تبصرہ کتاب تو روبرو
تبصرہ نگار : حافظ محمد ادریس
مصنفہ : منیبہ مختار اعوان
منیبہ مختاراعوان نوجوان قلم کار ہے جس نے تو روبرو ہے کے عنوان سے ایک ناول لکھا ہے۔ میری نظر سے یہ تحریر گزری تو محسوس ہوا کہ نوعمر ناول نگار میں تخلیقی صلاحیتیں موجود ہیں۔ ناول ہویا افسانہ اس کی اثر آفرینی میں زبان و بیان کے ساتھ تخیل اور منظر کشی کا بڑا دخل ہوتا ہے۔ اپنی سوچ اور نظریے کے مطابق ایک مخصوص پیغام قارئین تک منتقل کرنے کا ہر ادیب کا اپنا اپنا انداز ہوتا ہے۔ دنیا کی ہر زبان میں لاتعداد ناول لکھے گئے ہیں۔ کسی نظریاتی مقصد کے تحت لکھے جانے والے ناول خواہ وہ نظریہ دینی ہو یا لادینی، اپنا ایک حلقہ ضرور بنالیتے ہیں۔ افسوس اس بات کا ہے کہ آج کتاب سے لوگوں کا رشتہ اگر مکمل طور پر ٹوٹ نہیں گیا تو کافی حد تک کمزور ضرور ہوگیا ہے۔
زیرنظر کتاب میں کئی کرداروں میں سے مرکزی کردار چار دوست، احمر،منان اور عمر ہیں۔ چاروں بچپن سے ایک دوسرے کے دوست مگر مختلف خاندانوں کے چشم وچراغ ہیں اور مختلف پس منظر رکھتے ہیں۔ ان میں ایک کردار عمر دراصل پیدایشی لحاظ سے عیسائی مذہب کا پیروکار تھا۔ دوستوں کی صحبت نے آہستہ آہستہ اس کی سوچ میں تبدیلی پید اکردی۔ اس نے بہت سوچ سمجھ کر عیسائیت کو چھوڑ کر اسلام قبول کرلیا۔ اس کا پیدایشی نام گیت تھا اور وہ ایک بہت مالدار عیسائی سیٹھ کا اکلوتا بیٹا تھا۔ (بہترہوتا کہ اس سیٹھ کا پس منظر عیسائی کی بجائے ہندو بیان کیاجاتا )۔ بہرحال اصل موضوع اس کا قبول اسلام اور اس کے نتیجے میں ہونے والے ہولناک سانحات ہیں۔ تبدیلیِ مذہب کے بعد نہ صرف اس پر بلکہ اس کے دوستوں اور اس کے مربی ودینی باپ پر بھی آزمایشوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔ یہ تو تاریخ کا اٹل فیصلہ ہے کہ اس طرح کی تبدیلیاں اپنے ساتھ ابتلاء و آزمایش لے کر آتی ہیں۔
گیت کا عمر بن جانا اس کے متعصب والدکو کیسے ہضم ہوسکتا تھا۔ وہ اپنے مذہبی تعصب کا ہمیشہ برملا اظہار کیا کرتا تھا۔ اس کے علاوہ اپنی دولت کے بل بوتے پر وہ معاشرے کا بہت بااثر شہری تھا۔ اس کے بڑے بڑے کاروبار، دولت کے انبار اور خدام و نوکروں کی فوج ظفرموج کی وجہ سے اس کا رعب عوام الناس پر ہی نہیں سرکاری کارندوں پر بھی قائم تھا۔ اس کشمکش میں عمر اسلام پر ثابت قدم رہا تو اس کے والد نے اس پر ظلم ڈھانے کے علاوہ اسے سبق سکھانے کے لیے رات کے وقت گھر سے نکال دیا۔ وہ اپنے دوست منان کے گھر گیا مگر رات کے پچھلے پہر دروازہ نہ کھل سکا،پھروہ احمر کے گھر گیا اور اس نے دروازہ کھولا تو اسے ساری کہانی سنائی۔
چاروں دوست خاص کردار کے حامل تھے۔ منان شہادت کا متمنی تھا۔ اس کا ارادہ تھا کہ پاک فوج میں بھرتی ہو کر ملک کے دفاع میں جان قربان کردے گا۔ احمر کے بھی ایسے ہی خیالات تھے۔ آخر ایک روز گیت کے والد نے احمر کوگولی مار کر شہیدکردیا کیونکہ اس کے خیال میں اسی نے اس کے بیٹے کو گمراہ کیاتھا۔ ایف آئی آر کٹی، عدالتوں میں کیس چلا مگر قاتل سیٹھ بری ہوگیا۔ اس فیصلے سے احمر کے خاندان پر دوبارہ قیامت ٹوٹ پڑی۔ اس عرصے میں عمر کو مسجد کے خطیب صاحب نے اپنا بیٹا بنالیا۔ ان کی اہلیہ فوت ہوچکی تھی اور ان کا اپنا کوئی بچہ نہیں تھا۔ انھوں نے عمر کی تعلیم وتربیت کے ذریعے اسے دینی رہنما بننے کے قابل بنا دیا تھا۔ آخر ظالم سیٹھ نے مولوی صاحب کو بھی گولی مار کر شہیدکردیا۔ اب جو کیس چلا تو اس میں مولوی صاحب کا نزعی بیان بھی ریکارڈ پر تھا جس میں انھوںنے سیٹھ کے گولی چلانے اوراس کے نتیجے میں اپنے شدید زخمی ہونے کا ذکر کیاتھا۔ اس مرتبہ عدالت نے سیٹھ کو پھانسی کی سزا دے دی اور وہ پھانسی لگ گیا۔
پہلے قتل کے وقت عمر عینی شاہد تھا مگر وہ اپنے والد کے خلاف گواہی نہ دے سکا۔ دوسری مرتبہ بھی اس نے واردات کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ اس مرتبہ اس نے ڈٹ کر سچی گواہی دی۔ اس کی ماں اس کو لعن طعن کرتی رہی مگر وہ حق پر قائم رہا۔ تیسرا دوست منان فوج میں جانا چاہتا تھا کیونکہ اس کی تمنا تھی کہ وہ شہید ہوجائے۔ اس کے والدین نے اسے فوج میں جانے کی بجائے میڈیکل کی تعلیم پر لگا دیا۔ وہ ڈاکٹر بن گیااوراس نے کرونا کی وبا میں بے خوف دن رات مریضوں کا علاج کیا۔ اس کے نتیجے میں وہ خود بھی بیماری کی بھینٹ چڑھ گیا۔ گویا وہ سرحدوں کے دفاع میں جان دینے کی بجائے انسانیت کے دفاع میں شہادت پاگیا۔
احمر کا خاندان عمر سے بہت خفا تھا، کیونکہ اس نے احمر کے کیس میں عینی شاہد ہونے کے باوجود گواہی نہیں دی تھی۔ اب جب کہ اس کی گواہی کے نتیجے میں اس کا قاتل باپ اپنے انجام کو پہنچ گیا تو اس نے احمر کی والدہ سے معافی مانگی جو بالآخر اسے معاف کرنے پر راضی ہوگئیں۔ اب یہ ان کا بیٹا بن گیا۔ عمر دونوں دوستوں کو یاد کرتا تھا اور روتا تھا کہ وہ شہید ہوگئے اور یہ زندہ بچ گیا۔
ناول میں خاصی دلچسپی اور سسپنس (Suspence) ہے۔ اُمید ہے کہ مصنفہ آگے چل کر اس میدان میں اپنا نام پیدا کریں گی۔ راقم الحروف نے بچپن میں کئی ناول دل چسپی سے پڑھے تھے، مگر ناول نگاری کے میدان میں قدم نہ رکھا۔ البتہ افسانے دورِ طالب علمی ہی سے لکھنے شروع کیے اور افسانوں کے چار مجموعے دختر کشمیر، سرسوں کے پھول، ناقہ بے زمام اور سربکف سربلند منظر عام پر آئے۔ افسانے اور ناول ایک ہی نوعِ ادب کے دو مختلف روپ ہیں۔
ہماری تجویز ہے کہ منیبہ مختاراعوان معروف ناول نگاروں کو بھی اپنے مطالعہ کا حصہ بنائے ۔، مثلاً توبۃ النصوح از ڈپٹی نذیراحمد [۱۸۳۶-۱۹۱۰ء] کے علاوہ فردوس بریں از مولوی عبدالحلیم شرر [۱۸۶۰-۱۹۲۶ء]، خاک وخون از شریف حسین نسیم حجازی[۱۹۱۴-۱۹۹۶ء]، اداس نسلیں از عبداللہ حسین [۱۹۳۱-۲۰۱۵ء] ، آخری آدمی از انتظارحسین[۱۹۲۵-۲۰۱۵ء]،خدا کی بستی از شوکت صدیقی[۱۹۲۳-۲۰۰۶ء]، آگ کا دریا از قرۃ العین حیدر [۱۹۲۷-۲۰۰۷ء]، ٹیڑھی لکیر از عصمت چغتائی [۱۹۱۵-۱۹۹۱ء] ۔ یہ مختلف سوچ رکھنے والے چند مستند ناول نگاروں میں سے چند نام ہیںجو نوک قلم پر آگئے، ان کے علاوہ دورِ جدید میں بھی کئی ناول نگاروں نے اچھی تحریریں لکھی ہیں۔
حافظ محمدادریس
نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان
مدرس،مصنف،کالم نگار
ادارہ معارف اسلامی ،منصورہ،لاہور