٢٣ مارچ یوم پاکستان
صاٸمہ سلیم اسلام آباد
برسوں سے چلنے والی تحریک آزادی کو نشاں منزل تب ملا جب 23 مارچ 1940 کو قرارداد پاکستان پیش کی گئی۔ اس قرارداد نے نہ صرف مسلمانوں کی امنگوں کی نمائندگی کی بلکہ ان امنگوں کے حصول کی راہ بھی دکھا دی۔
درحقیقت 23 مارچ 1940ء کو پیش کی جانے والی قرارداد
1930ء میں آلہ آباد کے علامہ محمد اقبال کے خطاب ہی کا تسلسل تھی جس میں انہوں نے واضح طور پر کہا تھا کہ مسلمان اور ہندو دو الگ قومیں ہیں اور ان کا ساتھ رہنا ناممکن ہے۔ یہ دونوں اقوام نہ صرف عادات و اطوار میں الگ ہیں بلکہ ان کی زبان، رسم و رواج، مذہبی تہوار بھی یکساں نہیں۔ اس قرارداد میں برصغیر کی اقلیت مسلمانوں نے ایک جداگانہ وطن کا مطالبہ کیا۔ جسے حقیقت میں بدلنے کے لیے مسلمانوں نے دن رات قربانیاں دے کر سات سال کے قلیل عرصے کے بعد الگ وطن حاصل کر لیا۔
مسلمانان ہند کو ایک الگ وطن کی ضرورت تھی۔ اس لیے کہ وہ بغیر کسی مداخلت اور روک ٹوک کے اسلامی قوانین کے مطابق زندگی گزار سکیں۔
23 مارچ 1940 کی تاریخ پر نظر رکھتے ہوٸے آج کے پاکستان کو دیکھیں تو وہ تمام نظریات جن کو بنیاد بنا کر لاکوں جانوں کی قربانی دے کر پاکستان حاصل کیا گیا تھا وہ آج کہیں کھو سی گئی ہیں۔ آج کے پاکستان پر نظر ڈالیں وہ ہر طرف بدامنی کا راج ہے۔ اقتدار کی ہوس، مہنگاٸی اور بھوک اور افلاس کا ناچ ہے۔ غریب غریب سے غریب تر اور امراء کی دولت میں بےپناہ اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ دہشت گردی سکولوں پر حملے کی صورت میں ہو یا مدارس کے بچے اور حفاظ کے قتل عام کی صورت میں کا دور دورا دکھائی دے رہا ہے۔ دین اسلام سے دوری اور ہندووانہ طور طریقے عام ہیں۔ یہ وہ پاکستان نہیں جس کا خواب علامہ اقبال نے دیکھا تھا۔ جس کی خاطر اسلامیان پاکستان نے 23مارچ کے دن کٹ مرنے کا عزم کیا تھا۔ آج اس دن کی مقصدیت کہیں کھو گٸی اور یہ دن محض کھوکھلے جوش و خروش سے منانے کے لیے رہ گیا۔
حقیقت خرافات میں کھو گٸی
یہ امت روایات میں کھو گٸی
اس 23 مارچ پر ہمیں اس دن کی نسبت کو دیکھتے ہوۓ یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم پاکستان کو اسی بنیاد، اسی نظرےی پر اٹھاٸیں کہ جس پر مسلمان اسلامیان ہندوستان نے یکجا ہو کر وطن عزیز حاصل کیا تھا۔