32

ہر وقت پریشانی کیوں رہتی ہے؟ قرآن کی روشنی میں 7 عملی حل

تحریر شئیر کریں

کبھی آپ نے محسوس کیا ہے کہ بظاہر سب کچھ ٹھیک ہونے کے باوجود دل بے چین ہے؟ ذہن میں مسلسل سوچیں چل رہی ہیں، مستقبل کی فکر ختم نہیں ہوتی، چھوٹی سی بات بھی پریشان کر دیتی ہے اور رات کو بستر پر لیٹتے ہی دماغ میں سوالات کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔

ہر وقت پریشانی کیوں رہتی ہے؟

مشہور self-help کتاب The Happiness Advantage کے مصنف Shawn Achor خوشی اور ذہنی رویوں پر گفتگو کرتے ہوئے ایک سادہ مشق بیان کرتے ہیں: روزانہ تین ایسی نئی چیزیں لکھیں جن کے لیے آپ شکر گزار ہیں۔ ان کے مطابق یہ مشق انسان کی توجہ کو مسلسل منفی چیزیں تلاش کرنے کے بجائے مثبت پہلوؤں کو دیکھنے کی طرف تربیت دے سکتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ Gratitude Journaling آج self-help اور positive psychology میں ایک معروف مشق بن چکی ہے۔ مختلف مطالعات میں “Three Good Things” جیسی gratitude exercises کے wellbeing پر مثبت اثرات دیکھے گئے ہیں، اگرچہ اس کے اثرات ہر شخص میں ایک جیسے نہیں ہوتے۔

لیکن ایک مسلمان کے لیے شکرگزاری صرف ایک psychological exercise نہیں؛ شکر قرآن کی ایک اہم تعلیم بھی ہے۔

لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ

اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں ضرور زیادہ دوں گا۔

(سورۃ ابراہیم: 7)

تو پھر سوال یہ ہے کہ پریشانی سے نمٹنے کے لیے ہم کیا کر سکتے ہیں؟

سب سے پہلے یہ فرق سمجھیں: پریشانی اور ڈپریشن ایک چیز نہیں

اس موضوع پر بات کرتے ہوئے ایک بہت اہم بات واضح کرنا ضروری ہے۔

زندگی میں فکر، غم، پریشانی اور stress آنا فطری ہے۔ مالی مسائل، گھریلو مشکلات، رشتوں کے مسائل، بیماری، کسی عزیز کی جدائی یا مستقبل کا خوف انسان کو متاثر کر سکتا ہے۔

لیکن ڈپریشن صرف عام اداسی کا نام نہیں۔

WHO کے مطابق depression ایک ذہنی صحت کی بیماری ہے جس میں طویل عرصے تک اداسی، دلچسپی یا خوشی میں کمی اور دیگر علامات پیدا ہو سکتی ہیں، مثلاً توانائی، نیند، بھوک، توجہ اور روزمرہ کاموں پر اثر پڑنا۔

اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ جو شخص ڈپریشن میں ہے وہ صرف اس لیے بیمار ہے کہ وہ نماز یا قرآن سے دور ہے۔

نماز اپنی جگہ ایک عظیم عبادت اور روحانی سکون کا ذریعہ ہے، جبکہ ڈپریشن ایک medical/mental-health condition ہو سکتی ہے جس کے لیے professional treatment کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

اگر آپ نماز پڑھتے ہیں، قرآن پڑھتے ہیں، ذکر و دعا کرتے ہیں اور پھر بھی مسلسل شدید ذہنی تکلیف محسوس کرتے ہیں تو اپنے آپ کو قصوروار نہ ٹھہرائیں۔ کسی Psychologist سے counselling یا qualified mental-health professional سے مشورہ کریں۔ ضرورت ہو تو ڈاکٹر سے بھی علاج کروائیں۔

نبی کریم ﷺ نے علاج اختیار کرنے کی ترغیب دی:

“اے اللہ کے بندو! علاج کرو، کیونکہ اللہ نے کوئی بیماری ایسی نہیں اتاری جس کی دوا نہ رکھی ہو۔”

(سنن ابی داؤد، حدیث 3855)

یعنی دعا بھی اور علاج بھی۔

1۔ اللہ کے ذکر سے دل کو جوڑیں

پریشانی کے وقت ہمارا ذہن بار بار مسئلے کی طرف جاتا ہے۔ قرآن ہمیں اس کیفیت میں اللہ کی طرف متوجہ کرتا ہے۔

أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ

خبردار! اللہ کے ذکر ہی سے دل اطمینان پاتے ہیں۔

(سورۃ الرعد: 28)

ذکر کو صرف مشکل وقت کا وظیفہ نہ بنائیں۔ صبح و شام کے اذکار، استغفار، درود شریف اور قرآن کی تلاوت کو روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں۔

جب دل گھبرائے تو چند لمحے رکیں، اللہ کو یاد کریں اور اپنے دل کو یاد دلائیں کہ میں اکیلا نہیں ہوں؛ میرا رب میرے حال سے باخبر ہے۔

2۔ نماز کو صرف فرض نہیں، سہارا سمجھیں

پریشانی کے وقت نماز کو بوجھ سمجھنے کے بجائے اللہ کے سامنے کھڑے ہونے کا موقع سمجھیں۔

وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ

اور صبر اور نماز کے ذریعے مدد حاصل کرو۔

(سورۃ البقرۃ: 45)

نماز انسان کو اللہ کے ساتھ تعلق کی یاد دلاتی ہے۔ سجدے میں اپنے رب کے سامنے اپنی پریشانی رکھیں، اس سے مدد مانگیں اور اپنی زبان میں دعا کریں۔

لیکن یہاں پھر وہی اہم بات یاد رکھیں: نماز روحانی سکون دیتی ہے، مگر کسی ذہنی بیماری کی صورت میں نماز کو علاج کا متبادل سمجھنا درست نہیں۔

3۔ قرآن کو ترجمے کے ساتھ پڑھیں

قرآن صرف تلاوت کی کتاب نہیں بلکہ ہدایت کی کتاب ہے۔

فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا ۝ إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا

پس بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے، بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔

(سورۃ الشرح: 5-6)

کبھی انسان کو صرف ایک ایسا پیغام چاہیے ہوتا ہے جو اسے یاد دلائے کہ موجودہ مشکل پوری زندگی نہیں ہے۔

روزانہ چند آیات ترجمے کے ساتھ پڑھیں اور خود سے پوچھیں:

“آج قرآن میری زندگی کے بارے میں مجھے کیا سکھا رہا ہے؟”

4۔ Gratitude Journaling شروع کریں

اگر آپ ہر وقت اپنی زندگی کی کمیوں، مسائل اور خوف کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں تو ایک چھوٹی سی عادت شروع کریں:

Gratitude Journal

ایک خوبصورت نوٹ بک رکھیں اور روزانہ اپنی نعمتوں کو لکھیں۔

صرف یہ نہ لکھیں:

“میں اپنے گھر کے لیے شکر گزار ہوں۔”

بلکہ لکھیں:

“میں آج اپنے گھر کے سکون کے لیے اللہ کا شکر ادا کرتی ہوں کیونکہ دن بھر کی مصروفیت کے بعد مجھے آرام کی جگہ ملی۔”

یا:

“میں آج اپنی بیٹی کی مسکراہٹ کے لیے اللہ کا شکر ادا کرتی ہوں۔”

یا:

“میں آج صحت کی اس نعمت کے لیے اللہ کا شکر ادا کرتی ہوں جسے میں اکثر معمولی سمجھ لیتی ہوں۔”

Shawn Achor کی The Happiness Advantage میں “Three Gratitudes” کی مشق کے تحت روزانہ تین نئی چیزیں لکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔ ان کے مطابق نئی اور مخصوص چیزوں پر توجہ دینا انسان کو مثبت پہلوؤں کو زیادہ محسوس کرنے کی تربیت دے سکتا ہے۔

آپ اسے دن میں دو یا تین مرتبہ بھی مختصر طور پر کر سکتے ہیں۔ مثلاً صبح، عصر کے بعد یا رات کو۔

لیکن اسے کوئی جادوئی نسخہ نہ سمجھیں۔ Gratitude journaling ایک مفید habit ہو سکتی ہے، مگر اگر کسی شخص کو clinical depression یا کوئی دوسری ذہنی بیماری ہے تو یہ professional treatment کا متبادل نہیں۔

5۔ اللہ پر توکل کرنا سیکھیں

پریشانی اکثر اس وقت بڑھتی ہے جب ہم ان چیزوں کو بھی control کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو ہمارے اختیار میں نہیں۔

وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ

اور جو اللہ پر بھروسا کرے تو وہ اس کے لیے کافی ہے۔

(سورۃ الطلاق: 3)

توکل کا مطلب ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جانا نہیں۔

توکل کا مطلب ہے:

اپنی ذمہ داری پوری کرو، جائز کوشش کرو، مشورہ لو، علاج کرواؤ، منصوبہ بناؤ، پھر نتیجہ اللہ کے سپرد کر دو۔

اپنے آپ سے پوچھیں:

“اس مسئلے میں میرے اختیار میں کیا ہے؟”

جو اختیار میں ہے، اس پر عمل کریں۔

جو اختیار میں نہیں، اسے اللہ کے سپرد کریں۔

6۔ اپنے خیالات کو حقیقت نہ سمجھیں

ہر خیال حقیقت نہیں ہوتا۔

کبھی ذہن کہتا ہے:

“اب سب خراب ہونے والا ہے۔”

“میرے ساتھ ہمیشہ برا ہوتا ہے۔”

“میں کبھی خوش نہیں ہو سکتی۔”

“میرا مسئلہ کبھی حل نہیں ہوگا۔”

مشہور کتاب Feeling Good میں psychiatrist David D. Burns منفی سوچ کے patterns کو پہچاننے اور ان کا جائزہ لینے کی اہمیت بیان کرتے ہیں۔ کتاب cognitive therapy کے ذریعے منفی خیالات اور mood کے تعلق پر توجہ دیتی ہے۔

اس لیے جب کوئی بہت پریشان کن خیال آئے تو فوراً اسے حقیقت نہ سمجھیں۔

خود سے پوچھیں:

“کیا میرے پاس اس خیال کو ثابت کرنے کے لیے واقعی ثبوت ہے؟”

اور پھر:

“کیا میں اس صورتحال کو کسی دوسرے، زیادہ متوازن انداز سے دیکھ سکتی ہوں؟”

اگر منفی خیالات مسلسل رہتے ہیں اور زندگی متاثر ہو رہی ہے تو therapist سے بات کرنا زیادہ مناسب ہے۔

7۔ مشکل وقت میں صبر، دعا اور صحیح مدد اختیار کریں

وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ

اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجیے۔

(سورۃ البقرۃ: 155)

صبر کا مطلب یہ نہیں کہ انسان خاموشی سے ہر تکلیف برداشت کرتا رہے اور مدد نہ لے۔

صبر کا مطلب یہ ہے کہ مشکل کے باوجود اللہ سے تعلق قائم رکھا جائے، غلط راستہ اختیار نہ کیا جائے اور جائز اسباب کو نہ چھوڑا جائے۔

اگر آپ کا دل مسلسل بوجھل ہے، روزمرہ کام متاثر ہو رہے ہیں یا آپ کو لگتا ہے کہ آپ خود سے اس کیفیت سے نہیں نکل پا رہے تو Psychologist سے counselling کروائیں۔

یہ ایمان کی کمزوری نہیں۔

جس طرح جسمانی بیماری کے لیے ڈاکٹر سے رجوع کیا جاتا ہے، اسی طرح ذہنی صحت کے مسئلے میں psychologist یا psychiatrist سے مدد لینا بھی علاج کا ایک جائز اور ضروری ذریعہ ہو سکتا ہے۔

روزانہ کا 5 منٹ Gratitude Journal

آج ہی ایک نوٹ بک لیں اور صرف پانچ منٹ نکالیں۔

لکھیں:

آج میں اللہ کا شکر ادا کرتی ہوں کہ۔۔۔

پھر تین چیزیں لکھیں۔

ایک نعمت جو میرے پاس ہے۔

آج ہونے والی ایک اچھی بات۔

ایک شخص یا چیز جس کے لیے میں شکر گزار ہوں۔

پھر ہر نکتے کے ساتھ ایک جملہ مزید لکھیں:

“میں اس کے لیے کیوں شکر گزار ہوں؟”

یہ چھوٹی سی مشق آپ کو اپنی زندگی کی موجود نعمتوں پر توجہ دینے میں مدد دے سکتی ہے۔ Positive psychology میں “Three Good Things” جیسی exercises اسی تصور پر مبنی ہیں کہ انسان روزانہ اچھی چیزوں کو نوٹ کرے اور ان پر غور کرے۔

ایک اہم بات: خود کو الزام نہ دیں

اگر آپ پریشان ہیں تو فوراً یہ فیصلہ نہ کریں:

“شاید میرا ایمان کمزور ہے۔”

ممکن ہے آپ کو کسی مشکل صورتحال سے گزرنا پڑ رہا ہو۔

ممکن ہے آپ شدید stress میں ہوں۔

اور ممکن ہے کہ آپ کو professional mental-health support کی ضرورت ہو۔

اس لیے اپنے ساتھ نرمی کریں۔

نماز نہ چھوڑیں۔

قرآن سے تعلق نہ توڑیں۔

اللہ سے دعا کرتے رہیں۔

شکرگزاری کی عادت اپنائیں۔

اپنی جسمانی اور ذہنی صحت کا خیال رکھیں۔

اور ضرورت پڑنے پر counselling یا medical treatment ضرور لیں۔

آخر میں

پریشانی انسان کی زندگی کا حصہ ہے، لیکن پریشانی میں تنہا رہنا ضروری نہیں۔

قرآن ہمیں اللہ کی طرف رجوع سکھاتا ہے:

إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا

بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔

(سورۃ الشرح: 6)

Self-help ہمیں اپنی سوچ اور عادات پر کام کرنے کے طریقے بتاتی ہے۔ Psychology ہمیں ذہنی صحت کو سمجھنے اور ضرورت پڑنے پر treatment لینے کا راستہ دکھاتی ہے۔ اور قرآن ہمیں اپنے رب سے تعلق، صبر، شکر اور توکل کی تعلیم دیتا ہے۔

اس لیے اپنی زندگی میں تین چیزوں کو ساتھ لے کر چلیں:

اللہ سے تعلق، اپنے ذہن اور عادات کی اصلاح، اور ضرورت پڑنے پر professional help۔

اور آج سے ایک چھوٹی سی عادت ضرور شروع کریں:

دن میں دو یا تین مرتبہ رکیں، ایک نعمت کو محسوس کریں، اسے لکھیں اور دل سے کہیں:

“یا اللہ! اس نعمت کے لیے تیرا شکر ہے۔”

اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں کو اپنے ذکر سے اطمینان عطا فرمائے، ہماری پریشانیاں آسان فرمائے، بیماروں کو شفا دے، ہمیں شکر گزار بنائے اور مشکل وقت میں صحیح راستہ اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں