رین واٹر ہارویسٹنگ اور بقائے نسلِ نو 122

رین واٹر ہارویسٹنگ اور بقائے نسلِ نو

تحریر شئیر کریں

کائنات کا ذرہ ذرہ اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ توازن ہی زندگی کا اصل حسن ہے۔ بارش کی ہر بوند قدرت کا وہ انعام ہے جو بنجر زمینوں کو زندگی کی نوید سناتی ہے، لیکن اگر اسی نعمت کو ترتیب اور سلیقے کے بغیر سمیٹا جائے تو یہ رحمت زحمت بنتے دیر نہیں لگاتی۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی انسان نے کسی نظام کو علم اور بصیرت کے بغیر اپنانے کی کوشش کی، اس نے نفع سے زیادہ نقصان اٹھایا۔
اسلام آباد میں رین واٹر ہارویسٹنگ کو لازمی قرار دینا بظاہر ایک خوش آئند قدم ہے، لیکن اس کے پیچھے چھپی تکنیکی حقیقتوں سے چشم پوشی ایک بڑے جغرافیائی سانحے کو جنم دے سکتی ہے۔ ہم اکثر جذبات میں آ کر “پانی بچاؤ” کا نعرہ تو لگاتے ہیں، لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ زمین کی کوکھ میں ہر طرح کا پانی نہیں اتارا جا سکتا۔ اگر ہر گلی محلے میں بغیر کسی فلٹریشن پلانٹ اور سائنسی معیار کے بورنگ کر دی جائے، تو ہم درحقیقت اپنی آنے والی نسلوں کے لیے زہر کا انتظام کر رہے ہوں گے۔

مغرب کی اندھی تقلید میں اکثر ہم وہ بنیادی ڈھانچہ بھول جاتے ہیں جو کسی بھی نظام کی روح ہوتا ہے۔ اگر سطحِ زمین کا گندا پانی، سیوریج کی آمیزش اور صنعتی کیمیکلز براہِ راست ہمارے زیرِ زمین ذخائر (Aquifers) میں شامل ہو گئے، تو یہ وہ آلودگی ہوگی جسے صاف کرنے میں صدیاں بیت جائیں گی۔ یہ جدیدیت کا وہ بھیانک چہرہ ہے جہاں ہم عجلت میں کیے گئے فیصلوں سے اپنی جڑوں کو خود کاٹ بیٹھتے ہیں۔

اس نازک صورتحال کا تقاضا ہے کہ ہم ہوش کے ناخن لیں۔ رین واٹر ہارویسٹنگ محض زمین میں گڑھا کھودنے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک مکمل سائنسی عمل ہے۔ اس کا واحد اور پائیدار حل یہ ہے کہ:
* **ماہرین کی شمولیت:** حکومت اس کام کو صرف لائسنس یافتہ اور مصدقہ کمپنیوں تک محدود کرے۔
* **اہلِ فن کی تربیت:** وہ کمپنیاں جو پہلے سے بورنگ کے کام سے وابستہ ہیں، انہیں جدید ٹیکنالوجی اور فلٹریشن کے قواعد پر مبنی خصوصی تربیت فراہم کی جائے۔ یہی وہ طبقہ ہے جو اس نظام کو نچلی سطح تک درست طریقے سے پہنچا سکتا ہے

میں سائنسی بنیادوں پر فلٹریشن سسٹم کو لازمی قرار دیا جائے تاکہ زمین میں جانے والی ایک ایک بوند پاکیزہ ہو۔
اگر ہم نے آج اس نظام کو ضابطے کے تحت نہ لایا، تو پانی بچانے کی یہ مہم پانی کی بربادی کا سبب بن جائے گی۔ یہ وقت ہے کہ ہم خوابوں کی دنیا سے نکل کر حقیقت پسندی کا مظاہرہ کریں۔ زمین امانت ہے اور اس کے وسائل ہماری ذمہ داری۔ ہمیں یہ یاد رکھنا ہوگا کہ قدرت کے قوانین سے انحراف کی قیمت ہمیشہ بہت مہنگی ہوتی ہے۔ اللہ ہمیں بصیرت عطا فرمائے تاکہ ہم تعمیر کے نام پر تخریب سے بچ سکیں اور اپنے حصے کا کام عدل اور دیانت کے ساتھ مکمل کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں