تبصرہ ڈرامہ ایسی ہے تنہائی
تبصرہ نگار: طاہرہ ملک
ڈرامہ “ایسی ہے تنہائی” کے لکھاری نے جدید دور کی محبت کے مسائل اور ان کا حل ،ٹیکنالوجی کا استعمال ,معاشرےاور حالات سے بے بس ماں ،انسانیت اور انصاف کی اس ڈرامہ میں منفرد عکاسی کی ہے۔ہیروئن اور ہیرو کو ایک دوسرے سے بہت زیادہ محبت ہوتی ہے ۔شادی کی تاریخ بھی طے ہو جاتی ہے ۔شادی کی تیاریاں عروج پر ہوتی ہیں لیکن ہیرو محبت کے ثبوت کیلئے ہیروئن کو نازیبا تصاویر کا کہتا ہے۔ہیروئن جس دن اپنی نازیبا تصاویر موبائل میں بنا کر اسے دیکھانے کے لیے جاتی ہے ۔اسی دن ایک حادثے میں اس کا موبائل چوری ہو جاتا ہے
۔کچھ دن بعد اس کی نازیبا تصویریں سوشل میڈیا پر گردش کرتی ہیں ۔اس کی بہن کے سسرال والے رشتہ ختم کر دیتے ہیں ۔ہیروئن کی اپنی ہونے والی ساس اسے بہو بنانے سے انکار کر دیتی ہے ۔سب کچھ ایک لمحے میں ختم ہو جاتا ہے ۔ماں محلے والوں اور معاشرے کی باتوں سے تنگ آ کر خود اپنی بیٹی کو زہر دے دیتی ہے ۔اور پھر خود ہسپتال چھوڑ آتی ہے ۔گھر آ کر دوسری بیٹی کو بتاتی ہے کہ اس کی بہن اب اس دنیا میں نہیں رہی اور ہسپتال والوں نے اسے قبرستان میں دفن کر دیا ہے۔ہیرو ، ہیروئن کی ماں سے معافی مانگنے جاتا ہے۔اسے بھی بتایا جاتا ہے۔ اس کی محبت اب دنیا میں نہیں رہ۔معافی اسے اس صورت میں ملے گی جب وہ ہیروئن کی بہن سے شادی کرے گا ۔
ہیرو اپنا گھر بار شان و شوکت گاڑی بنگلہ چھوڑ کر سزا کے طور پر ہیروئن کی بہن سے شادی کر لیتا ہے ۔دوسری طرف ہیروئن ہسپتال میں قومہ کی حالت میں ہوتی ہے ۔ڈاکٹر سعد انسانیت کی ناطے اس کی علاج کا سارا خرچہ خود اٹھاتے ہیں۔تقریبا چار ماہ بعد اسے ہوش آتا ہے۔ڈاکٹر سعد اسے اپنے گھر لے جاتے ہیں کیونکہ اب اس کے پاس نہ شفقت کرنے والی ماں نہ لاڈ اٹھانے والی بہن ,نہ محبت کا دعویدار پاس ہوتا ہے۔ہیروئن کی آخری رپورٹ میں ایک خبر بہت ہی تشویشناک تھی ۔وہ حاملہ تھی ۔اسے ان گناہوں کی سزا بھی ملی جو اس نے کیے ہی نہیں تھے۔ تفتیش کے دوران پتہ چلا کہ اس کے ساتھ درندگی ہسپتال کے ایک ورکر نے کی تھی ۔ڈاکٹر سعد اس کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے ۔تمام اخبارات میں بھی ہسپتال میں کیے گئے ظلم کی خبریں چھپ گئیں ۔جو ہیروئن کی والدہ بہن اور ہیرو نے بھی پڑھ لیں۔ڈاکٹر سعد نے ہیروئن کو اپنے ساتھ کیےگئےظلم کے خلاف آواز اٹھانے کے لئے عدالت میں کیس لڑنے کے لیے آمادہ کیا
۔ماں اپنی بیٹی کے صدمے کی وجہ سے فوت ہو گئیں۔عدالت کے آخری فیصلے والے دن ہسپتال والوں نے بدنامی کے ڈر سے ہیروئن کو قتل کرنا چاہاعین اسی وقت گولی ہیرو کو لگ جاتی ہے ۔اور ہیرو فوت ہو جاتا ہے ۔ہیروئن اپنا کیس جیت جاتی ہے .ملزم کو پھانسی کی سزا سنائی جاتی ہے ۔ہیروئن کا عدالت میں ظلم کے خلاف لڑنا اس بات کا پیغام دیتاہے،تمام لڑکیاں اپنے ساتھ کیے گئے ظلم کے لیے آواز بلند کریں ۔اور نصیحت ہے ان لڑکیوں کیلئے جو محبت میں ہر حد توڑ دیتی ہیں اور ہاتھ کچھ بھی نہیں آتا ۔ہیروئن کی ایک چھوٹی سی غلطی کی وجہ سے اس نے اپنا سب کچھ کھو دیا ۔شفقت کرنے والی ماں اور اس کی محبت آج منوں مٹی تلے دفن ہیں ۔بہن بیوہ ہو گئی ۔کوئی اس دنیا میں نہ رہا سوائے پچھتاوے کہ۔ آخر میں بس اتنا کہوں گی تمام لڑکیاں اور لڑکے اسلام کی مقرر کردہ حد میں رہیں اور کچھ بھی کرنے سے پہلے اس کے بدترین نتائج پر ایک دفعہ ضرور غور کریں ۔
ڈرامہ سیریل:ایسی ہے تنہائی