رمضان آیا ہے
خدیجہ امجد
دادا ابو ہر روز پارک جاتے تھے اور بچوں کو کہانی سنایا کرتے تھے۔آج انہوں نے بچوں کو ایک خاص مہمان’رمضان’ کی کہانی سنانے کا وعدہ کیا تھا۔سب بچے دادا ابو کے ارد گرد جمع ہو گئے تھے۔
“تو بچوں آپ سب کو پتہ کہ آج آپ سب ہیاں کیوں آئے ہیں؟”
“جی ہاں آپ نے ہمیں آج ایک کہانی سنانی ہے” علی نے جواب دیا۔
ماشااللہ علی بیٹا آپ نے صحیح جواب دیا ہے-
اور مجھے امید ہے آپ سب روزہ رکھے گیں؟
سب بچوں نے پرجوش آواز میں ہاں کہا۔
پھر دادا ابو نے بات شروع کی”بچوں رمضان ہماری زندگی میں بہت اہمیت رکھتا ہے۔یہ اسلام کے پانچ ستونوں میں سے ایک ہے۔اللہ تعالی نے قرآن مجید میں فرمایا۔”اے اللہ ایمان والوں!تم پر روزہ فرض کردیا گیا جس طرح ان لوگوں پر روزہ فرض کر دیا تھا جو تم سے پہلے گزرے ہیں”
اس کا مطلب ہے کہ روزہ ہر مسلمان پر فرض ہے اور دوسرے لوگوں پر بھی فرض تھا جو ہمارے پہلے گزرے۔
کیا آپ سب کو پتا ہے روزہ کیسے رکھتے ہیں؟
ہمیں روزہ رکھنے سے پہلے سحری کرنی اور پھر مغرب کے بعد افطاری کرنی چاہیے۔ایک بچے عبداللہ نے پوچھا”دادا ابو سحری کیا ہوتی ہے؟”
دادا ابو نے جواب دیا”روزے کی نیت فجر کی نماز سے پہلے کھانی کو کہتے ہیں۔جیسے ہی فجر کی آذان ہو جائے کھانا کھانا روک دینا چاہیے اور روزہ کی دعا پڑھنی چاہیے۔اس کے ساتھ پورے دن میں ہمیں اچھی عادتیں اپنانی چاہیے جیسے کے مسکرا کر ملنا،دوسروں کو معاف کرنا،ہر کسی کو سلام کرتا،اپنی زبان اور غصے پر قابو رکھے اور نیکی کے کاموں میں تعاون کرنا۔اس کے ساتھ ساتھ کارٹون دیکھنے اور وقت کے ضیاع سے پرہیز کرنا۔
اب آپ مجھ سے عہد کریں کے آپ زیادہ سے زیادہ ان کاموں کو اپنائے اور دوسروں کو اس بات کی تلقین کریں۔