271

وہ نظمیں جو ہربچے کو ضرور سنننی چاہیے

تحریر شئیر کریں

وہ نظمیں جو ہربچے کو ضرور سنننی چاہیے ‘بیبی شارک’ کے دور میں کردار سازی

وہ نظمیں جو ہربچے کو ضرور سنننی چاہیے

آج کے جدید دور میں جب ہم اپنے بچوں کے ہاتھ میں اسمارٹ فون دیتے ہیں، تو اکثر “Baby Shark” یا “Cocomelon” جیسی نظمیں اسکرین پر چل رہی ہوتی ہیں۔ ان میں دھن اور رنگ تو ہیں، مگر کیا ان میں وہ روح ہے جو ہمارے بچے کو ایک بہترین انسان بنا سکے؟ کیا یہ نظمیں انہیں وہ مقصدِ زندگی دے رہی ہیں جس کی انہیں دنیا اور آخرت دونوں میں ضرورت ہے؟
بچپن میں سنے گئے الفاظ پتھر پر لکیر کی طرح ہوتے ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری نسل نہ صرف دنیا میں کامیاب ہو بلکہ اللہ کے حضور بھی سرخرو ہو، تو ہمیں ان کی تربیت میں علامہ اقبال اور دیگر مصلحین کی نظموں کو شامل کرنا ہوگا۔

بچپن کے الفاظ کا ‘ہپنوٹک’ اثر

نفسیات کہتی ہے کہ بچہ جو کچھ بچپن میں سنتا ہے، وہ اس کے لاشعور (Subconscious Mind) کا حصہ بن جاتا ہے۔ جب ایک بچہ پڑھتا ہے:
> “میں اک اچھا بچہ ہوں، لکھتا ہوں اور پڑھتا ہوں”
> “کلمہ نبی کا پڑھتا ہوں، میں اک اچھا بچہ ہوں”
>
تو یہ صرف ایک نظم نہیں بلکہ ایک گہرا پیغام ہے۔ یہ بچے کے اندر یہ یقین پیدا کرتا ہے کہ اس کی بنیادی پہچان “اچھا ہونا” اور “نبی ﷺ کا کلمہ” پڑھنا ہے۔ یہ الفاظ بچے کو ذہنی طور پر ایک ایسے سانچے میں ڈھال دیتے ہیں جو اسے برائی سے بچا کر نیکی کی طرف راغب کرتا ہے۔
علامہ اقبال کی نظمیں: بچوں کے لیے ایک درسگاہ
علامہ اقبال نے بچوں کے لیے جو شاعری کی، وہ انہیں “مردِ مومن” بنانے کی پہلی سیڑھی ہے۔ ان کی نظموں میں دنیا اور آخرت دونوں کی کامیابی کا پیغام ہے۔

۱. لب پہ آتی ہے دعا (بچے کی دعا)

یہ نظم ہر بچے کو زبانی یاد ہونی چاہیے۔ اس میں بچہ اللہ سے مانگ رہا ہے کہ میری زندگی کا مقصد خدمتِ خلق اور علم کی روشنی پھیلانا ہو۔
* اصل مقصد: علم سے محبت اور دنیا سے اندھیرا ختم کرنے کا جذبہ۔

۲. ہمدردی (جگنو اور بلبل)

اس نظم میں ایک چھوٹے سے جگنو کے ذریعے یہ سبق دیا گیا ہے کہ بہترین انسان وہ ہے جو دوسروں کے کام آئے۔
> “ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے / آتے ہیں جو کام دوسروں کے”
>

۳. ایک گائے اور بکری

یہ نظم بچوں کو گفتگو کے آداب اور اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا سکھاتی ہے۔ یہ سکھاتی ہے کہ شکوہ کرنے کے بجائے شکر گزاری زندگی کو آسان بناتی ہے۔

‘بیبی شارک’ بمقابلہ مقصدِ زندگی

آج کل کی مغربی نظمیں بچوں کو صرف وقتی تفریح دیتی ہیں۔ ان کا نقصان یہ ہے کہ:
* بے معنی شور: ان میں کوئی اخلاقی سبق (Moral lesson) نہیں ہوتا۔
* ذہنی انتشار: تیز میوزک بچے کی توجہ (Focus) کو منتشر کر دیتا ہے۔
* آخرت کی کامیابی سے دوری: یہ نظمیں بچوں کو صرف دنیا کی رنگینیوں تک محدود رکھتی ہیں، جبکہ ہماری روایتی نظمیں انہیں آخرت کی کامیابی کے لیے تیار کرتی ہیں۔
اس کے مقابلے میں “نندیا پور” یا “مکڑا اور مکڑی” جیسی نظمیں بچے کو محنت، توکل اور ایمانداری کا سبق دیتی ہیں۔

آخرت کی کامیابی: تربیت کا اصل ہدف

ایک ماں باپ کے لیے سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ ان کی اولاد ان کے لیے صدقہ جاریہ بنے۔ جب بچہ پڑھتا ہے کہ وہ “کلمہ نبی کا پڑھتا ہے،” تو اس کے دل میں رسول اللہ ﷺ کی محبت اور عظمت بیٹھ جاتی ہے۔ یہ وہ بنیاد ہے جو اسے جوانی میں گناہوں سے بچائے گی اور آخرت میں کامیابی کا ذریعہ بنے گی۔

خلاصہ کلام

بچوں کو صرف دنیا دار بنانا ہمارا مقصد نہیں ہونا چاہیے۔ کامیابی وہی ہے جو اس دنیا میں بھی ہو اور مرنے کے بعد بھی ساتھ رہے۔ علامہ اقبال کی شاعری اور ہماری پرانی مقصد بھری نظمیں وہ ہتھیار ہیں جو بچوں کے کردار کی تعمیر کرتی ہیں۔
آج ہی اپنے بچے کی پلے لسٹ بدلیں۔ اسے بے معنی شور سے نکال کر “لب پہ آتی ہے دعا” کی پُرنور وادیوں میں لے کر جائیں۔
اگلا قدم: کیا آپ چاہیں گے کہ میں علامہ اقبال کی کسی مخصوص نظم (جیسے ‘ماں کا خواب’) کی تشریح لکھوں جو آپ اپنے بچے کو سنا سکیں؟

وہ نظمیں جو ہربچے کو ضرور سنننی چاہیے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں