
سیاست کی دنیا میں کچھ الفاظ ایسے ہوتے ہیں جو سننے میں بہت مہذب لگتے ہیں، لیکن ان کے پیچھے چھپی حقیقت انتہائی بھیانک ہوتی ہے۔ انہی میں سے ایک اصطلاح ہے “رجیم چینج”۔ جب کوئی بڑی طاقت کسی دوسرے ملک کی منتخب حکومت کو اپنے مفادات کے لیے ہٹاتی ہے، تو اسے اس خوبصورت نام سے پکارا جاتا ہے۔
لیکن آج کل حالات کچھ ایسے بدل گئے ہیں کہ ایران کی رجیم چینج کرنے والوں کی اپنی رجیم اب خطرے میں نظر آ رہی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ سب ایک دوسرے کو گرانے میں اتنے مصروف ہیں کہ یہ بھول گئے کہ جس زمین پر وہ کھڑے ہیں، وہ خود بھی ہل رہی ہے۔
رجیم چینج کیا ہے اور یہ تماشہ کب شروع ہوا؟
سادہ لفظوں میں “رجیم چینج” کا مطلب ہے: “آپ کے گھر کے فیصلے آپ کا پڑوسی کرے، اور آپ کو یقین دلائے کہ یہ آپ کی بہتری کے لیے ہے۔”
تاریخی طور پر یہ اصطلاح سرد جنگ (Cold War) کے دوران مقبول ہوئی۔ خاص طور پر 90 کی دہائی کے بعد جب “جمہوریت لانے” کے نام پر مشرقِ وسطیٰ کو آگ و خون میں نہلا دیا گیا۔ اس کھیل کے پیچھے تین بڑے مقاصد ہوتے ہیں:
تین بڑے مقاصد
وسائل پر قبضہ: اگر آپ کا تیل اور گیس ان کی مرضی کے مطابق نہیں بک رہا، تو آپ کی حکومت “عوام دشمن” ہے۔
* جغرافیائی ضرورت: کبھی کبھی کسی ملک کی زمین کو ایک “اڈے” کے طور پر استعمال کرنے کے لیے وہاں کی قیادت بدلنا ضروری ہو جاتا ہے۔
* انا کی تسکین: “وہ ہماری بات کیسے ٹال سکتا ہے؟” یہ جملہ اکثر بڑے ملکوں کے ڈرائنگ رومز میں رجیم چینج کا آغاز بنتا ہے۔
ایران اور پاکستان: دو اسلامی ملک، دو مختلف داستانیں
یہاں آ کر دل تھوڑا بوجھل ہو جاتا ہے۔ ایران اور پاکستان، دونوں پڑوسی ہیں، دونوں اسلامی ریاستیں ہیں، لیکن دونوں کا “مزاحمت” کا معیار بالکل الگ ہے۔
ایران: ڈٹا ہوا اور ثابت قدم
ایران پر دہائیوں سے رجیم چینج کا دباؤ ہے۔ معاشی پابندیاں ہوں یا حملوں کی دھمکیاں، وہ اپنے فیصلے خود کرنے کی ضد پر اڑا ہوا ہے۔ وہ ایٹمی طاقت بننے کے راستے پر ہے، لیکن اس کی اصل طاقت اس کی وہ “ضد” ہے جو عالمی طاقتوں کے سامنے جھکنے سے انکار کرتی ہے۔ ایران نے اپنی کشتی کے چھیدوں کو اس مہارت سے بند کیا ہے کہ وہ اب بھی طوفانوں میں تیر رہی ہے۔
پاکستان: ایٹمی طاقت مگر نازک حالات
دوسری طرف ہمارا پیارا ملک پاکستان ہے۔ ہم ایک ایٹمی طاقت ہیں، ہمارے پاس دنیا کی بہترین فوج ہے، لیکن جب بات “رجیم چینج” کی آتی ہے تو ہم دنیا کے لیے ایک معمہ بن جاتے ہیں۔ یہاں حکومتیں ووٹوں سے زیادہ “چٹھیوں” اور “اشاروں” سے بدلتی نظر آتی ہیں۔ کتنا بڑا تضاد ہے نا؟ ایک ملک جو ایٹمی طاقت نہیں ہے وہ ڈٹا ہوا ہے، اور دوسرا جو ایٹمی طاقت ہو کر بھی اندرونی طور پر اتنا کمزور ہے کہ ایک اشارے پر بساط الٹ جاتی ہے۔
نتیجہ: کس کی کشتی میں زیادہ چھید ہیں؟
آج عالمی منظر نامہ بدل رہا ہے۔ جو لوگ دوسروں کے گھروں میں “رجیم چینج” کے خواب دیکھتے تھے، آج ان کے اپنے شہر احتجاج اور سیاسی بحران کی لپیٹ میں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ چھید اب سب کی کشتیوں میں ہو چکے ہیں۔
پاکستان کے لیے یہ وقت سوچنے کا ہے: کیا ایٹم بم ہونا ہی کافی ہے؟ یا اصل آزادی وہ ہوتی ہے جہاں قوم کے فیصلے کسی بیرونی فون کال یا اندرونی مداخلت کے محتاج نہ ہوں؟
آپ کا کیا خیال ہے؟
کیا ہم واقعی ایک آزاد قوم کے طور پر اپنے فیصلے خود کر رہے ہیں، یا ہم اب بھی اسی “رجیم چینج” کے کھیل کا ایک مہرہ ہیں؟ اپنی رائے نیچے کمنٹس میں ضرور دیں!
مزید پڑھیے
ایران اسرائیل کشیدگی اور ایٹمی حملے کا خدشہ: پاکستان کے کون سے علاقے خطرے میں ہیں؟