وہی غلطی کیوں؟ 17

وہی غلطی کیوں؟

تحریر شئیر کریں

وہی غلطی کیوں؟

ہم جانتے ہیں کہ کوئی کام ہمارے لیے اچھا نہیں، اس کے نقصان کو سمجھتے بھی ہیں، کئی بار خود سے وعدہ بھی کر چکے ہوتے ہیں کہ اب ایسا نہیں کریں گے، پھر بھی کچھ عرصے بعد خود کو وہی کام دوبارہ کرتے ہوئے پاتے ہیں۔

کبھی سوچا ہے کہ ہم جانتے ہوئے بھی بری عادت کیوں دہراتے ہیں؟

ہم کہتے ہیں:

“مجھے معلوم تھا کہ مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔”

“میں نے فیصلہ کیا تھا کہ دوبارہ نہیں کروں گا۔”

“پھر بھی مجھ سے وہی غلطی کیوں ہوئی؟”

اگر آپ کے ذہن میں بھی یہ سوال آتا ہے تو شاید مسئلہ صرف ارادے کی کمزوری نہیں۔

بعض اوقات بری عادت، خودکار رویہ، جذبات، فوری تسکین، ماحول اور پرانے ذہنی patterns مل کر ہمیں اسی راستے پر واپس لے آتے ہیں۔

اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ہمیں اس پورے عمل کا احساس بھی نہیں ہوتا۔

عادت کیسے بنتی ہے؟

ہماری بہت سی عادتیں ایک دن میں نہیں بنتیں۔

ایک عمل بار بار کسی خاص صورتِ حال میں ہوتا ہے۔ پھر دماغ اس صورتِ حال اور اس عمل کے درمیان تعلق سیکھ لیتا ہے۔

مثلاً:

کام کا دباؤ → موبائل اٹھانا → کچھ دیر سکون → دوبارہ کام سے فرار

یا:

تنہائی → کسی مخصوص شخص کو یاد کرنا → اس کی پروفائل دیکھنا → وقتی جذباتی تسکین

یا:

بے چینی → غیر ضروری کھانا → چند لمحوں کے لیے اطمینان

وقت کے ساتھ یہ سلسلہ اتنا automatic ہو سکتا ہے کہ انسان کو شعوری طور پر فیصلہ کرنے سے پہلے ہی پرانا response یاد آ جاتا ہے۔

چارلس ڈوہگ نے اپنی معروف کتاب The Power of Habit میں عادت کے چکر کو Cue، Routine اور Reward کے ذریعے سمجھایا ہے، یعنی محرک، معمول اور انعام۔

جیمز کلیئر نے Atomic Habits میں عادت کو چار مراحل—Cue، Craving، Response اور Reward—کے ذریعے بیان کیا ہے۔

یہ دونوں models ایک اہم بات سمجھنے میں مدد دیتے ہیں:

ہم صرف عمل نہیں دہراتے، ہم اس عمل سے ملنے والے نتیجے کو بھی سیکھتے ہیں۔

بری عادت ہمیں کیا دیتی ہے؟

یہ سوال شاید عجیب لگے:

بری عادت ہمیں فائدہ کیا دیتی ہے؟

لیکن عادت سمجھنے کے لیے یہ بہت اہم سوال ہے۔

اگر کوئی رویہ ہمیں بار بار فوری طور پر کچھ دے رہا ہے تو دماغ کے لیے اس عمل کو دوبارہ دہرانا سمجھ میں آنے لگتا ہے، چاہے اس کا طویل مدتی نتیجہ ہمارے لیے نقصان دہ ہو۔

یہ فوری فائدہ ہو سکتا ہے:

ذہنی سکون
-بوریت سے نجات
-وقتی خوشی
-تناؤ میں کمی
مشکل کام سے فرار
-توجہ حاصل کرنا
-غصہ نکالنے کا موقع
– کسی تکلیف دہ احساس سے چند لمحوں کی دوری

یعنی کبھی کبھی ہمیں بری عادت پسند نہیں ہوتی، ہمیں اس سے ملنے والی فوری کیفیت پسند ہوتی ہے۔

یہ فرق سمجھ آ جائے تو اپنے رویے کو بدلنے کا راستہ بھی زیادہ واضح ہو جاتا ہے۔

ہم جانتے ہوئے بھی وہی کام کیوں کرتے ہیں؟

یہاں فوری تسکین بہت اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

فرض کریں آپ کے سامنے دو راستے ہیں۔

ایک راستہ ابھی تھوڑی سی خوشی یا سکون دیتا ہے، مگر بعد میں نقصان پہنچاتا ہے۔

دوسرا راستہ ابھی مشکل ہے، مگر مستقبل میں فائدہ دیتا ہے۔

انسان ہمیشہ مستقبل کے فائدے کے مطابق فیصلہ نہیں کرتا۔

اسی لیے ہم جانتے ہوئے بھی:

– کام مؤخر کرتے ہیں
– موبائل ضرورت سے زیادہ استعمال کرتے ہیں
– غیر ضروری چیزیں خریدتے ہیں
– غصے میں وہی بات کہہ دیتے ہیں جس پر بعد میں افسوس ہوتا ہے
– نیند کا وقت خراب کرتے ہیں
– ایسی چیز دوبارہ دیکھتے یا پڑھتے ہیں جو ہمیں emotionally disturb کرتی ہے

مسئلہ یہ نہیں کہ ہمیں نتیجہ معلوم نہیں۔

مسئلہ یہ ہے کہ اس لمحے فوری reward زیادہ طاقتور محسوس ہو رہا ہوتا ہے۔

کیا ہر بار یہ کمزور ارادے کی علامت ہے؟

ضروری نہیں۔

یہ جملہ بہت عام ہے:

“بس اپنا ارادہ مضبوط کرو۔”

لیکن عادت بدلنے کے لیے صرف willpower پر انحصار ہمیشہ بہترین حکمتِ عملی نہیں۔

وینڈی وُڈ، جو habits اور human behavior پر تحقیق کرتی رہی ہیں، اپنی کتاب Good Habits, Bad Habits میں اس بات پر زور دیتی ہیں کہ بہت سے عادات context اور repeated behavior سے خودکار ہو جاتی ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ ہر روز ایک ہی ماحول میں، ایک ہی وقت پر، ایک ہی محرک کے بعد ایک ہی کام کرتے ہیں تو صرف یہ فیصلہ کرنا کہ:

“آئندہ میں ایسا نہیں کروں گا”

شاید کافی نہ ہو۔

آپ کو پورا pattern دیکھنا ہوگا۔

اصل محرک کہاں چھپا ہوتا ہے؟

اپنی بری عادت کا صرف آخری حصہ مت دیکھیں۔

مثلاً:

“میں نے پھر دو گھنٹے موبائل استعمال کیا۔”

یہ صرف آخری واقعہ ہے۔

اس سے پہلے کیا ہوا؟

شاید آپ تھکے ہوئے تھے۔

شاید کام مشکل تھا۔

شاید آپ بور ہو رہے تھے۔

شاید آپ کسی بات سے پریشان تھے۔

شاید آپ کسی جذباتی گفتگو کے بعد خود کو distract کرنا چاہتے تھے۔

اسی لیے خود سے یہ سوال پوچھیں:

“میں نے موبائل اٹھانے سے پہلے کیا محسوس کیا تھا؟”

یہ سوال اکثر بری عادت کی اصل وجہ تک پہنچنے میں مدد دیتا ہے۔

جذبات بھی عادت کا محرک بن سکتے ہیں

ہم عادتوں کو اکثر صرف بیرونی چیزوں سے جوڑتے ہیں۔

مگر کبھی محرک ہمارے اندر ہوتا ہے۔

مثلاً:

تنہائی → scrolling

بے چینی → بار بار چیک کرنا

غصہ → سخت جواب دینا

بوریت → غیر ضروری کھانا

ناکامی کا خوف → کام مؤخر کرنا

یہاں ایک دلچسپ چیز سامنے آتی ہے:

ایک ہی جذباتی کیفیت مختلف لوگوں میں مختلف عادت پیدا کر سکتی ہے۔

کسی کو غصے میں خاموش رہنے کی عادت ہو سکتی ہے، کسی کو بحث کرنے کی، اور کسی کو دوسروں سے مکمل رابطہ ختم کرنے کی۔

اس لیے اگر آپ اپنی عادت بدلنا چاہتے ہیں تو پہلے یہ جاننے کی کوشش کریں کہ وہ عادت آپ کو کس کیفیت سے نکالنے کی کوشش کر رہی ہے۔

ماحول عادت کو کیسے مضبوط کرتا ہے؟

ہم اکثر اپنی شخصیت کو ذمہ دار ٹھہراتے رہتے ہیں:

“میں بہت lazy ہوں۔”

“میرا self-control بہت کم ہے۔”

“میں کبھی نہیں بدل سکتا۔”

لیکن ایک اور سوال بھی پوچھیں:

“میرا ماحول میرے رویے کو کتنا آسان بنا رہا ہے؟”

اگر موبائل ہر وقت ہاتھ میں ہے تو اسے بار بار دیکھنے کے لیے زیادہ effort نہیں چاہیے۔

اگر junk food سامنے رکھا ہے تو اسے کھانا آسان ہے۔

اگر ضروری کام کی جگہ پر ہر طرح کی distraction موجود ہے تو کام سے بھاگنا آسان ہے۔

اسی لیے عادت بدلنے کا ایک مؤثر اصول یہ ہے:

اچھی عادت کو آسان اور بری عادت کو مشکل بنائیں۔

جیمز کلیئر بھی ماحول اور habit design کو عادت بدلنے کے اہم حصوں میں شمار کرتے ہیں۔

ہر بری عادت Self-Sabotage نہیں

یہاں ایک اور غلط فہمی دور کرنا ضروری ہے۔

Self-Sabotage یعنی خود اپنے راستے میں رکاوٹ بننا ایک مفید اصطلاح ہے، لیکن ہر بار دہرائی جانے والی بری عادت کو self-sabotage کہنا درست نہیں۔

اگر کوئی شخص کامیابی چاہتا ہے مگر مسلسل ایسے رویے اختیار کرتا ہے جو اس کے مقصد کے خلاف جاتے ہیں تو self-sabotaging pattern کی بات کی جا سکتی ہے۔

لیکن کبھی مسئلہ اس سے کہیں سادہ ہوتا ہے:

محرک + پرانی عادت + فوری reward

اس لیے خود کو فوراً یہ label نہ دیں:

“میں خود ہی اپنی زندگی خراب کرتا ہوں۔”

پہلے pattern سمجھیں۔

لاشعور یا خودکار رویہ؟

ہم روزمرہ زبان میں کہتے ہیں:

“یہ میرے لاشعور میں بیٹھ گیا ہے۔”

یہ اظہار سمجھنے میں آسان ہے، لیکن ہر خودکار رویے کو صرف “لاشعور” سے explain کرنا سائنسی طور پر کافی نہیں۔

عادتوں کی تحقیق میں automaticity، context، reward اور learned associations جیسے تصورات زیادہ مفید ہیں۔

یعنی بعض اوقات آپ کا دماغ کسی خاص ماحول یا کیفیت کے ساتھ ایک response اتنی بار associate کر چکا ہوتا ہے کہ وہ response تقریباً خودکار محسوس ہونے لگتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ آپ کبھی کہتے ہیں:

“مجھے پتا ہی نہیں چلا میں نے دوبارہ یہ کب شروع کر دیا۔”

اور Meta Programs؟

یہاں NLP کا تصور Meta Programs بھی سامنے آتا ہے۔

NLP میں Meta Programs کو ایسے ذہنی filters یا patterns کے طور پر بیان کیا جاتا ہے جو انسان کے معلومات دیکھنے اور فیصلے کرنے کے انداز کو متاثر کرتے ہیں۔

یہ تصور self-reflection کے لیے دلچسپ ہو سکتا ہے، لیکن اسے انسانی دماغ کا ثابت شدہ سائنسی “program” سمجھنا درست نہیں۔

NLP کے بارے میں دستیاب systematic reviews نے اس کے بہت سے دعووں کے لیے مضبوط سائنسی شواہد کی کمی کی نشاندہی کی ہے۔

اس لیے اگر آپ Meta Programs کے ذریعے اپنے رویوں کو سمجھنے کی کوشش کریں تو اسے ایک reflective framework سمجھنا زیادہ محتاط ہے، حتمی سائنسی تشخیص نہیں۔

عادت توڑنے سے پہلے یہ تجربہ کریں

اگر آپ واقعی جاننا چاہتے ہیں کہ بری عادت کیسے چھوڑی جائے تو سات دن کا ایک چھوٹا سا تجربہ کریں۔

اپنی صرف ایک عادت منتخب کریں۔

اسے فوراً ختم کرنے کی کوشش نہ کریں۔

پہلے اسے observe کریں۔

ہر بار جب عادت دہرائی جائے، یہ چھ چیزیں لکھیں:

محرک: اس سے پہلے کیا ہوا؟

جذبات: میں کیا محسوس کر رہا تھا؟

خیال: میرے ذہن میں کیا چل رہا تھا؟

عمل: میں نے کیا کیا؟

فوری فائدہ: مجھے اسی وقت کیا ملا؟

بعد کا نتیجہ: کچھ دیر بعد مجھے کیسا محسوس ہوا؟

مثلاً:

کام مشکل لگا → بے چینی ہوئی → موبائل اٹھایا → scrolling کی → وقتی سکون ملا → کام مزید مؤخر ہو گیا۔

اب مسئلہ پہلے سے زیادہ واضح ہے۔

صرف موبائل کو دشمن سمجھنے کے بجائے آپ کام سے پیدا ہونے والی بے چینی پر بھی کام کر سکتے ہیں۔

بری عادت چھوڑنے کا بہتر طریقہ

اپنے آپ سے یہ نہ کہیں:

“میں یہ کام کبھی نہیں کروں گا۔”

بلکہ کہیں:

“جب یہ محرک آئے گا تو میں اس کے جواب میں کیا کروں گا؟”

مثلاً:

جب مجھے کام شروع کرنے میں مشکل محسوس ہوگی، میں صرف پانچ منٹ کام شروع کروں گا۔

جب موبائل اٹھانے کا دل کرے گا، پہلے دس منٹ کا timer لگاؤں گا۔

جب غصہ آئے گا، فوری جواب دینے کے بجائے کچھ دیر خاموش رہوں گا۔

یہاں آپ صرف بری عادت روک نہیں رہے۔

آپ نیا response سیکھ رہے ہیں۔

بری عادت کی جگہ کیا رکھیں؟

ایک اہم سوال یہ بھی ہے:

“اگر میں یہ عادت چھوڑ دوں تو اس کے بدلے کیا کروں گا؟”

اگر پرانی عادت آپ کو سکون دیتی تھی اور آپ نے صرف اسے روک دیا، تو ذہن دوبارہ پرانے راستے کی طرف جا سکتا ہے۔

اس لیے alternative تیار کریں۔

اگر آپ:

تناؤ → موبائل

کی طرف جاتے ہیں تو متبادل ہو سکتا ہے:

تناؤ → پانچ منٹ چہل قدمی

یا:

تناؤ → مختصر دعا + گہری سانسیں

یا:

تناؤ → کام کا صرف ایک چھوٹا حصہ مکمل کرنا

اصل مقصد یہ ہے کہ آپ اپنے ذہن کو نیا راستہ دیں۔

ایک غلطی دوبارہ ہونا ناکامی نہیں

عادت بدلتے ہوئے سب سے خطرناک سوچ یہ ہے:

“میں پھر وہی کر بیٹھا، اس کا مطلب ہے میں کبھی نہیں بدل سکتا۔”

نہیں۔

ایک relapse یا پرانا response واپس آ جانا اس بات کا ثبوت نہیں کہ تبدیلی ناممکن ہے۔

اسے information سمجھیں۔

پوچھیں:

“اس بار محرک کیا تھا؟”

“میں کہاں کمزور پڑا؟”

“اگلی مرتبہ میں ماحول یا response میں کیا بدل سکتا ہوں؟”

یہ approach خود کو سزا دینے کے بجائے خود کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔

اپنی عادت کا نقشہ بنائیں

آج ہی ایک کاغذ پر اپنی کسی ایک عادت کا یہ نقشہ بنائیں:

محرک → احساس → خیال → عمل → فوری فائدہ → بعد کا نقصان

پھر ایک اور لائن لکھیں:

نیا راستہ: محرک → نیا response → نیا فائدہ

مثلاً:

کام کا دباؤ → بے چینی → موبائل → وقتی سکون → کام مؤخر

کے بجائے:

کام کا دباؤ → بے چینی → صرف پانچ منٹ کام → چھوٹی کامیابی → اعتماد

یہ چھوٹا سا فرق عادت بدلنے کی سمت تبدیل کر سکتا ہے۔

خود کو سمجھنا، خود کو معاف کرنا نہیں

اپنے رویے کی وجہ سمجھنا اس کا جواز بنانا نہیں۔

اگر کوئی عادت نقصان دہ ہے تو اسے بدلنے کی ذمہ داری پھر بھی ہماری ہے۔

لیکن خود کو برا بھلا کہنا ہمیشہ تبدیلی کا مؤثر ذریعہ نہیں بنتا۔

خود آگاہی کا مقصد خود کو بری الذمہ کرنا نہیں، خود کو بہتر طور پر سمجھنا ہے۔

جب آپ کو معلوم ہو جائے کہ آپ کب، کیوں اور کس کیفیت میں وہی رویہ دہراتے ہیں تو آپ کے پاس تبدیلی کے لیے زیادہ واضح جگہ موجود ہوتی ہے۔

قرآن کا ایک بنیادی اصول

اسلام ہمیں خود احتسابی اور اپنی حالت پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

«إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ»

“بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت کو نہ بدلیں۔”

(سورۃ الرعد: 11)

یہ آیت عادتوں کی نفسیات کی سائنسی تشریح نہیں، لیکن انسان کی اندرونی اصلاح اور تبدیلی کی ذمہ داری کے لیے ایک بنیادی رہنمائی ضرور دیتی ہے۔

اسلامی خود احتسابی کا مقصد صرف یہ دیکھنا نہیں کہ میں نے کیا کیا؟

بلکہ یہ بھی ہے:

میں نے ایسا کیوں کیا؟

مجھے اپنی اصلاح کے لیے کیا بدلنا ہے؟

یہی سوال انسان کو محض پچھتاوے سے نکال کر عملی تبدیلی کی طرف لے جا سکتا ہے۔

آخر میں ایک سوال

اگلی بار جب آپ کوئی ایسی حرکت دوبارہ کریں جس کے بارے میں آپ پہلے ہی جانتے ہیں کہ یہ آپ کے لیے اچھی نہیں، تو فوراً خود کو برا بھلا نہ کہیں۔

صرف چند لمحوں کے لیے رکیں اور پوچھیں:

“اس عمل سے پہلے میرے اندر کیا ہو رہا تھا؟”

شاید آپ کو معلوم ہو کہ آپ سست نہیں تھے۔

شاید آپ پریشان تھے۔

شاید آپ بور تھے۔

شاید آپ کسی مشکل احساس سے بچ رہے تھے۔

شاید آپ کا ماحول اس عادت کو بہت آسان بنا رہا تھا۔

یا شاید آپ کا ذہن ایک پرانا response بار بار دہرا رہا تھا کیونکہ اسے فوری reward مل رہا تھا۔

عادت کو سمجھنا تبدیلی کی ضمانت نہیں، لیکن یہ تبدیلی کا ایک بہت اہم آغاز ہو سکتا ہے۔

کیونکہ جس pattern کو ہم دیکھ لیتے ہیں، اس کے ساتھ کام کرنا پہلے کی نسبت آسان ہو جاتا ہے۔

اور شاید اسی لیے بعض اوقات خود کو بدلنے سے پہلے ہمیں خود کو پڑھنا سیکھنا پڑتا ہے۔

مزید مطالعہ

The Power of Habit — Charles Duhigg
عادت کے محرک، routine اور reward کے بنیادی تصور کو سمجھنے کے لیے۔

Atomic Habits — James Clear
چھوٹی عادتوں، ماحول اور رویے میں عملی تبدیلی کے لیے۔

Good Habits, Bad Habits — Wendy Wood
عادت کے خودکار اور environmental پہلو کو سمجھنے کے لیے۔

مختصر خلاصہ

ہم وہی غلطی بار بار کیوں کرتے ہیں؟

کیونکہ انسانی رویہ صرف شعوری فیصلوں سے نہیں بنتا۔ عادت، محرک، جذبات، ماحول، فوری reward اور پہلے سے سیکھے ہوئے responses مل کر ہمارے رویے کو متاثر کر سکتے ہیں۔

اس لیے اگلی بار خود سے صرف یہ نہ پوچھیں:

“میں نے یہ دوبارہ کیوں کیا؟”

یہ بھی پوچھیں:

“اس سے پہلے کیا ہوا تھا؟”

شاید یہی سوال آپ کو اپنی کسی پرانی عادت کے اس حصے تک پہنچا دے جسے آپ نے آج تک دیکھا ہی نہیں تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں