہیں

تحریر شئیر کریں
ای بک : "ہم ابھی زندہ ہیں
1772566862932

پیش لفظ

یہ کتاب غزہ کے ان بچوں کے نام ہے جو بم گرنے کے بعد بھی مسکرائے۔ جو ملبے تلے دب کر بھی زندہ رہے۔ جن کی آنکھوں میں آنسو تو ہیں، لیکن امید نہیں مری۔
ہر باب ایک بچے کی کہانی ہے۔ ان کی زبان میں ,ان کے جذبات کے ساتھ، ان کی ثقافت کے ساتھ, ان کے رسم و رواج کے ساتھ
جیسا کہ فلسطین کے مقبول و معروف شاعر محمود درویش لکھتے ہیں:
“ہمیں ایک لاعلاج بیماری ہے: امید۔”
اور یہی امید آج غزہ کے بچوں کی آنکھوں میں زندہ ہے۔
—
آپ کی کتاب کے عنوان اور ابواب کی گہرائی کو دیکھتے ہوئے، اس کا دیباچہ (Preface) ایسا ہونا چاہیے جو قاری کی روح کو جھنجھوڑ دے۔ یہ محض ایک کتاب کا تعارف نہیں بلکہ ایک زخمی تہذیب کی پکار ہونی چاہیے۔

دیباچہ

غزہ محض ایک جغرافیائی خطے کا نام نہیں، بلکہ یہ عصرِ حاضر کا وہ نوحہ ہے جس کی بازگشت سے انسانیت کے در و دیوار لرز رہے ہیں۔ یہ وہ بستی ہے جہاں خوشیاں نہیں، بلکہ دکھ اگتے ہیں اور جہاں کی ہوائیں اپنوں کے بچھڑنے کے بین کرتی ہیں۔ آج کی دنیا، جو خود کو مہذب اور ترقی یافتہ کہتی ہے، اس ظلم کو اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے، مگر لبوں پر مصلحتوں کے تالے ہیں اور ضمیر پر خاموشی کی گرد۔
یہ کتاب، “ہم ابھی زندہ ہیں”، کسی سیاسی تجزیے یا جنگی اعداد و شمار کا مجموعہ نہیں ہے۔ یہ ان معصوموں کی آواز ہے جن کے کھلونے بارود کی نذر ہو گئے، جن کے سکول ملبے کا ڈھیر بن گئے اور جن کے بچپن کو بے رحمی سے چھین لیا گیا۔ لیکن اس سسکتی ہوئی زمین پر ایک معجزہ اب بھی نمو پا رہا ہے—اور وہ معجزہ ہے امید۔
اس کتاب کے صفحات میں آپ کمال کی اس نیلی گیند سے ملیں گے جو اجڑے ہوئے گھروں کے بیچ بھی لڑھک رہی ہے، آپ عیسیٰ کے ان بازوؤں کا لمس محسوس کریں گے جو بم نے چھین لیے مگر اس کی پرواز کو نہ روک سکے، اور آپ مریم کی اس ڈائری کے لفظ پڑھیں گے جو تاریخ کا مقدمہ لڑ رہی ہے۔
محمود درویش نے سچ کہا تھا کہ ہمیں ایک لاعلاج بیماری ہے جس کا نام ‘امید’ ہے۔ غزہ کے بچے اسی بیماری کا شکار ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ زیتون کے درخت جلائے جا سکتے ہیں، مگر ان کی جڑیں زمین کے سینے میں اتنی گہری ہیں کہ انہیں کوئی طاقت نکال نہیں سکتی۔
یہ کتاب ان تمام لوگوں کے نام ہے جو حق اور سچ کی آواز اٹھانا جانتے ہیں۔ یہ ایک یاد دہانی ہے کہ جب دنیا خاموش ہو جاتی ہے، تو قلم کو بولنا پڑتا ہے۔ یہ کہانیاں بتاتی ہیں کہ عمارتیں گر سکتی ہیں، بستیاں مٹ سکتی ہیں، لیکن فلسطینی ہونا ایک ایسا جذبہ ہے جسے موت بھی شکست نہیں دے سکتی۔
آئیے، ان بچوں کی آنکھوں سے فلسطین کو دیکھیں—جہاں ہر آنسو کے پیچھے ایک عزم ہے، ہر زخم کے پیچھے ایک کہانی ہے، اور ہر شہید کے لہو سے ایک نیا خواب جنم لیتا ہے۔
کیونکہ ہم مٹے نہیں… ہم ابھی زندہ ہیں!
……

باب اول: کمال کی گیند

میرا نام کمال ہے۔ میں 14 سال کا ہوں۔جنگ سے پہلے میری زندگی بہت سادہ تھی۔ صبح سویرے اٹھتا، امی نے زعتر اور زیتون کے تیل سے ناشتہ تیار کیا ہوتا۔ زعتر فلسطین کی پہچان ہے۔ امی کہتی تھیں “بیٹا، زعتر ہمیں زمین سے جوڑتا ہے۔”
پھر یونیفارم پہنتا اور سکول کے لیے بھاگتا۔ جمعہ کا دن خاص ہوا کرتاتھا۔ جمعہ کی نماز کے بعد پورا خاندان مسخن کھانے جمع ہوتا۔ مسخن فلسطین کی قومی ڈش ہے – روٹی، زیتون کا تیل، پیاز، زعفران، اور سماق۔ دادا کہتے تھے “مسخن کی خوشبو فلسطین کی خوشبو ہے۔”
دادا جان ہمیں کہانیاں سناتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ 1948 میں جب وہ چھوٹے تھے، انہیں بھی اپنا گھر چھوڑنا پڑا تھا۔ ان کے پاس آج بھی اس گھر کی چابی ہے۔ وہ کبھی کبھار وہ چابی نکالتے، اسے چومتے، اور کہتے “بیٹا، فلسطین ہمارا ہے، ہم واپس جائیں گے۔ یہ چابی گواہ ہے۔”
میں سوچتا تھا یہ صرف پرانی کہانیاں ہیں۔ ایسا دوبارہ نہیں ہو سکتا۔لیکن میں غلط تھا۔
—
وہ دن… میں کبھی نہیں بھولوں گا۔ ہم گلی میں فٹبال کھیل رہے تھے۔ رمضان کا مہینہ تھا۔ گھر میں سب کا روزہ تھا، لیکن ہم بچے تھے، ہم کھیل رہے تھے۔ افطاری کا انتظار تھا۔ امی نے افطاری کے لیے قمرالدین اور تمر کھجور رکھی تھی۔
میں نے گول کیا۔ بہت خوبصورت گول۔ میری گیند نیٹ میں تھی۔ اور پھر…آواز۔ بہت تیز آواز۔میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو میرا گھر نہیں تھا۔ صرف دھواں مٹی اور چیخوں کا طوفان۔زندگی اتنی بے رحمی کبھی نا تھی۔جیسی اس لمحے محسوس ہوئی ,سب کچھ ہاتھوں پھسل گیا۔
میں بھاگا۔ نا جانے کہاں۔ بس بھاگتا رہا۔ میرے ہاتھ میں میری نیلی گیند تھی۔ میں نے اسے نہیں چھوڑا۔
—
تین دن بعد ہم ایک سکول میں تھے۔ عارضی پناہ گاہ۔ دیواریں تو تھیں، لیکن کھڑکیاں نہیں تھیں۔ دروازے نہیں تھے۔ امی رو رہی تھیں۔ چھوٹی بہن زینب امی سے پوچھ رہی تھی “امی، اب ہم کہاں جائیں گے؟”
امی خاموش تھیں۔ پھر انہوں نے اپنی جیب سے کجھوریں نکالیں اور زینب کو دیں۔ “یہ لے بیٹا، کھا۔ افطار میں یہی ہے آج۔”
میں نے باہر دیکھا۔ میری گلی نہیں تھی۔ میرے دوست نہیں تھے۔ میرا سکول نہیں تھا۔صرف میری گیند تھی۔ نیلی گیند۔
—
آج صبح میں نے اپنی گیند ایک چھوٹے بچے کو دی۔ اس کا نام عمر ہے۔ اس کی کوئی گیند نہیں تھی۔ وہ بہت اداس تھا۔ میں نے اسے کہا “یہ لے، کھیل۔”میرے دل کو سکون ملا
عمر نے گیند لی اور مسکرایا۔ اس کی مسکراہٹ دیکھ کر مجھے دادا کی وہ چابی یاد آ گئی۔ شاید ہم اپنے گھر کھو دیں، لیکن ہم اپنی مہمان نوازی نہیں کھوتے۔ فلسطینی تو یہی ہیں۔
امی نے دیکھا تو پوچھا “یہ تمہاری پسندیدہ گیند تھی، کیوں دے دی؟”
میں نے کہا “امی، العطاء بركة (دینے میں برکت ہے)۔”امی نے مجھے گلے لگایا۔ “شاباش بیٹا۔ تم نے آج سیکھ لیا کہ فلسطینی ہونے کا مطلب کیا ہے۔”
—
محمود درویش کہتے ہیں:
“ہمارے پاس اس زمین پر وہ سب کچھ ہے جو زندگی کو قابلِ قدر بناتا ہے۔”
لیکن جب وہ سب چھن جائے، تو پھر کیا بچتا ہے؟
کمال کا جواب: گیند بچتی ہے۔ اور گیند دینے والا ہاتھ بچتا ہے۔ اور وہ ہاتھ فلسطینی ہے۔
—۔۔۔۔۔۔

باب دوم: عیسیٰ اور اس کے بازو

میرا نام عیسیٰ ہے۔ میں 9 سال کا ہوں۔میرے بازو نہیں ہیں۔ایک بم نے لے لیے۔ میں نے دیکھا بھی نہیں۔ بس ایک دھماکہ ہوا، اور جب آنکھ کھلی تو بازو نہیں تھے۔
پہلے میں دیواروں پر پرندے بناتا تھا۔ سمندر بناتا تھا۔ امی کہتی تھیں “عیسیٰ بڑا ہو کر مصور بنے گا۔”
امی خود بھی مصور ہیں، لیکن ان کی مصوری کینوس پر نہیں، کپڑوں پر ہوتی ہے۔ وہ فلسطینی کڑھائی (تطریز) کرتی ہیں۔ ان کے ہاتھوں بنے تھوب (روایتی لباس) پورے محلے میں مشہور ہیں۔ ہر سلائی میں کوئی نہ کوئی کہانی چھپی ہوتی ہے۔
امی کہتی ہیں “ہر رنگ کی اپنی پہچان ہے۔ سرخ رنگ شہادت کا، سیاہ غم کا، سفید امن کا، سبز فلسطین کا۔”
اب میں آنسو بھی نہیں پونچھ سکتا۔ امی میرے آنسو اپنے تھوب کے دامن سے پونچھتی ہیں۔ اس تھوب پر انہوں نے خود کڑھائی کی ہے۔

—

رات کو جب سوتا ہوں، خواب دیکھتا ہوں۔ خواب میں میرے بازو واپس آ جاتے ہیں۔ میں دوڑتا ہوں امی کے پاس، اور وہ مجھے گلے لگاتی ہیں۔ میں امی کو بتاتا ہوں کہ میں نے ایک بہت بڑا پرندہ بنایا ہے، جو پورے غزہ پر اڑ سکتا ہے۔
امی ہنستی ہیں۔ پھر وہ مجھے محمود درویش کی نظم سناتی ہیں:

“سجل أنا عربي”
(لکھو کہ میں عرب ہوں
امی کہتی ہیں “ہماری شاعری ہماری پہچان ہے بیٹا۔”
پھر نیند کھل جاتی ہے۔ اندھیرا ہوتا ہے۔ بم گرتے ہیں۔ اور میرے بازو نہیں ہوتے۔
—
ایک دن امی نے مجھے کہانی سنائی۔ کہانی ایک پرندے کی جس کے پر نہیں تھے۔ وہ پرندہ اڑ نہیں سکتا تھا۔ لیکن وہ ہر روز پہاڑی پر چڑھتا، اور ہوا کو محسوس کرتا۔
“پھر کیا ہوا امی؟”
“پھر ایک دن ہوا نے اس سے کہا: تمہیں پروں کی کیا ضرورت؟ میں تمہیں اڑا دوں گی۔”
“اور وہ اڑ گیا؟”
“وہ اڑ گیا بیٹا۔ فلسطینی پرندے ویسے ہی ہوتے ہیں۔ ان کے پر کاٹ دو تو بھی اڑتے ہیں۔”
میں نے امی کو دیکھا۔ امی کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ لیکن وہ مسکرا رہی تھیں۔ ان کے تھوب پر پھول کھل رہے تھے۔

—

آج میں نے امی سے کہا “امی، مجھے کاغذ دو۔”

“کیا کرو گے بیٹا؟”

“میں تمہارے لیے پرندہ بناؤں گا۔ تم نے مجھے سکھایا تھا ناں، ہر فلسطینی پرندہ بن سکتا ہے۔”

امی نے کاغذ دیا۔ میں نے پاؤں سے پکڑا۔ بہت مشکل تھا۔ کاغذ پھٹ گیا۔ میں نے دوبارہ کوشش کی۔ پھر سے کوشش کی۔

تھوڑی دیر بعد، میرا پرندہ تیار تھا۔ ٹیڑھا میڑھا تھا۔ خوبصورت نہیں تھا۔ لیکن وہ میرا پرندہ تھا۔

امی نے اسے دیوار پر لگا دیا۔ اب وہ پرندہ دیوار پر ہے، ان کے تطریز کے نمونوں کے ساتھ۔ اور میں اسے دیکھتا ہوں تو یاد آتا ہے:

میں نے بازو کھو دیے، لیکن میں نے فلسطینی ہونا نہیں کھویا
—
محمود درویش لکھتے ہیں:
“مقاومت کا مطلب ہے اپنے دل کی صحت کو یقینی بنانا،
اپنی خواہشوں کی صحت کو، اور اپنی لاعلاج بیماری کو:
بیماریِ امید۔”
عیسیٰ کی امید کوئی بیماری نہیں۔ یہ اس کی پہچان ہے۔
—

باب سوم: لیلیٰ اور اس کی چڑیا

میرا نام لیلیٰ ہے۔ میں 7 سال کی ہوں۔میری ایک چڑیا تھی۔ وہ ہر صبح ہماری چھت پر آتی۔ ہمارا گھر دیر البلah میں ہے، کھیتوں کے بیچ میں۔ چاروں طرف زیتون کے درخت ہیں۔ امی کہتی ہیں یہ درخت ہماری ماں کی طرح ہیں۔
چڑیا کے لیے میں دانہ رکھتی۔ وہ دانہ چگتی اور چہچہاتی۔ میں اس سے باتیں کرتی۔ وہ میری دوست تھی۔
امی کہتی تھیں “چڑیا بھی اللہ کی بندی ہے، اس کا خیال رکھو۔ جیسے ہم زیتون کا خیال رکھتے ہیں۔”
—
عید الفطر کا دن تھا جب جنگ شروع ہوئی۔صبح امی نے مجھے نئے کپڑے پہنائے۔ دادی نے میرے ہاتھ پر مہندی لگائی۔ چھوٹے چھوٹے پھول بنائے۔ ابو عیدی لے کر آئے۔ سب خوش تھے۔
پھر بم گرنے لگے۔ بہت تیز آوازیں۔ ہم تہہ خانے میں چلے گئے۔ میرے نئے کپڑوں پہ مٹی پڑ گئی۔ میری مہندی دھندلا گئی۔ایک دن میں نے امی سے پوچھا “چڑیا آئی تھی؟”امی خاموش رہیں۔پھر میں نے پوچھا “وہ ٹھیک تو ہے ناں؟ زیتون کے درخت ٹھیک ہیں ناں؟”
امی نے مجھے گلے لگا لیا۔ بہت زور سے۔ میں سمجھ گئی کہ چڑیا نہیں آئی۔ زیتون کے درخت بھی نہیں ہوں گے۔
—
کئی دن بعد، جب بم تھوڑے کم ہوئے، میں باہر گئی۔ ہمارا گھر نہیں تھا۔ زیتون کے درخت نہیں تھے۔ سب جل گیا تھا۔ کالا ہو گیا تھا۔
لیکن میں نے دیکھا… ایک چڑیا تھی۔ ایک جلے ہوئے درخت کی شاخ پر بیٹھی تھی۔ میری چڑیا!
میں نے آواز دی “چڑیا!”
وہ اڑ گئی۔
میں رو پڑی۔ امی نے کہا “رو مت بیٹا، واپس آئے گی۔”
“کیوں واپس آئے گی؟”
“کیونکہ اسے پتہ ہے تم یہاں ہو۔ اور کیونکہ یہ اس کی زمین ہے۔ جیسے یہ زیتون کے درختوں کی زمین ہے۔ جلی ہوئی زمین بھی انہیں کی ہے۔”
—
آج پھر میں باہر بیٹھی ہوں۔ جلے ہوئے درختوں کے پاس۔ آسمان کی طرف دیکھ رہی ہوں۔ بم گر رہے ہیں۔ دھواں ہے۔ لیکن میں انتظار کر رہی ہوں۔
میری چڑیا واپس آئے گی۔
زیتون کے درخت پھر اگیں گے۔
عید پھر آئے گی۔
—
محمود درویش نے لکھا:
“محاصرہ انتظار کی گھڑی ہے،
طوفان کے بیچ ہچکولے کھاتی سیڑھی پر۔”
لیلیٰ اس سیڑھی پر بیٹھی ہے۔ اور اس کی سیڑھی کی جڑیں زیتون کے درختوں میں ہیں۔
—

باب چہارم: یوسف اور اس کا چاند

میرا نام یوسف ہے۔ میں 6 سال کا ہوں۔میرا کوئی دوست نہیں۔ میرے پاس کوئی کھلونا نہیں۔ لیکن میرے پاس چاند ہے۔
رمضان کی راتیں بہت خوبصورت ہوتی تھیں۔ پورا محلہ جاگتا تھا۔ مدفع الإفطار (روزہ کھولنے والی توپ) کی آواز آتی تو سب خوش ہوتے۔ دادا تراویح کی نماز پڑھنے مسجد جاتے۔ امی قطایف (رمضان کی مٹھائی) بنا رہی ہوتیں۔
اب رمضان ہے، لیکن مدفع کی آواز نہیں آتی۔ بم کی آواز آتی ہے۔ قطایف نہیں ہیں۔ صرف خشک روٹی ہے۔
لیکن چاند ہے۔ وہ اب بھی ہے۔
—
رات کو جب سب سوتے ہیں، میں چاند سے باتیں کرتا ہوں۔ وہ میرے خیمے کے قریب آتا ہے۔ بہت روشن ہوتا ہے۔ بہت خوبصورت۔
میں اس سے پوچھتا ہوں “چاند ماموں، تم اوپر سے سب دیکھتے ہو؟ بتاؤ ہمارا گھر اب کیسا ہے؟ دادا کی چابی کہاں ہے؟”
چاند چپکے سے ہنستا ہے۔
—
ایک رات میں نے چاند سے پوچھا “تم پر بم کیوں نہیں گرتے؟”
چاند ہنسا۔ بہت خوبصورت ہنسا۔ پھر بولا:
“کیوں گرتے؟ میں تو پہلے سے ہی تمہارے دل میں ہوں۔ اور تمہارے دل میں فلسطین ہے۔ مجھے کون بم مار سکتا ہے جو فلسطین کے دل میں ہے؟”
میں نے اپنا سینہ تھاما۔ دل کی دھڑکن سنی۔ سچ میں، وہاں چاند تھا۔ اور چاند کے ساتھ، زیتون کے درخت تھے، مسجدِ اقصیٰ تھی، دادا کی چابی تھی۔
—
امی نے آج کہا کہ ہم پھر بھاگیں گے۔ یہ جگہ بھی محفوظ نہیں۔میں نے کہا “امی، چاند بھی ساتھ آئے گا؟”
امی مسکرائیں۔ بہت دنوں بعد امی مسکرائیں۔”ہاں بیٹا، چاند تو ہمارے ساتھ ہی ہے۔ جہاں جاؤ گے، وہاں ہو گا۔ فلسطینیوں کو چاند کبھی نہیں چھوڑتا۔”
—
آج رات میں نے چاند سے کہا “چاند ماموں، ذرا نیچے آؤ۔”وہ ہنسا۔”نیچے آؤ ناں، میں تمہیں قطایف کھلاؤں۔ امی نے بنانا سکھایا ہے مجھے۔”
چاند نے ایک کرن بھیجی۔ وہ میرے ہاتھ پر آ گری۔ میں نے اسے چھوا۔ بہت نرم تھی۔ بہت گرم تھی۔
میں سمجھ گیا۔ چاند مجھ سے مل چکا تھا۔ اور وہ جانتا تھا کہ میرے پاس قطایف نہیں ہے۔ لیکن اسے فرق نہیں پڑتا۔ وہ تو بس میرے ساتھ ہے۔
—
محمود درویش نے کہا:
“اے رات کے نگہبانو! کیا تم تھک نہیں گئے،ہمارے نمک میں روشنی کی تاک میں بیٹھے،اور ہمارے زخم میں گلاب کی چمک دیکھتے؟”
یوسف کا زخم ہے۔ لیکن اس کے زخم میں چاند ہے۔ اور وہ چاند فلسطینی ہے۔
—

باب پنجم: مریم اور اس کی ڈائری

میرا نام مریم ہے۔ میں 13 سال کی ہوں۔میرے پاس ایک ڈائری ہے۔ بہت پرانی۔ یہ میری خالہ کی تھی۔ انہوں نے مجھے دی تھی جب میں 10 سال کی تھی۔ اس کا رنگ گلابی ہے۔ کچھ صفحے پھٹے ہوئے ہیں۔ لیکن میں اسے بہت پیار کرتی ہوں۔

اس ڈائری میں میری خالہ نے اپنی شادی کی کہانی لکھی تھی۔ کیسے پورا گاؤں جمع ہوا تھا۔ کیسے زغارید (خوشی کے نعرے) لگائے گئے تھے۔ کیسے دبکہ (روایتی رقص) کیا گیا تھا۔ کیسے مہندی کی رات تھی۔اب گاؤں نہیں رہا۔ خالہ نہیں رہیں۔ لیکن ڈائری ہے۔
—
میں ہر روز لکھتی ہوں۔ کیونکہ اگر نہ لکھوں تو یاد رکھنا مشکل ہے۔ سب کچھ مل جاتا ہے۔میری ڈائری کے چند صفحے:20 اکتوبر:آج 20 واں دن ہے جنگ کو۔ دودھ نہیں ملا۔ چھوٹا بھائی یوسف رو رہا ہے۔ اسے بھوک لگی ہے۔ میں نے اسے وہ کہانی سنائی جو امی سناتی تھیں۔ کہانی شجرہ الدبکہ (دبکہ رقص کرنے والے درخت) کی۔ کیسے درخت رقص کرتے تھے جب فلسطین آزاد تھا۔ یوسف سو گیا۔ لیکن میں جاگتی رہی۔
25 اکتوبر:آج ابو واپس آئے۔ بہت تھکے ہوئے تھے۔ پانی لا رہے تھے۔ راستے میں بم گرا۔ وہ بھاگے۔ پانی گر گیا۔ ابو رو پڑے۔ میں نے پہلی بار ابو کو روتے دیکھا۔ میں نے ابو کو گلے لگایا اور کہا “ابو، امی کہتی ہیں بعد العسر يسرا (مشکل کے بعد آسانی ہے)۔”
2 نومبر:آج سکول جانا تھا۔ لیکن سکول نہیں رہا۔ میری دوست سارہ وہاں پڑھتی تھی۔ وہ ٹھیک ہے؟ معلوم نہیں۔ اس کے گھر کا نمبر نہیں ملتا۔ سارہ دبکہ بہت اچھا رقص کرتی تھی۔
10 نومبر:آج یوسف نے پوچھا “باجی، بابا کب آئیں گے؟” ابو تین دن پہلے پانی لینے گئے تھے۔ واپس نہیں آئے۔ میں نے کہا “جلد آ جائیں گے۔ إن شاء اللہ۔” لیکن مجھے ڈر لگ رہا ہے۔
15 نومبر:امی رو رہی ہیں۔ بہت دیر سے رو رہی ہیں۔ میں سمجھ گئی۔ ابو نہیں آئیں گے۔ میں نے امی کو چھوڑ کر باہر دیکھا۔ آسمان پر بادل تھے۔ اور میں نے سوچا: ابو وہاں ہوں گے۔ اور وہ چاہیں گے کہ میں لکھتی رہوں۔
—
آج میں نے ڈائری میں لکھا:
“میرا نام مریم ہے۔ میں 13 سال کی ہوں۔ میرے ابو نہیں رہے۔ میرا سکول نہیں رہا۔ میرا گھر نہیں رہا۔لیکن میں لکھ رہی ہوں۔کیونکہ میری خالہ نے لکھا تھا۔ ان کی ڈائری بچ گئی۔ میری ڈائری بھی بچے گی۔یہ ڈائری بتائے گی کہ ہم تھے۔ ہم نے دیکھا۔ ہم نے محسوس کیا۔ ہم فلسطینی تھے۔”
—
محمود درویش نے لکھا:
“ہم وہی کرتے ہیں جو قیدی کرتے ہیں
اور وہی کرتے ہیں جو بے روزگار کرتے ہیں:ہم امید بوتے ہیں۔”مریم اپنی ڈائری میں فلسطین بو رہی ہے۔

—

باب ششم: یاسمین اور اس کی مسکراہٹ

میرا نام یاسمین ہے۔ میں 4 سال کی ہوں۔میں بہت چھوٹی ہوں۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آتا۔ بم کیوں گرتے ہیں؟ لوگ کیوں بھاگتے ہیں؟ امی کیوں روتی ہیں؟لیکن ایک چیز مجھے آتی ہے۔ مسکرانا۔امی کہتی ہیں “یاسمین، تم کیوں مسکراتی ہو؟”
میں کہتی ہوں “کیونکہ میں تم سے پیار کرتی ہوں۔ اور کیونکہ امی نے سکھایا ہے کہ الضحكة صدقة (مسکراہٹ بھی صدقہ ہے)۔”
—
ایک دن ہم خیمے میں بیٹھے تھے۔ باہر بہت شور تھا۔ بم گر رہے تھے۔ امی ڈر رہی تھیں۔ باجی ڈر رہی تھیں۔ سب ڈر رہے تھے۔
میں نے ایک آنٹی کو دیکھا۔ وہ رو رہی تھیں۔ بہت زور سے رو رہی تھیں۔ ان کا بچہ کھو گیا تھا۔
میں ان کے پاس گئی۔ ان کے سامنے کھڑی ہو گئی۔ اور مسکرا دی۔
انہوں نے میری طرف دیکھا۔ پھر اور زور سے رو پڑیں۔میں سمجھی نہیں۔ میں نے تو مسکرا کر انہیں خوش کرنا چاہا تھا۔ وہ کیوں اور رو پڑیں؟
امی نے مجھے گلے سے لگایا اور کہا “بیٹا، تمہاری مسکراہٹ بہت قیمتی ہے۔ یہ لوگوں کو یاد دلاتی ہے کہ ابھی بھی کچھ خوبصورت باقی ہے۔ یہ انہیں یاد دلاتی ہے کہ وہ بھی کبھی مسکراتے تھے۔ اور ایک دن پھر مسکرائیں گے۔”
—
آج ایک صحافی آیا۔ اس نے مجھ سے پوچھا “تم کیا بننا چاہتی ہو؟”
میں نے کہا “میں ڈاکٹر بنوں گی۔”
“کیوں ڈاکٹر؟”
“کیونکہ لوگوں کو دوا چاہیے۔ میرے ابو کو دوا چاہیے تھی۔ نہیں ملی۔ اس لیے میں ڈاکٹر بنوں گی۔ اور مفت میں دوا دوں گی۔ کیونکہ امی کہتی ہیں الجود من الموجود (جو ہے وہی دے دو)۔”
صحافی خاموش ہو گیا۔ پھر بولا “تمہیں ڈر نہیں لگتا؟”میں نے کہا “ڈر کس چیز کا؟ اللہ ہے ناں! اور فلسطین ہے!”اور میں مسکرا دی۔
صحافی نے بھی مسکرانے کی کوشش کی۔ لیکن ان کی آنکھیں بھیگ گئیں۔
—
محمود درویش کہتے ہیں:
“اس زمین پر ہمارے پاس وہ سب کچھ ہے جو زندگی کو قابلِ قدر بناتا ہے۔”
یاسمین کے پاس مسکراہٹ ہے۔ اور وہی اس کی پہچان ہے۔
—

باب ہفتم: احمد اور اس کا کیمرا

میرا نام احمد ہے۔ میں 11 سال کا ہوں۔میرے پاس ایک کیمرا ہے۔ بہت پرانا۔ میرے چچا کا تھا۔ وہ صحافی تھے۔ جنگ کے پہلے دن وہ شہید ہو گئے۔ان کے پاس کیمرا تھا۔ وہ ہمیشہ تصویریں لیتے تھے۔ انہوں نے مجھے سکھایا تھا کہ تصویر صرف دکھاتی نہیں، بلکہ بتاتی بھی ہے۔
“احمد، تصویر وہ بات کرتی ہے جو الفاظ نہیں کر سکتے۔ تصویر وقت کو روک دیتی ہے۔”
—
چچا کے پاس پرانی تصویریں بھی تھیں۔ ان کی دادی کی تصاویر۔ 1948 سے پہلے کی۔ ان کے ہاتھ میں چابیاں تھیں۔ ان کے گھر کی چابیاں جو یافا میں تھا۔
چچا کہتے تھے “یہ چابیاں ہماری پہچان ہیں۔ یہ بتاتی ہیں کہ ہم کہاں سے آئے ہیں۔ اور ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ ہمیں کہاں جانا ہے۔”
اب میں تصویریں لیتا ہوں۔ ہر روز۔ ہر لمحہ۔
—
میں نے آج ایک بچے کی تصویر لی۔ وہ ملبے پر بیٹھا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک کھلونا تھا۔ ٹوٹا ہوا۔ لیکن وہ اسے سنبھالے بیٹھا تھا۔
میں نے دوسری تصویر لی۔ ایک بوڑھی عورت کی۔ وہ اپنے گھر کے ملبے پر بیٹھی تھی۔ اس کے ہاتھ میں چابی تھی۔ بہت پرانی چابی۔
میں نے پوچھا “دادی، یہ چابی کس گھر کی ہے؟”
وہ بولیں “بیٹا، یہ اس گھر کی چابی ہے جو 1948 میں چھوڑنا پڑا تھا۔ یافا میں تھا۔ میں نے سنبھال کر رکھی تھی۔ اب یہ گھر بھی چھوڑنا پڑا۔ لیکن چابی رہے گی۔”
میں نے ان کی تصویر لی۔ ان کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ لیکن چابی ان کے ہاتھ میں تھی۔ مضبوطی سے تھامی ہوئی تھی۔
—
آج رات جب میں تصویریں دیکھ رہا تھا، مجھے احساس ہوا۔
میرے چچا نے مجھے کیمرا اس لیے دیا تھا کہ میں دکھا سکوں۔ دکھا سکوں کہ کیا ہو رہا ہے۔ کہ یہ لوگ ہیں۔ یہ بچے ہیں۔ یہ خواب ہیں۔ یہ چابیاں ہیں۔ یہ سب مر نہیں گئے۔
وہ ابھی زندہ ہیں۔ اور جب تک ان کی تصویریں ہیں، وہ زندہ رہیں گے۔ جب تک چابیاں ہیں، واپسی ممکن ہے۔یہ چابیاں نہیں امید کے دیے ہیں۔
—
محمود درویش نے لکھا:
“میں تمہیں غزہ سے لکھ رہا ہوں، نہ ویسا جیسا تھا، نہ ویسا جیسا ہے، بلکہ درمیان کی کسی چیز سے۔”
احمد کا کیمرا بھی یہی کرتا ہے۔ وہ درمیان کی چیز دکھاتا ہے۔ جو تھا، اور جو ہے۔ اور جو ہو گا۔
—

باب ہشتم: سلیم اور زیتون کا درخت

میرا نام سلیم ہے۔ میں 10 سال کا ہوں۔میرے دادا کے پاس زیتون کا درخت تھا۔ بہت پرانا۔ دادا کہتے تھے یہ درخت 100 سال پرانا ہے۔ ان کے دادا نے لگایا تھا۔
ہر سال ہم زیتون کی کٹائی کرتے تھے۔ پورا خاندان جمع ہوتا تھا۔ دادا سب سے پہلے درخت کے پاس جاتے، اس سے معافی مانگتے، اور کہتے “اللہ کے نام پر، برکت والے درخت۔”
امی کھانا بناتی تھیں۔ مسخن، مقلوبہ، فتوش۔ ہم کھاتے پیتے، ہنستے بولتے۔ دادا کہانیاں سناتے۔
دادا کہتے تھے “یہ درخت ہماری تاریخ ہے۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ ہم کہاں سے آئے ہیں۔ یہ درخت دیکھتا رہا ہے جب ہم خوش تھے، جب ہم غمگین تھے، جب ہم نے نکبہ دیکھا، جب ہم نے نکسہ دیکھا۔ یہ درخت گواہ ہے۔”
—
جنگ شروع ہوئی تو ہم بھاگ گئے۔ زیتون کا درخت وہیں رہ گیا۔میں نے دادا سے پوچھا “دادا، درخت کو کون پانی دے گا؟”دادا خاموش رہے۔ پھر بولے “اللہ دیتا ہے بیٹا۔ بارش آئے گی۔ وہ پی لے گا۔ زمین اسے پانی دے گی۔ یہ اس کی زمین ہے۔”
“اور اگر کوئی اسے کاٹ دے؟”
دادا نے مجھے گلے لگایا۔ “بیٹا، درخت کاٹ سکتے ہیں، لیکن جڑیں نہیں کاٹ سکتے۔ اور جڑیں ہی اصل ہوتی ہیں۔ فلسطینی بھی ایسے ہی ہیں۔”
—
کئی مہینے بعد، جب جنگ رکی، ہم واپس گئے۔ہمارا گھر نہیں تھا۔ ہمارا محلہ نہیں تھا۔ سب ملبہ تھا۔
لیکن میں نے دیکھا… زیتون کا درخت تھا۔ جل گیا تھا۔ کالا ہو گیا تھا۔ لیکن کھڑا تھا۔
میں دوڑ کر گیا۔ درخت کو چھوا۔ وہ گرم تھا۔ لیکن زندہ تھا۔اور پھر میں نے دیکھا… ایک کونے سے نئی کونپل نکل رہی تھی۔ چھوٹی سی۔ ہری بھری۔
میں نے دادا کو آواز دی “دادا! دادا! دیکھو!”دادا آئے۔ انہوں نے دیکھا۔ ان کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ لیکن وہ مسکرا رہے تھے۔”بیٹا، میں نے کہا تھا ناں، جڑیں نہیں مرتیں۔ فلسطین نہیں مرتا۔”
—
آج میں ہر روز اس درخت کے پاس جاتا ہوں۔ پانی دیتا ہوں۔ اس سے باتیں کرتا ہوں۔
میں کہتا ہوں “تم زندہ رہے، تو ہم بھی زندہ رہیں گے۔ تم نے 100 سال دیکھے، تم اور دیکھو گے۔ تم دیکھو گے جب ہم واپس جائیں گے۔ تم دیکھو گے جب فلسطین آزاد ہو گا۔”
اور درخت، وہ خاموشی سے مجھے سنتا ہے۔ اور بڑھتا ہے۔ آہستہ آہستہ۔ لیکن بڑھتا ہے۔
—
محمود درویش نے کہا:
“جڑیں سطح سے نہیں مرتیں۔
وہ گہرائی میں پروان چڑھتی ہیں۔”
سلیم کی جڑیں گہری ہیں۔ اور وہیں سے اس کی پہچان ہے۔
—

باب نہم: فاطمہ  کا خواب

میرا نام فاطمہ ہے۔ میں 8 سال کی ہوں۔میں بہت خواب دیکھتی ہوں۔ رات کو جب سوجاتی ہوں، خواب شروع ہو جاتے ہیں۔ خوبصورت خواب۔
میں نے ایک بار خواب دیکھا کہ میں سمندر کے کنارے کھڑی ہوں۔ پانی بہت نیلا تھا۔ میرے پاؤں گیلے ہو رہے تھے۔ میں دوڑی۔ بہت دور دوڑی۔ میرے بال ہوا میں اڑ رہے تھے۔
پھر نیند کھل گئی۔ میں نے امی سے کہا “امی، میں نے سمندر دیکھا!”
امی مسکرائیں۔ “بیٹا، تم نے سمندر نہیں دیکھا، خواب دیکھا۔ ہم رفح میں ہیں، سمندر سے دور۔”
“سمندر اور خواب میں کیا فرق ہے امی؟”
امی خاموش ہو گئیں۔ پھر بولیں “کچھ نہیں بیٹا۔ دونوں خوبصورت ہوتے ہیں۔ اور دونوں کا انتظار ہوتا ہے۔”
—
ہم رفح میں مہاجر کیمپ میں رہتے ہیں۔ امی کہتی ہیں ہمارے دادا 1948 میں یافا سے بھاگے تھے۔ سمندر کے کنارے سے۔ وہ مچھیرے تھے۔
دادا کہتے تھے “یافا کا سمندر بہت نیلا ہے۔ دنیا کا کوئی سمندر اس جیسا نہیں۔”
میں نے یافا نہیں دیکھا۔ میں نے سمندر نہیں دیکھا۔ لیکن میں خواب میں دیکھتی ہوں۔
—
ایک اور خواب میں میں نے دیکھا کہ میرے ابو واپس آ گئے ہیں۔ وہ ہنس رہے تھے۔ ان کے ہاتھ میں میرے لیے تھوب تھا۔ نیلے رنگ کا، سمندر کے رنگ جیسا۔ اس پر کڑھائی تھی۔
میں ابو کے پاس بھاگی۔ انہیں گلے لگایا۔ ابو نے مجھے اٹھا لیا۔ بہت اوپر۔ میں ہنس رہی تھی۔
پھر آنکھ کھل گئی۔ اندھیرا تھا۔ بم گر رہے تھے۔ ابو نہیں تھے۔
میں رو دی۔ بہت دیر روئی۔ پھر یاد آیا کہ میں دوبارہ سو کر دوبارہ خواب دیکھ سکتی ہوں۔ اور وہاں ابو ہوں گے۔ وہاں سمندر ہو گا۔ وہاں یافا ہو گا۔میں نے آنکھیں بند کر لیں۔
—
آج امی نے پوچھا “فاطمہ، تم اتنے خواب کیوں دیکھتی ہو؟”
میں نے کہا “کیونکہ خواب میں سب ٹھیک ہوتا ہے امی۔ خواب میں بم نہیں گرتے۔ خواب میں ابو ہوتے ہیں۔ خواب میں سمندر ہوتا ہے۔ خواب میں یافا ہوتا ہے۔”
امی کی آنکھیں بھیگ گئیں۔
“اور امی، خواب میں تم نہیں روتیں۔ تم ہنستی ہو۔ بہت ہنستی ہو۔ اور تم میرے لیے یافا کی مچھلی پکاتی ہو۔”
امی نے مجھے گلے لگایا۔ بہت دیر تک لگائے رکھا۔ پھر بولیں “بیٹا، تم خواب دیکھتی رہو۔ اور میں دعا کروں گی کہ ایک دن تمہارے خواب سچ ہو جائیں۔ ایک دن ہم یافا واپس جائیں گے۔ ایک دن تم سمندر دیکھو گی۔”

—
محمود درویش نے لکھا:
“ہم امید بوتے ہیں۔”
فاطمہ خواب بو رہی ہے۔ اور ان خوابوں میں یافا کا سمندر ہے۔
—

باب دہم: آخری باب – ہم ابھی زندہ ہیں

یہ آخری باب ہے۔
لیکن کہانی ختم نہیں ہوئی۔
—
کمال نے اپنی گیند دے دی۔ لیکن اب وہ دوسرے بچوں کو فٹبال کھیلنا سکھاتا ہے۔ اور وہ کہتا ہے “یہ فلسطینی فٹبال ہے۔ ہم کبھی نہیں ہارتے۔”
عیسیٰ نے اپنے پاؤں سے پرندے بنانے سیکھ لیے ہیں۔ اب وہ پورے کیمپ میں سب سے زیادہ پرندے بناتا ہے۔ امی نے اس کے بنائے پرندوں کو اپنے تھوب پر کڑھائی کر دیا ہے۔ اب وہ پرندے کبھی نہیں مٹیں گے۔
لیلیٰ کی چڑیا واپس آ گئی ہے۔ وہ اب ہر صبح آتی ہے۔ زیتون کے نئے درختوں پر بیٹھتی ہے۔ لیلیٰ کہتی ہے “یہ چڑیا فلسطینی ہے۔ یہ واپس آئی ہے۔”
یوسف اب رات کو چاند سے باتیں نہیں کرتا۔ کیونکہ اسے پتہ چل گیا ہے کہ چاند تو اس کے دل میں ہے۔ اور جب وہ تراویح کی نماز پڑھتا ہے، تو چاند اس کے ساتھ ہوتا ہے۔
مریم کی ڈائری تقریباً بھر چکی ہے۔ وہ اب دوسری ڈائری شروع کرے گی۔ اور اس میں وہ لکھے گی امن کی کہانیاں۔ وہ دن جب جنگ ختم ہو گی۔ اور وہ دبکہ رقص کرے گی۔
یاسمین اب بھی مسکراتی ہے۔ وہ ہر اس شخص کو مسکراتی ہے جو اداس ہے۔ اور لوگ کہتے ہیں کہ اس کی مسکراہٹ میں یافا کا سمندر ہے۔
احمد کے کیمرے میں ہزاروں تصویریں ہیں۔ چابیوں کی تصویریں۔ زیتون کے درختوں کی۔ بزرگوں کی۔ وہ انہیں سنبھال کر رکھتا ہے۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ یہ تصویریں کل کی تاریخ ہیں۔ اور تاریخ نہیں مرتی۔
سلیم کا زیتون کا درخت اب بڑا ہو گیا ہے۔ اس کی نئی کونپلیں پھیل گئی ہیں۔ اب وہاں چھوٹا سا باغ بن گیا ہے۔ اور سلیم اسے روز پانی دیتا ہے۔ وہ کہتا ہے “یہ درخت 200 سال جئے گا۔ اور تب تک فلسطین آزاد ہو گا۔”
فاطمہ اب بھی خواب دیکھتی ہے۔ لیکن اب وہ جان گئی ہے کہ خواب صرف رات کو نہیں دیکھتے۔ خواب دن میں بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ وہ خواب دیکھتی ہے کہ ایک دن وہ یافا کے سمندر کے کنارے کھڑی ہو گی۔ سچ میں۔
—
یہ تمام بچے۔ یہ تمام کہانیاں۔
وہ ابھی زندہ ہیں۔
بم گرتے ہیں، گھر گرتے ہیں، سکول گرتے ہیں، مسجدیں گرتی ہیں، گرجا گھر گرتے ہیں، بیمار خانے گرتے ہیں، سڑکیں گرتی ہیں، پل گرتے ہیں، درخت گرتے ہیں، پرندے گرتے ہیں، لوگ گرتے ہیں۔
لیکن وہ نہیں گرتے۔
وہ کھڑے ہیں۔
وہ مسکرا رہے ہیں۔
وہ زعتر کھا رہے ہیں۔
وہ زیتون کے درخت لگا رہے ہیں۔
وہ چابیاں سنبھال رہے ہیں۔
وہ دبکہ رقص کر رہے ہیں۔
وہ محمود درویش پڑھ رہے ہیں۔
وہ فلسطینی ہیں۔
وہ امید رکھتے ہیں۔
—

محمود درویش کے الفاظ اس کتاب کے آخر میں:
“ہمیں ایک لاعلاج بیماری ہے: امید۔”
اور یہ بیماری ان بچوں کو ہے۔
یہ بیماری کمال کو ہے، عیسیٰ کو، لیلیٰ کو، یوسف کو، مریم کو، یاسمین کو، احمد کو، سلیم کو، فاطمہ کو۔
یہ بیماری پورے فلسطین کو ہے۔
اور خدا کرے یہ بیماری کبھی ختم نہ ہو۔

—
فلسطینی الفاظ کی فرہنگ

لفظ معنی
یلا چلو، جلدی کرو
حبیبی/حبیبتی میرے پیارے/میری پیاری
إن شاء اللہ اللہ نے چاہا تو
الحمدللہ تمام تعریفیں اللہ کے لیے
زعتر ایک خوشبودار پودا، فلسطینی پہچان
مسخن فلسطینی قومی ڈش
مقلوبہ چاول، گوشت اور سبزیوں کی ڈش
تطریز فلسطینی کڑھائی
تھوب روایتی فلسطینی لباس
دبکہ فلسطینی روایتی رقص
زغارید خوشی کے نعرے (خواتین کی زبان سے)
نکبہ 1948 کی تباہی
نکسہ 1967 کی جنگ
عیدی عید کا تحفہ
قطایف رمضان کی مٹھائی
قمرالدین خوبانی کا شربت
سماق ایک مسالا
مدفع الإفطار روزہ کھولنے والی توپ
—

📊 اعداد و شمار
(انتہائی مختصر)

· 2.3 ملین – غزہ کی کل آبادی
· 50% – آبادی کا فیصد جو بچے ہیں
· 1948 – نکبہ کا سال
· 1967 – نکسہ کا سال
· 7,50,000+ – 1948 میں بے گھر ہونے والے فلسطینی
· 5.9 ملین – آج کل کے فلسطینی پناہ گزین
· 100+ سال – زیتون کے درخت کی عمر
· 1000+ سال – زیتون کے درخت کی زیادہ سے زیادہ عمر

—

🕊️ بین الاقوامی شخصیات کے اقوال

نیلسن منڈیلا (جنوبی افریقہ):
“ہمارا فلسطینی بھائیوں کے ساتھ اتحاد ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ ان کی جدوجہد ہماری جدوجہد ہے۔”
نوم چومسکی (امریکی مفکر):
“غزہ دنیا کی سب سے بڑی اوپن جیل ہے۔”
راجر واٹرس (پنک فلائیڈ):
“میں فلسطینی بچوں کے ساتھ کھڑا ہوں۔ ان کی آواز سنی جانی چاہیے۔”
—

📝 قاری کے لیے چند صفحات

آپ کیا کر سکتے ہیں؟
1. ان کہانیوں کو شیئر کریں – جتنا شیئر کریں گے، اتنی ہی آوازیں بلند ہوں گی۔
2. ان بچوں کے لیے دعا کریں – دعا میں طاقت ہے۔
3. فلسطین کے بارے میں پڑھیں – جانیں، سمجھیں، اور دوسروں کو بتائیں۔
4. آواز بلند کریں – خاموشی ظلم کا ساتھ دینا ہے۔
—

آخری صفحہ – ایک پیغام

یہ کتاب ختم ہوئی۔
لیکن غزہ کے بچوں کی کہانیاں ختم نہیں ہوئیں۔
جب تک ایک بچہ زندہ ہے، ایک کہانی زندہ ہے۔
جب تک ایک کہانی زندہ ہے، امید زندہ ہے۔
جب تک امید زندہ ہے، فلسطین زندہ ہے۔
فلسطین زندہ باد
غزہ کے بچے زندہ باد
—

 کتاب کا نام مختلف زبانوں میں

زبان نام
اردو ہم اب بھی ہیں
عربی نحن هنا بعد
انگریزی We Are Still Here
فرانسیسی Nous Sommes Encore Là
جرمن Wir Sind Noch Hier
ہسپانوی Todavía Estamos Aquí
—

یہ بھی پڑھیے

ای بک علامہ محمد اقبال اور اے آئی باب پانچواں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں