365

جیلوں میں رمضان کیسے گزرتا ہے؟

تحریر شئیر کریں

جیلوں میں رمضان کیسا گزرتاہے
آنکھوں دیکھا مشاہدہ
سال کے تمام مہینوں میں ماہِ رمضان کو جوفضیلت و برتری اور تفوق وامتیاز حاصل ہے وہ کسی دوسرے مہینے کو نہیں۔ یہ مہینہ نزولِ سعادت کی یادگارہے۔صبر وتحمل اور ایثارِ نفس کا معلم ہے ۔ اس میں جنت کے تمام دروازے کھول دیے جاتے ہیں ۔جہنم کے تمام دروازے بند کر دیے جاتے اورشیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے ۔ مغفرت ورحمت کی برسات ہوتی ہے، عصیاں کاروں کو راہِ نجات ملتی ہے۔فسق و فجور میں کمی اور اعمالِ صالحہ میں کثرت ہوتی ہے ۔تلاوتِ قرآن، ذکر واذکاراور شب وروز مجالس تبلیغ ہوتی ہیں ۔اہل ثروت و دولت حضرات رضاے الٰہی کے لیے فرض زکوٰۃ کی ادائیگی اور انفاق فی سبیل اللہ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ لوگ قیام اللیل یعنی نمازِ تراویح میں شرکت کرتے ہیں۔ بارگاہِ الٰہی میں سربسجود ہو کر دعا ومناجات کرتے ہیں، توبہ واستغفار کرتے ہیں اور اپنی بد کرداریوں اور سیاہ کاریوں کو معاف کرا کے جنت ِنعیم کے مستحق ٹھہرتے ہیں ۔
یہ ماہِ ایسا مبارک ہے کہ اس میں ہر فرض کا ثواب ستر فرضوں کے برابر ہے اور ہر نفل عبادت کاثواب فرض کے برابر ہے یہ صبر وغم خواری کرنے کا مہینہ ہے۔ روزہ افطار کرانا گناہوں کی مغفرت اور دوزخ سے آزادی کا ذریعہ ہے۔ اس ماہ کا ہر عشرہ خاص اہمیت کا حامل ہے۔ چناں چہ پہلا عشرہ سراسر رحمت ہے۔ دوسرا عشرہ دِن ورات مغفرت کا عشرہ ہے اور آخری عشرہ دوزخ سے آزادی کے لیے ہے۔ اس لیے اس ماہ کی دل وجان سے قدر کریں اور مذکورہ تمام فضائل حاصل کرنے کی فکر کریں
احادیث کی روشنی میں بھی رمضان کے روزے کے بےانتہافوائد ہیں۔
٭ جنت کا ایک دروازہ ہے جسے ریان کہتے ہیں ۔قیامت کے دن اس دروازے سے جنت میں صرف روزہ دار ہی داخل ہوں گے ۔ان کے سوا اور کوئی اس میں سے داخل نہیں ہوگا۔ (بخاری ؛۱۸۹۶)
٭جس نے رمضان کے روزے ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے رکھے، اس کے گذشتہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں ۔(بخاری ؛۱۹۰۱)
٭جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔ (بخاری؛۱۸۹۸)
ایک روایت میں ہے کہ جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو آسمان کے تمام دروازے کھول دیے جاتے ہیں،جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین کو زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے ۔ (بخاری ؛۱۸۹۹)
٭ روزہ دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی زیادہ پاکیزہ ہے۔ روزہ دار کو دو خوشیاں حاصل ہوں گی:(ایک تو جب) وہ افطار کرتا ہے تو خوش ہوتا ہے اور (دوسرے )جب وہ اپنے ربّ سے ملاقات کرے گاتو اپنے روزے کا ثواب حاصل کرکے خوش ہوگا۔ (بخاری ؛۱۹۰۴)
٭ رمضان میں عمرہ کا ثواب حج کے برابر ہو جاتا ہے ۔(مسلم :۱۲۵۶)
٭ روزہ دار کی دعا قبول کی جاتی ہے ۔(ترمذی ؛۳۵۹۸)
٭ افطاری کے وقت اللہ تعالیٰ لوگوں کو جہنم سے آزاد کرتے ہیں ۔(ابن ماجۃ؛۱۶۴۳)


اردو نیوز کے مطابق بھارت ریاست اکولہ میں مسلمانوں کی کوششوں سےمسلمان قیدیوں کے لئے واٹر فلٹر کااہتمام کیاگیاہے۔ہ : رمضان المبارک کے مقدس ماہ میں نیکی اور ثواب کی نیت سے اچھے کام کرنے کا رحجان بڑھ جاتا ہے۔اس مقصد سےاکولہ کی ضلع جیل میں قید لوگوں کے لئے بھی اقداما ت اٹھائے جارہے ہیں۔ضلع جیل میں مسلمانوں کی جانب سے واٹر پیوری فائر کا انتظام کیا گیاہے ، تاکہ رمضان کے مہینے میں قید روزہ دار اور دیگر قیدی صاف پانی پی سکیں ۔مسلمانوں کے اس اقدام کی جیل انتظامیہ نے ستائش کی ہے۔رفیق صدیقی اور فیاض گروپ کی جانب سے صاف اور شفاف پانی کا انتظام کیا گیا ہے، جس کا فائدہ نہ صرف روزہ دار بلکہ دیگر قیدی بھی اٹھارہے ہیں۔جیل انتظامیہ کے مطابق رمضان میں واٹر پیوری فائر سے نہ صرف روزہ داروں کو مدد مل رہی ہے،بلکہ اس سے جیل انتظامیہ کو روزانہ کے انتظامات کےلحاظ سے بھی آسانی پیدا ہوگئی ہے۔دھوپ اور گرمی کے موسم میں ٹھنڈا پانی یقینی طور راحت کا کام ہے۔مسلمانوں کی جانب سے وقتافوقتا اکولہ جیل میں

مختلف طریقوں سے امداد مہیا کی جاتی ہے۔ گزشتہ دنوں جیل میں قید ساڑے تین سو قیدیوں کیلئے کمبل اور کھانے کے برتنوں کا انتظام کیا گیا تھا۔مسلمان ممالک میں بھی رمضان شروع ہوتے ہی قیدیوں کے ساتھ خصوصی رعایت کی جاتی ہے۔ڈیلی پاکستان ی ایک پورٹ میں بتایا گیا کہ جدہ میں سعودی حکومت ماہِ رمضان میں قیدیوں کی سزائیں اور مختلف قوانین کی خلاف ورزیاں کرنے والوں کے جرمانے معاف کرتی ہے۔ سعودی گزٹ کی رپورٹ کے مطابق رواں سال حکومت نے قیدیوں کی آدھی سزائیں اور تارکین وطن کے 5لاکھ ریال(تقریبا1کروڑ 54لاکھ روپے)کے جرمانے معاف کرنے کا اعلان کیا ہے۔گورنریٹس کے متعلقہ حکام، وزارت انصاف، پبلک پراسیکیوٹر آفس اور دیگر تمام متعلقہ ادارے ان لوگوں کی فہرستیں تیار کر رہے ہیں جن کی سزائیں اور جرمانے معاف کیے جائیں گے۔ذرائع نے بتایا ہے کہ ’’کئی طرح کے جرائم میں قید کی سزا پانے والے قیدیوں کی آدھی سزا معاف کی جائے گی۔ تاہم سنگین

نوعیت کے جرائم میں قید افرادپر اس معافی کا اطلاق نہیں ہوگا۔اس کے علاوہ جو تارکین وطن اپنی سزا پوری کر چکے ہیں اور جرمانے کی عدم ادائیگی کی وجہ سے ان کی رہائی نہیں ہو پا رہی، ان کو رہا کر دیا جائے گا۔ تاہم جن تارکین وطن کی جرمانے کی رقم 5لاکھ ریال سے زیادہ ہے اور وہ جرمانہ ادا نہ کرنے کا فیصلہ کر چکے ہیں ان کا معاملہ عدالت طے کرے گی اور ان کے جرمانے کو قید میں تبدیل کر دیا جائے گا اور پھر قید پوری ہونے کے بعد ان کو وطن بدر کر دیا جائے گا۔‘‘


کراچی ویمن جیل میں بھی رمضان المبارک کا آغاز جوش و خروش اور اہتمام کے ساتھ کیاجاتاہے۔ویمن ایڈ ٹرسٹ کی جانب سے رمضان کے شروع ہی سے روزے کے فیوض و برکات کی بابت قیدیوں کوبتایاجاتاہے۔انہیں روزہ رکھنے کی تلقین کی جاتی ہے۔رمضان میں خصوصی جذبے کے ساتھ قیدیو
ن کے لئے خصوصی تحائف عید گفٹس کا اہتمام کیاجاتاہے۔اس کے علاوہ قیدیوں کے تحائف کے ساتھ ساتھ ویمن ایڈ ٹرسٹ جیلر مرد و خواتین وہاں موجود تمام پولیس اہلکار اور تعیناتی عملے کے لئے بھی عید گفٹس کا اہتمام کرتاہے،جن میں بچوں اورخواتین کے لئے کپڑے،راشن جیولری وغیرہ دی جاتی ہے۔تاکہ انکی بھی حوصلہ افزائی کی جاسکے۔رمضا

جیلوں میں رمضان کیسے گزرتا ہے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں