16

بچوں کو قرآن سے محبت کیسے پیدا کروائیں؟

تحریر شئیر کریں

بچوں کو قرآن سے محبت کیسے پیدا کروائیں؟

یہ سوال ہر مسلمان والدین کے لیے اہم ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے صرف قرآن پڑھنا یا سورتیں یاد کرنا نہ سیکھیں بلکہ ان کے دل میں قرآن کی محبت پیدا ہو، وہ قرآن کو اپنی زندگی کی رہنمائی سمجھیں اور مشکل و خوشی دونوں حالات میں اللہ کی کتاب کی طرف رجوع کریں۔

بچے کے دل میں قرآن کی محبت صرف حکم دینے، زیادہ سبق دینے یا غلطی پر ڈانٹنے سے پیدا نہیں ہوتی۔ اس کے لیے گھر کا ماحول، والدین کا اپنا قرآنی تعلق، محبت بھرا اندازِ گفتگو اور مستقل مزاجی بہت اہم ہے۔

بچوں کو قرآن سے محبت کیوں ہونی چاہیے؟

قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی کتابِ ہدایت ہے۔ اس لیے بچوں کو قرآن سے جوڑنے کا مقصد صرف ناظرہ مکمل کروانا یا حفظ کروانا نہیں بلکہ انہیں اللہ تعالیٰ کی ہدایت سے وابستہ کرنا بھی ہے۔

اگر بچہ قرآن کو صرف روزانہ کا ایک مشکل سبق سمجھتا رہے تو ممکن ہے کہ وہ بڑے ہونے کے بعد بھی اسے صرف ایک ذمہ داری سمجھتا رہے۔ لیکن اگر بچپن میں قرآن کو محبت، سکون، والدین کی توجہ اور اچھی یادوں کے ساتھ جوڑا جائے تو قرآن کے ساتھ اس کا تعلق زیادہ مثبت بن سکتا ہے۔

بچوں کو قرآن سے محبت کیسے پیدا کروائیں؟

1۔ سب سے پہلے خود قرآن سے اپنا تعلق مضبوط کریں

بچے صرف ہماری باتیں نہیں سنتے بلکہ ہمارے عمل بھی دیکھتے ہیں۔ اگر والدین خود قرآن کی تلاوت کرتے ہیں، قرآن کی آیات پر غور کرتے ہیں اور قرآن کو اپنی زندگی میں اہم مقام دیتے ہیں تو بچہ بھی اس عمل کو فطری طور پر اہم سمجھنے لگتا ہے۔

اس لیے بچے سے صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ “جاؤ قرآن پڑھو”۔ کبھی اسے اپنے پاس بٹھا کر کہیں:

“آؤ، آج ہم دونوں مل کر قرآن پڑھتے ہیں۔”

یہ چھوٹا سا انداز بچے کے لیے قرآن کو حکم کے بجائے محبت اور تعلق سے جوڑ سکتا ہے۔

2۔ قرآن کو سزا کا ذریعہ نہ بنائیں

بچے نے شرارت کی اور والدین نے کہا: “آج تمہیں قرآن کا زیادہ سبق دینا ہوگا۔” بظاہر یہ ایک معمولی جملہ ہے، لیکن اس طرح قرآن بچے کے ذہن میں سزا یا مشکل کام کے ساتھ وابستہ ہو سکتا ہے۔

قرآن کو سزا کے بجائے محبت، سکون اور ہدایت کے ساتھ جوڑیں۔ اگر بچہ غلطی کرے تو اصلاح کے دوسرے مناسب طریقے اختیار کریں اور قرآن کے وقت کو مثبت رکھیں۔

3۔ کم پڑھائیں لیکن مستقل مزاجی کے ساتھ

چھوٹے بچے کی توجہ کا دورانیہ محدود ہو سکتا ہے۔ اس لیے ایک ہی نشست میں بہت زیادہ سبق دینے کے بجائے مختصر مگر مستقل قرآن کا وقت مقرر کرنا زیادہ عملی طریقہ ہے۔

مثلاً روزانہ:

5 منٹ تلاوت

5 منٹ بچے کا سبق

3 منٹ آسان مفہوم

2 منٹ دعا اور حوصلہ افزائی

یاد رکھیں، مقصد صرف یہ نہیں کہ بچہ آج کتنا سبق مکمل کرتا ہے بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ روزانہ قرآن کے قریب آتا ہے۔

4۔ قرآن کی آیات کا آسان مفہوم سمجھائیں

بچے کو صرف الفاظ پڑھانے کے بجائے کبھی کبھی آیت کا آسان مفہوم بھی بتائیں۔ اس سے قرآن اس کی زندگی سے جڑنے لگتا ہے۔

مثلاً سورۃ الفاتحہ پڑھاتے ہوئے بچے سے پوچھیں:

“ہم اللہ تعالیٰ سے سیدھا راستہ کیوں مانگتے ہیں؟”

اسی طرح صبر، شکر، سچائی، والدین کے ساتھ حسنِ سلوک اور دوسروں سے اچھے برتاؤ کے بارے میں قرآن کی تعلیمات کو بچے کی روزمرہ زندگی سے جوڑیں۔

5۔ بچے کی غلطی پر غصے کے بجائے رہنمائی کریں

قرآن پڑھتے ہوئے بچے سے غلطی ہونا سیکھنے کے عمل کا حصہ ہے۔ ہر غلطی پر ڈانٹنے سے بچہ قرآن پڑھنے سے گھبرا سکتا ہے۔

اس کے بجائے کہیں:

“کوئی بات نہیں، دوبارہ کوشش کرتے ہیں۔”

پھر غلط حرف یا حرکت کو نرمی سے درست کریں۔ خاص طور پر تجوید سیکھنے والے بچوں کے لیے صبر اور مسلسل مشق بہت اہم ہے۔

6۔ بچے کی کوشش کی تعریف کریں

صرف یہ نہ کہیں کہ “تم بہت ذہین ہو۔” بلکہ بچے کی مخصوص کوشش کو سراہیں۔ مثلاً:

“آج تم نے بہت توجہ سے پڑھا۔”

“آج تم نے پچھلی غلطی خود درست کی۔”

“مجھے خوشی ہوئی کہ تم نے خود قرآن کھولا۔”

مشہور parenting کتاب How to Talk So Kids Will Listen & Listen So Kids Will Talk میں بھی بچوں کے ساتھ مؤثر گفتگو، ان کے جذبات کو سمجھنے اور مثبت انداز میں حوصلہ افزائی کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔

7۔ قرآن کے لیے خوبصورت روزانہ Routine بنائیں

بچوں کو قرآن سے محبت کیسے پیدا کروائیں؟ اس کا ایک آسان جواب یہ بھی ہے کہ قرآن کو گھر کے روزمرہ معمول کا خوبصورت حصہ بنا دیں۔

مثلاً مغرب کے بعد 10 سے 15 منٹ کا Family Quran Time مقرر کیا جا سکتا ہے۔ اس وقت پورا خاندان موبائل فون ایک طرف رکھ کر قرآن کے لیے بیٹھے۔

کبھی والد تلاوت کریں، کبھی والدہ، کبھی بچہ اپنی چھوٹی سورت سنائے اور آخر میں سب مل کر دعا کریں۔

8۔ بچے کے سوالات کو اہمیت دیں

اگر بچہ قرآن پڑھتے ہوئے پوچھتا ہے:

“اللہ تعالیٰ نے ایسا کیوں فرمایا؟”

تو اسے خاموش نہ کریں۔ عمر کے مطابق آسان جواب دیں۔ اگر کسی سوال کا جواب معلوم نہ ہو تو غلط جواب دینے کے بجائے کہیں:

“اس سوال کا درست جواب ہم مل کر معلوم کریں گے۔”

اس طرح بچے میں قرآن کو سمجھنے اور سوال کرنے کا شوق پیدا ہو سکتا ہے۔

9۔ دوسرے بچوں سے موازنہ نہ کریں

ہر بچے کی سیکھنے کی رفتار مختلف ہوتی ہے۔ اس لیے یہ کہنا:

“دیکھو، فلاں بچہ تم سے زیادہ قرآن پڑھتا ہے۔”

یا

“تمہاری بہن تو تم سے بہت آگے ہے۔”

بچے کے اندر احساسِ کمتری پیدا کر سکتا ہے۔

اس کے بجائے بچے کی اپنی progress دیکھیں۔ اگر آج وہ کل کے مقابلے میں بہتر پڑھ رہا ہے تو یہی اس کی کامیابی ہے۔

10۔ قرآن کے ساتھ خوبصورت یادیں بنائیں

قرآن کا تعلق صرف سبق اور امتحان سے نہ ہو۔ بچوں کے ساتھ قرآن کی تعلیم کو دلچسپ اور محبت بھرا بنائیں۔

چھوٹی سورت کا آسان مفہوم بیان کریں۔

قرآنی الفاظ کا vocabulary game بنائیں۔

بچے سے پوچھیں کہ اسے کون سی آیت پسند ہے۔

قرآن کی تعلیم سے متعلق اچھی سرگرمیاں کریں۔

بچے کو اپنی پسندیدہ سورت سنانے کا موقع دیں۔

اس طرح بچے کے ذہن میں قرآن سے متعلق خوشگوار یادیں پیدا ہوں گی۔

قرآن اور Parenting: محبت پہلے، تعلیم بعد میں

جدید parenting research میں والدین اور بچے کے درمیان responsive اور توجہ دینے والے تعلق کو بچے کی سیکھنے اور نشوونما کے لیے اہم قرار دیا جاتا ہے۔ جب بچہ محسوس کرتا ہے کہ والدین اسے سنتے، سمجھتے اور اس کی کوشش کو اہمیت دیتے ہیں تو سیکھنے کا ماحول زیادہ مثبت بن سکتا ہے۔

اسی اصول کو قرآن کی تعلیم میں بھی اپنایا جا سکتا ہے۔ بچے کو صرف سبق سنانے والا نہ سمجھیں بلکہ اس کے سوالات، جذبات اور مشکلات کو بھی سمجھیں۔

قرآن مجید ہمیں دعوت کے بارے میں فرماتا ہے:

“اپنے رب کی راہ کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلائیے۔”

(سورۃ النحل: 125)

بچوں کی قرآن سے تربیت میں بھی حکمت، نرمی اور اچھا انداز اختیار کرنا انتہائی اہم ہے۔

15 منٹ کا آسان Family Quran Plan

وقت سرگرمی
 منٹ والدین کے ساتھ تلاوت
منٹ بچے کا سبق یا حفظ
منٹ ایک آیت کا آسان مفہوم
 منٹ دعا اور حوصلہ افزائی

والدین کو کن غلطیوں سے بچنا چاہیے؟

قرآن کو سزا کے طور پر استعمال کرنا۔

ہر غلطی پر بچے کو ڈانٹنا۔

دوسرے بچوں سے موازنہ کر۔

بچے کی عمر اور صلاحیت سے زیادہ سبق دینا۔

صرف حفظ پر توجہ دینا اور مفہوم نظرانداز کرنا۔

قرآن کے وقت موبائل اور دوسری distractions کو ترجیح دینا۔

بچے کے سوالات کو نظرانداز کرنا۔

بچوں کو قرآن سے محبت پیدا کرنے کا بہترین طریقہ کیا ہے؟

بچوں کو قرآن سے محبت پیدا کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ قرآن کو ان کی زندگی میں محبت، تعلق، سکون، سمجھ اور عمل کے ساتھ شامل کیا جائے۔

بچے کو یہ محسوس ہونا چاہیے کہ قرآن صرف ایک سبق نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمارے لیے ہدایت ہے۔ جب والدین خود قرآن سے محبت کرتے ہیں، بچے کے ساتھ نرمی سے قرآن پڑھتے ہیں، اس کے سوالات سنتے ہیں اور اس کی کوشش کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں تو قرآن کے ساتھ ایک مثبت تعلق پیدا کرنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)

بچوں کو قرآن پڑھنے کی عادت کیسے ڈالیں؟

روزانہ ایک مقررہ مختصر وقت قرآن کے لیے رکھیں۔ ابتدا میں 10 سے 15 منٹ کافی ہو سکتے ہیں۔ بچے پر غیر ضروری دباؤ ڈالنے کے بجائے مستقل مزاجی اور مثبت ماحول پر توجہ دیں۔

اگر بچہ قرآن پڑھنے میں دلچسپی نہ لے تو کیا کریں؟

سب سے پہلے وجہ سمجھنے کی کوشش کریں۔ ممکن ہے سبق مشکل ہو، بچہ تھکا ہوا ہو یا اسے مسلسل ڈانٹ کا سامنا رہا ہو۔ سبق مختصر کریں، انداز تبدیل کریں اور قرآن کو خوشگوار سرگرمیوں کے ساتھ جوڑیں۔

کیا بچوں کو قرآن کا ترجمہ بھی پڑھانا چاہیے؟

جی، بچے کی عمر اور سمجھ کے مطابق قرآن کی آیات کا آسان مفہوم سمجھانا مفید ہے۔ اس سے بچہ قرآن کی تعلیمات کو اپنی روزمرہ زندگی سے جوڑنے میں مدد حاصل کر سکتا ہے۔

قرآن پڑھتے ہوئے بچے کی غلطی پر کیا کرنا چاہیے؟

غلطی کو نرمی سے درست کریں، صحیح تلفظ دوبارہ پڑھائیں اور بچے کو دوبارہ کوشش کا موقع دیں۔ مقصد یہ ہونا چاہیے کہ بچہ غلطی سے سیکھے، قرآن سے خوفزدہ نہ ہو۔

نتیجہ

بچوں کو قرآن سے محبت کیسے پیدا کروائیں؟ اس کا جواب صرف زیادہ سبق، زیادہ حفظ یا زیادہ پابندی نہیں۔ اصل چیز ایک ایسا ماحول بنانا ہے جہاں بچہ قرآن کو محبت، سکون اور ہدایت کے ساتھ محسوس کرے۔

آج سے ایک چھوٹا قدم اٹھائیں۔ روزانہ صرف 10 سے 15 منٹ اپنے بچے کے ساتھ بیٹھیں، قرآن پڑھیں، ایک آیت کا مفہوم سمجھیں اور آخر میں محبت سے دعا کریں۔ ممکن ہے یہ چند منٹ آپ کے بچے کی پوری زندگی میں قرآن کے ساتھ تعلق کی بنیاد بن جائیں۔

اللہ تعالیٰ ہماری اولاد کے دلوں کو قرآن کی محبت سے منور فرمائے، انہیں قرآن سمجھ کر پڑھنے، اس پر عمل کرنے اور اسے دوسروں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں